Daily Mashriq


عدالتی فیصلے کا تحمل سے انتظار کیا جائے

عدالتی فیصلے کا تحمل سے انتظار کیا جائے

پاکستان تحریک انصاف کے چیئر مین عمران خان کی طرف سے سپریم کورٹ سے پانامہ کیس کا فیصلہ جلد سنانے کی اپیل پر قائد حزب اختلاف خورشید شاہ نے ردعمل میں کہا ہے کہ عمران خان سمیت کسی فرد کو اختیار نہیں کہ وہ سپریم کورٹ کو ڈکٹیٹ کرے۔ اس موقع پر خورشید شاہ نے ایک ذو معنی بات یہ بھی کی ہے کہ اگر عدالت عظمیٰ ایک شخص کو نا اہل قرار دے اور دوسرے کو نہ دے تو یہ بھی درست نہیں ہے۔ سپریم کورٹ ملک کا اعلیٰ ترین ادارہ ہے اس کے بارے میں کسی بھی قسم کے ریمارکس سے پرہیز کی ضرورت ہے۔ یہاں تک کہ عدالت عظمیٰ کے کسی فیصلے کی تعریف تک نہ کی جائے کہ یہ بھی بادی النظر میں توہین عدالت ہی شمار ہوگا۔ عدالت کا فیصلہ عدالت کا فیصلہ ہوتا ہے جس کی نہ تعریف مناسب ہے اور تنقید کا تو سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔ لیکن دیکھا جائے تو ہمارے ہاں عدالتوں کے حد درجہ برداشت تحمل اور صرف نظر کی پالیسی اختیار کرنے کی بناء پر نہ صرف عدالتی معاملات پر تبصرہ و تنقید ہوتی ہے بلکہ عدالت میں زیر سماعت مقدمات پر عدالت کے باہر بھی الگ سے عدالت لگتی ہے۔ اب یہ مصلحت تو عدالت ہی کو معلوم ہوگا کہ عدالت تمام ایسے امور جن کی روایات اور قوانین میں گنجائش نہیں نوٹس کیوں نہیں لیتی۔ بد قسمتی سے ہمارے ہاں پہلے سیاسی معاملات کا حل ایک خاص ادارے اور عمارت سے منسوب کرنے ،اس کا تاثر دینے یہاں تک کہ اس کو مطعون کرنے کی ریت تھی اب اس کا رخ عدالت عظمیٰ کی عمارت کی طرف ہو چکا ہے اور اول الذکر پس منظر میں جانے کے باعث موضوع بحث نہیں اس صورتحال میں کہ معاملات عوام اور پارلیمنٹ میں مروجہ طریقوں اور حربوں سے سیاسی دائو پیچ کامیدان گرمایا جائے، معاملات کا رخ عدالتوں کی طرف کرکے وہاں سے نتائج کی توقعات وابستہ کی جا رہی ہیں۔ اس ضمن میں اگر اس وقت عدالتوں میں سیاستدانوں کے ایک دوسرے کے خلاف عدالت سے رجوع کئے گئے مقدمات ہی کی طرف نظر ڈالیں تو ایسا نظر آئے گا کہ ساری سیاست کا محور ایک ہی مرکز پر منتقل ہوچکا ہے اور سیاستدانوں کے پاس اس کے سواکوئی اور فورم گویا باقی ہی نہ بچاہو۔ قانونی معاملات میں عدالت سے رجوع اور عدالت سے فیصلہ لینے پر اعتراض کی گنجائش نہیں لیکن جو رویہ عدالت کے باہر سامنے آتا ہے اس پر حیرت ہوتی ہے۔ تحریک انصاف کے چیئر مین عمران خان کاعدالت سے فیصلہ جلد سنانے کا مطالبہ کسی طور مناسب نہیں۔ عدالتوں کے اپنے معاملات ہوتے ہیں عدالت کو مناسب وقت پر اپنا فیصلہ بہر حال دینا ہے۔ بہتر ہوگا کہ اس کا صبر و تحمل سے انتظار کیا جائے۔ ہمارے تئیں معاملات کو عدالتوں میں لے جانے اور اس سے سیاسی نتائج کی توقعات کی وابستگی ایک عارضی مرحلہ ہے جس کا سیاسی عناصر کو ادراک ہونا چاہئے۔ عدالتی فیصلوں کی بناء پر سیاسی تلاطم خیزی کی جانبین میں سے کسی کی بھی سعی پیالی میں طوفان لانے کے مترادف عمل ہوگا کیونکہ سیاست ایک مناسب فورم پر کرنے کاعمل ہے اس کے لئے مناسب فورم یا تو ایوان ہے یا پھر عوام اس کے علاوہ جس کا بھی سہارا لینے کی کوشش کی جائے لا حاصل ہی رہے گی اور معاملات گھوم پھر کر محولہ دو پلیٹ فارمز پر ہی آئیں گے۔ پانامہ کیس ہو یا عمران خان کے خلاف مقدمات یا الیکشن کمیشن میں نا اہلی کا کیس، حزب اقتدار سے متعلق مقدمات ہوں یا حزب اختلاف کے عدالتوں سے مقدمات کا فیصلہ دیر یا بدیر سامنے آنا ہے۔ عدالتوں میں مقدمات سے ملکی معاملات کے ٹھپ ہونے کاتاثر صحیح نہیں البتہ ان معاملات سے ملک میں سیاسی عدم استحکام اور کسی ممکنہ و غیر ممکنہ تبدیلی کے تناظر میں سٹاک مارکیٹ میں مندی کے باعث ملک کو نقصان ہونا کوئی پوشیدہ امر نہیں۔اس قسم کی صورتحال میں ملک میں سرمایہ کاری اور کاروبار کا متاثر ہونا فطری امر ہے۔ ایک ایسے وقت میں جبکہ پاک چین اقتصادی راہداری منصوبے پر توجہ کی ضرورت ہے اور ہمارے ملک میں جس سیاسی استحکام کی ضرورت ہے بد قسمتی سے ایسا نہیں۔ سیاسی معاملات عدالتی فیصلوں سے حل نہیں ہوتے بلکہ مزید محاذ کھل جانے کا باعث ثابت ہوتے ہیں۔ اس تناظر میں یہ قرار دینا کہ ملکی معاملات پر ایک عدالتی فیصلے کے انتظار میں سکوت طاری ہے کوئی معقول تجزیہ نہیں اور آئندہ چند دنوں یا جب بھی مقدمات کے فیصلے آئیں اس کے بعد کی صورتحال از خود اس امر کی شاہد ثابت ہوگی کہ سیاسی معاملات سیاسی طریقوں سے حل ہو تے ہیں اور اس کے لئے سیاسی طرز عمل اختیار کرنا ہی درست اور موزوں ہوگا۔ وطن عزیز کے سیاستدانوں کا طرز عمل کوئی پوشیدہ امر نہیں۔ مقام اطمینان ہے کہ ملک میں نوے کی دہائی کی سیاست اب مروج نہیں۔ سیاست میں سنجیدگی اور متانت کی ضرورت کا ادراک ہوچکا ہے۔ وطن عزیز میں احتساب کی ضرورت اور اس کی انجام دہی سے کسی کو اختلاف نہیں مگر احتساب انتخاب کو گڈ مڈ کرنے کی سعی لا حاصل کا ارتکاب نہیں ہونا چاہئے۔ سیاستدانوں کو جو پیامن بھائے وہی سہاگن کے مصداق عوام کی خدمت اور عوامی مسائل کے حل جیسی ذمہ داری کو اولیت دینی چا ہئے۔ اس کے علاوہ کوئی اور موزوں راستہ نہیں۔

متعلقہ خبریں