Daily Mashriq


پاکستان میں آبادی کا بے ہنگم اضافہ

پاکستان میں آبادی کا بے ہنگم اضافہ

اللہ تعالیٰ نے اس خوبصورت دنیا کو انسان اور دیگر مخلوقات کے لئے پیدا فرمایا۔انسان اس کائنات کا خوبصورت ترین اور شاہکار مخلوق ہے ۔ اللہ تعالیٰ نے اپنے کلام پاک قرآن مجید میں فرمایا ہے’’ہم نے انسان کو خوبصورت ترین ڈھانچے میں پیدا کیا‘‘ ۔ دوسری جگہ فرمایا’’اور ہم نے انسان کو عزت دی‘‘۔انسان کو یہ سارامرتبہ ومقام اس لئے ملا کہ اس کائنات میں اس کی ذمہ داریاں خلیفہ کی ہیں۔خلیفہ اللہ تعالیٰ کانائب ہوتا ہے ۔ اس نیابت کے فرائض کی انجام دہی کے لئے انسانی عقل وشعور اور اختیارومرضی سے سر فراز فرمایا۔ تاکہ اُسے خیروشر اور نیکی اور بدی میں فرق وامتیاز معلوم ہوسکے۔ اسی لئے انسان کو مکلف بنایا گیا ۔ اور اس دنیا میں اُسے تقدیر پر ایمان رکھنے کے ساتھ زندگی کے معاملات کو احسن طریقے سے چلانے کے لئے تدبیر سے کام لینے کی بھی ہدایت فرمائی۔حضرت آدمؑ اس کائنات میں آنے اور رہائش اختیار کرنے والے پہلے انسان ہونے کے علاوہ پہلا پیغمبر بھی تھے۔آپؑ کے ساتھ آپ کی رفیق حیات حضرت حوا ؑکو بھی اس دنیا میں اُتارا گیا۔ کبھی تصورکی آنکھوں سے دیکھنے کی کوشش کیجئے۔ کہ اُس وقت یہ کائنات ہر قسم کی آلودگی اور گندگی سے پاک کتنی حسین ہوتی ہوگی۔ علامہ اقبالؒ نے اس کا ذکریوں کیا ہے ۔ 

اے ہمالہ! داستان اُس وقت کی کوئی سُنا

مسکن آبائے انسان جب بنا دامن تیرا

کچھ بتا اُس سیدھی سادی زندگی کا ماجرا

داغ جس پرغازہ رنگ تکلیف کا نہ تھا

ہاں دکھا دے اے تصور! پھر وہ صبح وشام تو

دوڑ پیچھے کی طرف اے گردش ایام تو

لیکن پھر بتدریج آدمؑ کی اولاد سے دنیا بھرتی چلی گئی۔اور آج وہ وقت آیا ہے کہ زمین وہی آدمؑ کے زمانے کی ہے پانی وہی ہے جو اُس وقت آسمان سے نازل کیا گیا۔۔۔لیکن انسانی آبادی ساڑھے سات ارب ہوگئی ہے جس کا نتیجہ یہ نکلا ہے کہ صاف پانی جو زندگی کی بنیادی ضرورت ہے اور اس کے بغیر زندگی کا تصور نہیں کیا جاسکتا۔۔۔اب کروڑوں انسانوں کو آسانی کے ساتھ میسر نہیں اور اگر میسر آبھی رہا ہے تو صحت کے بجائے بیماریوں کا سبب بن رہا ہے ۔ یہی حال زمین کا ہے ۔ جوع الارض میں مبتلا ہو کر معلوم تاریخ میں انسانی آبادیوں کے درمیان جو جنگیں ہوتی رہی ہیں وہ آج کے آتشیںاور مہلک اسلحہ کے ساتھ دنیا بھر میں جاری ہیں اور یہ سب ایک دوسرے کے وسائل کو قبضہ میں لینے اور اپنی بڑھتی آبادی کے مسائل حل کرنے کی کوششوں کے طور پر ہورہا ہے ، لیکن اس سے بھی مسائل حل ہونے کے بجائے لاینحل کی طرف بڑھ رہے ہیں۔

