Daily Mashriq

مبارک شکر کو ، ہو گڑ کو بدھائی

گنا بڑے کام کی چیز ہے ، اسے چھیل کر چبایا بھی جاسکتا ہے ، اور ضرورت پڑنے پر اس کو ڈنڈے کے طور پر بھی استعمال کیا جاسکتا ہے، اور ہماری انفرادی اور قومی زندگی میں ڈنڈے کی کتنی اہمیت ہے اس سوال کا جواب ہمارے اسکول ٹیچر دیا کرتے تھے ، جب وہ دیکھتے کہ کوئی بگڑا بچہ سدھر نہیں رہا تو جہاں وہ اس کی تواضع انڈوں سے کرتے وہاں وہ اسے ڈنڈے کے زور پر راہ راست پر لانے کی کوشش بھی کرتے ،کسی زمانے میں ہم نے اپنے قومی وجود میں ڈنڈے کو ریڑھ کی ہڈی کے مصداق قرار دیتے ہوئے کہا تھا کہ

دھڑکن کی ہے پکار یہ، ہر دل کی آرزو ہے

یار ب رہے بلند تر اپنے وطن کا جھنڈا

ہے تلخ بہت ہی یارو ، پر ہے یہ اک حقیقت

جھنڈے کے واسطے ہو مضبوط سا اک ڈنڈا

میرے سخت گیر والد بزرگوار جب مجھے سرزنش دینے کے موڈ میں ہوتے تو یہ جملہ ضرور کہتے کہ ’’ اتو لتھیاں چار کتاباں ، پنجواں لتھا ڈنڈا‘‘ آسمان سے چار کتابیں زمین والوں پر نازل ہوئیں جن میں پانچواں ڈنڈا تھا، ان کااشارہ حضرت موسیٰ کلیم اللہ کو رب تعالیٰ کی طرف سے ودیعت ہونے والا وہ ڈنڈا تھا جسے ہم عصائے موسیٰ کے نا م سے یاد کرتے ہیں اور جس نے نہ صرف فرعون جیسے خود ساختہ خدا کے جادو گروں کوناکوں چنے چبوادئیے بلکہ فرعون کو اس کے لشکر جرار کے سمیت دریائے نیل کی تند و تیز لہروں میں غرقاب کر دیا تھا، بات گنا یا شوگر کین سے ہوتی ہوئی ڈنڈے تک جاپہنچی کہ گنا ڈنڈے سے بڑی مشابہت رکھتا ہے ، اور کبھی کبھی ڈنڈے کے طور پر بھی استعمال کیا جاسکتا ہے ، ہمارے دیہاتی کلچر میں گنے کی گھانیاں، گنے کا شیرہ ، اور گنے سے گڑ بنانے کی لوک صنعت دنیا بھر میں اپنی مثال آپ ہے ، لیکن اس سے بڑھ کروہ منظر دیدنی ہوتا ہے جب تیز دانتوں اور مضبوط جبڑوں والے لوگ گنے کو اپنے دانتوں کی گرفت میں لیکر چھیلتے ہیں یا اس کو الف ننگا کرکے اس کے وجود کو چبا کر اس کے رس کو یوں چوس لیتے ہیں جیسے کوئی گراں فروش ، چور بازار ، رشوت خور یا اس قبیل کے دیگر لعنتی کردار اپنے شکار کا خون چوستے ہیں ، فرق صرف یہ ہے کہ خون چوسنے والے گنا چوسنے والوں کی طرح معصوم نہیں ہوتے ، ان کا اپنا انداز واردات ہوتا ہے جب کہ گنا چوسنے والے گنے کے چھلکوں کے اندر کے مواد کو چوس کر فاضل مواد سمجھ کر پھینک دیتے ہیں ، حالانکہ اس مواد کو فاضل اس لئے نہیں کہا جاسکتا کہ اسے چپ بورڈ ، ہارڈ بورڈ اور گتا بنانے کی مصنوعات میں بھی استعمال کیا جاسکتا ہے، اور اگر کسی اور استعمال میں نہ لایا جاسکے تو کسی غریب کے چولہے میںجھونک کر اسے ٹھنڈا ہونے سے بچایا جاسکتا ہے ، اس حوالہ سے یہ سوئی گیس جیسی نعمت غیر مترکبہ کے قحط میں بڑے کام کی چیز ثابت ہوسکتی ہے ، گنے کو چھیل کر یا چبا کر ہی نہیں چوسا جاتا بلکہ اسے خنجر ہلال کا ہے قومی نشان ہمارا جیسے تیز دھار آلے سے چھیل کر اس کے ننگ دھڑنگ چٹے دودھ جیسے وجود کو سرونتا نامی ایک آلے کی مدد سے ٹکڑے ٹکڑے کرکے اس کو سپاریوں کی طرح کاٹا جاتا ہے ، جن کو گنڈیریوں کے نام سے یاد کیا جاتا ہے، گنڈیریاں سرونتے سے بنائی جائیں یا کسی اور تیز دھار آلے سے انہیں ٹھیلوں پر رکھ کر فروخت کیا جاتا ہے جنہیں گھر کا مشر یا سرپرست اس لئے خرید لاتا ہے کہ بچے بالے ان کے اندر کا رس چوسیں گے تو وہ انہیں دیکھ دیکھ کر خوش ہوتا رہے گا، ٹھیلوں پر بکنے والی گنڈیریوں کے علاوہ ٹھیلوں پر لگی ایک سادہ سی مشین کے ذریعے نکالا گیا گنوں کا رس یا ان کاجوس بھی لوگوں کا من بھاتا مشروب ہے ، جسم میں توانائی اور ٹھنڈک کا احساس پیدا کرتا، نزلہ زکام کھانسی اور گلے کی بیماریوں کا توڑ سمجھا جاتا ہے ، یرقان کے مریضوں کو گنے کا رس پیتے رہنے کی ہدایت کی جاتی ہے ،گنے کے رس میں ادرک، کالی مرچ ، اور کالا نمک ڈال کر پینے سے جہاں اس کی افادیت میں اضافہ ہوجاتا ہے وہاں اس کا ذائقہ دو آتشہ ہو جاتا ہے، گنا ہمارے ملک میں وافر مقدار میں کاشت کیا جاتا ہے، گنے کی زرخیز فصل جہاں کسان کو اس کی جاں فشانی کے صلے میں موصول ہوتی ہے وہاں گنے کا جوس پینے والوں کو لاتعداد فائدے دینے کا سبب بنتی ہے ، گنے کے رس کو ہمارا قومی مشروب ہونا چاہئے تھا ، لیکن ماضی میں ایسا کبھی بھی نہ ہوسکا، ہمارا قومی پھول چنبیلی ، ہمارا قومی پھل آم ہے ، ہمارا قومی ترانہ پاک سر زمین ، ہمارا قومی شاعر، قومی شاہراہ ، قومی درخت، قومی جانور سب ہی تو موجود ہیں لیکن قومی مشروب کونسا ہے ، ہمیں اس کے بارے میں کوئی علم نہیں تھا کیوں کہ کاتبان تقدیر ملت نے آج تک ایسا کوئی مشروب دریافت ہی نہیں کیا تھا جسے قومی مشروب کہہ کر پکارا جاسکتا ، مگر حال ہی میں اقبال تیرے عشق نے سب بل دئیے نکال کے مصداق ہماری یہ حسرت بھی پوری ہوگئی ، سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹویٹر پر مالٹے ، گاجر اور گنے کے رس میں سے کسی ایک کو قومی مشروب بنانے کی رائے طلب کی گئی جس کی رپورٹ سامنے آنے کے بعد معلوم ہوا کہ گنے کے رس نے سب سے زیادہ ووٹ حاصل کرکے قومی مشروب ہونے کا میدان مار لیا ، یہ خبر پڑھتے ہی ہماری رگ ظرافت جو پھڑکی تو بے اختیار ہوکر لگے ہم یہ کہنے کہ

مبارک شکر کو ، ہو گڑ کو بدھائی

کہ آپس میں دونوں ہیں یہ بہن بھائی

ہوا جوس گنے کا مشروب قومی

لگے کہنے آئی رے تبدیلی آئی

متعلقہ خبریں