Daily Mashriq


PTAاور سیکنڈ ہینڈ ونڈوAC

PTAاور سیکنڈ ہینڈ ونڈوAC

گہری نیند سوئے تھے کی سناٹے میں موبائل ایس ایم ایس کی آواز کمرے میں گونج اٹھی۔ پہلے عینک تلاش کرنے کے مرحلے سے گزرے ، جب عینک ملی اور ایس ایم ایس دیکھا تو اس میں ہمیں اپنے پرانے ونڈو اے سی اورسپلٹ اے سی بیچنے یا ان کے بدلے نئے اے سی حاصل کرنے کی دعوت دی گئی تھی۔سوچ میں پڑگئے کہ بھلا جنوری کے شدیدسرد موسم میں رات بارہ بجے کسی حضرت کو بھلا کیونکر پرانے اے سی کی ضرورت پڑی ہوگی۔اوروہ ہم سے کیوں توقع کررہے ہیں کہ ہم اس کڑاکے کی سردی میں نیا اے سی خریدنے کا سوچ بھی سکتے ہیں ۔ یہ میسج ہمیں ہفتے میں نو د س بار ضرور آتا ہے ۔خدا جانے موصوف کو کس نے ورغلایا ہے کہ ہمارے پاس ونڈو اے سیوں کا کوئی مدفون خزانہ موجود ہے ۔ ہم نے اسی وقت ایس ایم ایس میں درج رابطہ نمبر پر کال کی ،کسی نے نہیں اٹھا یا ،پھر کال کی ،تیسری کال پر کسی صاحب نے اٹھایا تو ہم نے ان سے کہا کہ جناب ہمارے پاس کوئی اے سی نہیں ہے جو بیچا جائے ۔ موصوف نیند میں تھے اور بات جلدی ختم کرنا چاہتے تھے ۔ مگر چونکہ ہم ان کے ایس ایم ایس سے جاگ چکے تھے اس لیے ان سے صرف اتنا پوچھا کہ آپ مجھے ا س شخص کا پتہ بتا دیں کہ جس نے آپ کو ہمارا نمبر دیا ہے ۔ وہ ہماری سادگی پر ہنس دیے اور کہنے لگے کہ جناب آپ کی فون کمپنی ہم سے اس ’’چغلی ‘‘کے پیسے لیتی ہے اور ہمیں اپنے صارفین کے نمبر دے دیتی ہے ۔ پھر ہمارا کمپیوٹر آپ کو پیغام پہنچا دیتا ہے ۔ لو جی قصور اپنا ہی نکل آیا ۔ ہم نے کال بند کردی۔ پھر سونے لگے تو خواتین کے لباس کے ایک مشہور برینڈ نے ہمیں ایس ایم ایس پر اطلاع دی کہ جناب کل سے ونٹر ورائٹی پر پچاس فیصد سیل لگی ہوئی ہے موقع ضائع نہ ہو۔ اب ہمیں نہیں یا د کہ ہم نے زنانہ لباس کبھی پہنابھی ہوجبکہ ہمارا نام بھی مردانہ قسم کا ہے ۔پھر ہماری فون کمپنی نے زنانہ لباس والوں کو ہمارا نمبر کیوں دیا پھر یہ بھی کہ بھلا یہ میسج کوئی بیوقوف ہی اپنی اہلیہ کو دکھائے گا یعنی برانڈڈ کمپنی کا یہ اوچھا وار خالی ہی گیا۔اسی ادھیڑ بن میں مردانہ کمزوری دور کرنے والے کیپسول امپورٹ کرنے والوں کا میسج آگیادل میں آیا کہ دیے گئے نمبر فون ملاکرمیسج کرنے والے کا شجرہ نسب معلوم کرلوںمگر لاحول پڑھ کے غصے کو قابو کرتے ہوئے موبائل فون ہی آف کردیااورسو گئے اگلے دن جاگنے پر فون آن کیا تومختلف کمپنیوں کی پروموشن کے اٹھارہ میسجز رات کے مختلف پہروں میں ان باکس میں آدھمکے تھے ۔ سوچنے لگے کہ بھائی کمپنی کا نیٹ ورک استعمال کرنے کی ہم پوری قیمت بلکہ ’’حرجانوں اور جرمانوں ‘‘کے ساتھ کٹوتیاں کرواکر ادا کردیتے ہیں ۔