امریکہ ،یورپ اور چین وجاپان جیسے ممالک تو ٹیکنالوجی اور سائنسی علوم میں شبانہ روزترقی کے سبب کسی نہ کسی طرح معاملات کو سنبھالا دینے میں کامیاب دکھائی دے رہے ہیں۔ لیکن چین میں ڈیڑھ ارب کی آبادی میں سے کروڑوں لوگ اب بھی خط غربت کے قریب قریب ہی بسنے پر مجبور ہیں ۔ بھارت پاکستان اور بنگلہ دیش انڈونیشیا جیسے ملکوں کا حال روز بروز بدتر ہو رہا ہے کیونکہ ایک طرف آبادی میں بے ہنگم اضافہ ہورہا ہے دوسری طرف پاکستان اور بنگلہ دیش وغیرہ میں ابھی علوم ورسائل اُس درجہ پر نہیں پہنچے ہیں جہاں ان کی آبادیوں کو کم از کم معیار زندگی بآسانی میسر آسکے۔ دوسری طرف غیر عادلانہ تقسیم وسائل کے سبب ان ممالک میں امیر امیر تر اور غریب،غریب ترین بننے کی راہ پر گامزن ہیں۔ بھارت جنوبی ایشیاکے ممالک میں سائنس وٹیکنالوجی کے لحاظ سے آگے ہے لیکن ایک ارب کے قریب آبادی نے اس کے ترقی یافتہ ممالک کی صف میں شمولیت کے خواب کو ادھورا ہی رکھا ہے ۔ اس وقت چین ، امریکہ ،یورپ وجاپان،کوریااور بھارت میں آبادی کو قابو میں رکھنے کے لئے سائنسی خطوط پر منصوبہ بندی کے سبب کافی حد تک بہتری آئی ہے لیکن پاکستان میں مختلف عناصر وعوامل اور فکری خلجان اور بعض دینی تعلیمات کی من مانی تشریح وتاویل کے سبب آبادی کا مسئلہ سلجھنے کا نام نہیں لے رہا ہے بلکہ مزید الجھتا جارہا ہے اور اس حد تک اُلجھا ہے کہ ایک طرف سپریم کورٹ کے چیف جسٹس نے اہل پاکستان کے لئے پانی کا اہم مسئلہ حل کرنے کے لئے ڈیم بنانے کی مہم شروع کی تو اس کے ساتھ ہی پاکستان کی بڑھتی آبادی کو بم قرار دیا ۔

اس بات میں کوئی دوسری رائے نہیں کہ اگر پاکستان کے ناتواں کندھوں پر آبادی کا یہ بوجھ اسی طرح بڑھتا ہی رہا تو وہ دن دور نہیں کہ یہاں اس سرزمین پر زندگی کے بنیادی مسائل یعنی پانی ،خوراک، تعلیم اور ہسپتال وغیرہ کی سہولیات مخصوص لوگوں کو ہی میسرآسکیں گی ۔

اس وقت جبکہ پاکستان کی آبادی بائیس یا ساڑھے بائیس کروڑ کم وبیش ہے، تعلیم اور علاج معالجہ اور امن وامان کے مسائل منہ پھاڑ کر کھڑے ہیں ۔ اور ماہرین کے مطابق اگر آبادی میں اضافے کی رفتار یہی رہی تو2050تک پاکستان کی آبادی چالیس، پنتالیس کروڑ ہوگی ۔ کوئی باشعور انسان ہی اس کا تصور کرسکتا ہے کہ وطن عزیز کے اس رقبہ ، وسائل اور نظام حکمرانی وحکومت کے ساتھ ہمارا کیا حال ہوگا۔ یقیناً بڑے شہروں میں قدم رکھنے کی جگہ مشکل ہی سے ملے گی ۔ زرعی زمینیں فصلیں اُگانے کی بجائے سریوں اور اینٹوں کی فصلیں اُگانے میں تبدیل ہو چکی ہونگی۔

(باقی صفحہ7)

متعلقہ خبریں