Daily Mashriq


مشرقیات

مشرقیات

علامہ مقریؒ کا بیان ہے کہ ابن ابی عامرؒ رات کو بہت کم سویا کرتے تھے ۔ زیادہ تر جاگتے رہتے ۔ قرطبہ کا گشت کرتے اور لوگوں کے حالات سے واقفیت حاصل کرتے ۔ ایک بار ان کے ایک مصاحب نے (جس کا نام شعلہ تھا) ان سے کہا کہ ، اگر آپ کی یہی عادت رہے گی تو صحت بگڑ جائے گی ۔رات کو سو لیا کریں۔ کام کرنے کے لیے دن کافی ہے ۔ ابن ابی عامرؒ مسکرائے اور جواب دیا: اے شعلہ، جب حکمران سوتا ہے تو چوراچکے، لٹیرے اور جرائم پیشہ لوگ جاگ اٹھتے ہیں ۔لہٰذا حکمران پر لازم ہے کہ جب رعایا سوجائے ، تو وہ ان کی نگہبانی کے لیے خود اپنا سونا حرام کردے۔ابن ابی عامر جہاد کی خاک کو نار جہنم سے بچائو کی صورت اور ذریعہ سمجھتے تھے۔ وہ ہر مہم پر روانہ ہونے سے پہلے یہ دعا مانگا کرتے تھے کہ اے اللہ مجھے میدان جنگ میں موت سے ہم آغوش فرما۔اپنا کفن جوان کی بیٹیوں نے سیا تھا اور اپنی آبائی جاگیر کی آمدنی سے خریدا گیا تھا، ہمیشہ اپنے ساتھ رکھتے تھے ۔ وہ قرآن مجید جو انہوں نے خود اپنے ہاتھ سے لکھا تھا ، ہمیشہ ساتھ رہتا تھا۔ جو گرد میدان جنگ میں ان کے منہ اور جسم پر پڑتی تھی ، ایک ملازم کو حکم تھا کہ وہ رومال سے جھاڑ کر محفوظ کرلیا کرے ۔ ان کا خیال تھا کہ جس پر یہ گرد چھڑکی جائے گی ، اس پر جہنم کی آگ حرام ہو جائے گی۔10اگست1002ء مطابق28رمضان المبارک393ھ کو وہ اس جہان فانی سے رخصت ہوئے اور اسی کفن میں لپیٹے گئے، جو وہ اپنے ساتھ رکھتے تھے اور وہ گرد جو جہاد کے مواقع پر ان کے چہرے اور لباس سے جھاڑی جاتی تھی، ایک تھیلی میں جمع تھی، وہ ان پر چھڑک دی گئی۔حضرت نوفل بن مساحق ؒ کہتے ہیں کہ نجران کی مسجد میں ، میں نے ایک نوجوان کو دیکھا، جو بڑا لمبا چوڑا ، جوانی کے نشے میں چور، گھٹے ہوئے بدن والا، بانکا تر چھا اور خوبصورت تھا۔ میں اس کے جمال وکمال کو دیکھنے لگا۔اس نے پوچھا کیا دیکھ رہے ہو؟۔میں نے کہا:’’مجھے آپ کے حسن وجمال پر تعجب ہورہاہے‘‘۔اس نے جواب دیا:’’تجھے ہی کیا، خدا کو بھی مجھ پر تعجب ہورہا ہے‘‘۔(نعوذباللہ) حضرت نوفلؒ کہتے ہیں:یہ کفر یہ کلمہ کہتے ہی وہ سکڑ نے لگا، اس کا رنگ وروپ اڑگیا۔۔۔ یہاں تک کہ اس کا قد ایک بالشت رہ گیا۔۔لوگ حیران رہ گئے ،آخر اس کا ایک رشتہ دار اسے اپنی آستین میں ڈال کر لے گیا۔(از تفسیر ابن کثیر القصص،85)حضرت سعد بن ابی وقاصؓ سے روایت ہے کہ ایک دیہاتی نے رسول کریمؐ کی خدمت میںحاضر ہو کر عرض کیا:مجھے کوئی ایسا کلام سکھا دیجئے، جس کو میں پڑھتا رہوں۔آپؐ نے ارشاد فرمایا:یہ کہا کرو:ترجمہ:’’خدا کے سوا کوئی معبود نہیں ۔وہ اکیلا ہے ۔اس کا کوئی شریک نہیں ۔خدا تعالیٰ بہت ہی بڑا ہے ۔اور خدا تعالیٰ ہی کے لیے تعریفیں ہیں ۔خدا تعالیٰ ہر عیب سے پاک ہے۔جو تمام جہانوں کا پالنے والا ہے ۔گناہ سے بچنے کی طاقت اور نیکی کرنے کی قوت خدا تعالیٰ ہی کی مدد سے ہے ۔جو غالب ہے۔ حکمت والا ہے‘‘۔(مسلم،الذکروالدعا،2/345)

متعلقہ خبریں