نہ ہی ہم نے اپنی فون کمپنی کی کبھی کوئی منت سماجت کی ہے کہ وہ ہمیں اس قسم کے اشتہارات سے نوازے پھر کیوں ہماری کمپنی ہمارے سکون ،چین اور آرام کے درپے ہے ۔ نہ ہی ہم جیسے سادہ لوح لوگوں کوپتہ ہے کہ پروموشن والے ایس ایم ایس کیسے روکے جاسکتے ہیں ۔پھر یہ بھی سوال ہے کہ ہماری فون کمپنی جو ہمارے پری پیڈ اور پوسٹ پیڈ سے بہت زیادہ کما رہی ہے وہ بجائے اس کے کہ ہمیں سہولت دے ہماری بے آرامی و بے سکونی کے عوض مزید کمانے کے چکر میں ہے ۔ خواجہ آصف کے لہجے میں بات کی جائے تو ’’کوئی شرم کوئی حیا‘‘والا جملہ یہاں صادق آتا ہے لیکن ہم اس جملے کو لکھنے سے گریز کرتے ہیں اور پوچھتے ہیں کہ PTA نام کا ادارہ بھی ہے ان نیٹ ورکس کو مانیٹر کرتا ہے کیااس ادارے کے کرتا دھرتاؤں کے فون نمبروں پر ان کے اے سی خریدنے کے درپے میسج نہ آتے ہوں گے ۔ یا پھر ان کے پاس اے سیوں کاوافرذخیرہ ہوگا اور وہ گاہے بہ گاہے ایک آدھ ونڈواے سی بیچ دیتے ہوں گے۔ہمارے ملک میں ایک عجیب قسم کی آزادی ہے جس کا جو دل کرے آزادی کے نام پر کرسکتا ہے ۔ بھاڑ میں جائے کنزیومر ۔حالانکہ کنزیومر ہی کی وجہ سے کمپنیاں چلتی ہیں اور کنزیومر ہی کے ٹیکس پر اداروں کی تنخواہیں جاری ہوتی ہیں۔ مسئلہ یہ بھی ہے کہ ہمارے یہاں ٹرمز اینڈ کنڈیشن کا کوئی معاملہ ہی نہیں ہے ۔آپ کوئی سروس بھی حاصل کرنا چاہیں تو اس کی ٹرم اینڈ کنڈیشن فارم کے حاشیہ میںاتنے چھوٹے فونٹ میں لکھی گئی ہوتی ہیں کہ کوئی ’’خوردبین‘‘ کے بغیر نہیں دیکھ سکتا ۔ اور اسی حاشیہ میں ہمارے لیے لکھا جاچکا ہوتا کہ کمپنی کسی بھی قسم کا گاربیج آپ کو ایس ایم ایس کی صورت میں بھیج سکتی ہے ۔ لو جی کمپنی قانونی طور بری الذمہ ہوگئی اور آپ پرانے ونڈو بیچنے کے چکر میں پھنس گئے ۔ اب اگر کوئی واٹس ایپ،ٹویٹر، میسنجر وغیرہ یا دوسری مفت سروسز استعمال کرتا ہے تو چاہیئے تو یہ کہ وہاں اشتہارات کی بھرمار ہولیکن عجیب بات یہ کہ وہ وہاں آپ اپنی پرائیویسی سیٹ کرسکتے ہیںجبکہ یہ پیڈ کمپنیاں اپنی من مانی کررہی ہیں اور کوئی پوچھنے والا نہیں ۔ مسئلہ کنزیومر کے حقوق کا ہے جو ابھی ہمارے یہاں اسٹبلیش نہیں ہوسکے ہیں ۔ اس کی وجہ بھی یہ ہے کہ ابھی ہم رعایا سے عوام کے سٹیٹس تک نہیں پہنچے۔اب بھی ادارے حکمران ہیں جب خادم بن جائیں تو رعایا عوام بنیں گے اور جب عوام عوام بن جائیں گے تو کنزیومرکے حقوق بھی کاغذوں سے نکل عملی صورت اختیار کرسکیں گے ۔ فی الحال سیل سیل سیل اور ڈسکاؤنٹ کے میسج ، پیزوں اور برگروں کی رعایتی قیمتوں اور مردانہ طاقت کے کیپسولوں والے بیہودہ میسج ہمارا نصیب ہی رہیں گے ۔ ہمیں ہر فون کال کے بعد یہ میسج آئے گا کہ’’ جو رنگ ٹون آپ نے ابھی سنی اسے اپنی رنگ بنانے کے لیے پرسکرائب کریں دو روپے روزانہ پر ‘‘ ۔

متعلقہ خبریں