Daily Mashriq


یکے بعد دیگرے علمائے کرام کا قتل

یکے بعد دیگرے علمائے کرام کا قتل

شبقدر میں ممتاز عالم دین کا فجر کی نماز کیلئے جاتے ہوئے قتل کی وجوہات کا علم تو پولیس کی تفتیش اور تحقیقات کے بعد ہی ہوگا فی الوقت ان کے کسی تنازعے میں ملوث ہونے کے بارے میں کوئی علم نہیں اور نہ ہی کسی ایسی شے کا کوئی اظہار سامنے آیا ہے جو اس قتل کا ممکنہ سبب گردانا جائے ۔ بلاشبہ کسی بھی قتل کے پس پردہ کچھ نہ کچھ محرکات ہوتے ہیں ایک عرصے سے صوبے میں علمائے کرام کو نشانہ بنانے کا ایک سلسلہ چل نکلاہے جن کے پس پردہ حقائق او رقوت کا کھوج لگانا باقی ہے ۔ مولانا حق نواز حقانی کے قتل کا بھی انہی میں شمار ہوتا ہے جن کے نہ تو قاتلوں کا علم ہے اور نہ ہی وجہ قتل کا اندازہ ہے۔ اس طرح کے پر اسرار واقعات سے جہاں صوبے میں امن و امان کی صورتحال بارے تشویش بڑھتی ہے وہاں عوام اور خصوصاً علمائے کرام میں عدم تحفظ کے احساس میں اضافہ فطری امر ہے ۔ اگر قبل ازیں کے واقعات کی پولیس کو جانفشانی سے تفتیش کر کے قاتلوں کو عدالت کے کٹہرے میں لا کرکھڑا کر نے میں کامیابی ملتی تو اس طرح کے واقعات کی روک تھام ممکن تھی ۔ایسا محسوس ہوتا ہے کہ کسی گروہ کا مقصد صوبے میں بدامنی اور عدم تحفظ کا احساس پیدا کرنا اور ایک حساس طبقے کو نشانہ بنا کرعوام کو مشتعل کرنا ہے جن سے ہوشیار رہنے کی ضرورت ہے ۔ پولیس کی ذمہ داری بنتی ہے کہ وہ اس طرح کے واقعات کی بیخ کنی کیلئے چوکس رہے اور جانفشانی و محنت سے تحقیقات کر کے اس میں ملوث کرداروں کو بے نقاب کرے ۔ چونکہ مولانا حق نواز حقانی کا قتل صبح سویرے فجر کے وقت ہوا ہے اس سے اس امر کا امکان غالب ہے کہ قاتل قریب ہی کہیں رات گزار چکے تھے نیز ان کو مقتول کی آمد ورفت اور موجودگی کا علم تھا اس نکتے پر تفتیش سے ملزموں تک پہنچنے کے کافی امکانات ہیں اگر اس واقعے کی تحقیقات بھی رسماً انجام دی جائیں کچھ عرصہ بعد داخل دفتر کر دی جائے تو نہ تو قاتل پکڑ ے جا سکیں گے اور نہ ہی علمائے کرام کے قتل کا سلسلہ بند ہوگا ۔

ڈینگی سے بچائو کے بروقت اقدامات کی ضرورت

گوکہ شہرمیں اور صوبے کے کسی حصے سے ڈینگی کے وبائی صورت اختیار کرنے کی کوئی اطلاع نہیں لیکن ڈینگی بخار میں مبتلا مریضوں کے ہسپتالوں میں علاج معالجے کی اطلاعات میں اضافہ ہونے لگا ہے۔ متعلقہ حکام کی جانب سے شہریوں کو مناسب احتیاط اور اقدامات کا بھی پابند بنانے کی سعی ضرور کی گئی ہے لیکن ہمارے تئیں یہ کافی نہیں ٹائیروں میں پانی رکھنے اور گھروں و دکانوں کے باہر پانی میں پودے رکھنے سے روکنا ایک سطحی قدم ہوگا جب تک شہر میں جا بجا کھڑے پانی کے تالاب نما گڑ ھوں کو نہ بھر دیا جائے برسات کے موسم میں مچھروں کی افزائش ویسے بھی معمول سے زیادہ ہوتی ہے۔ صوبائی دارالحکومت پشاور میں مچھروں کی بہتات اپنی جگہ لیکن چونکہ ڈینگی بخار کا مچھر صاف پانی میں پیدا ہوتااور پلتا ہے جس پشاور میں امکان تو کم ہے مگر سارے شہر کو گندگی کے ڈھیر اور گندے پانی کا جوہڑ قرار نہیں دیا جا سکتا ۔ عالمی ادارہ صحت کے مطابق ڈینگی دنیا میں سب سے زیادہ تیزی سے پھیلنے والی بیماریوں میں سے ایک ہے جو اس وقت بھی 100 سے زائد ملکوں میں وبا کی صورت میں موجود ہے۔عالمی ادارے کے مطابق ہر سال دنیا بھر میں ڈینگی کے 39 کروڑ مریض سامنے آتے ہیں جنہیں اگر بروقت تشخیص اور علاج میسر ہو تو ان کی جان بچائی جا سکتی ہے۔محکمہ بلدیات اور محکمہ صحت کے حکام کو خاص طور پر اس ضمن میں متوجہ ہونے کی ضرورت ہے۔ اس مقصد کیلئے جہاںشہریوں میں شعور و آگہی پیدا کرنے کی ضرورت ہے وہاں اس سے نمٹنے کیلئے بھی ممکنہ احتیاط و تدابیر اور تدار کی اقدامات میں کوتاہی کی گنجائش نہیں ۔

متاثرین کو فوری معاوضہ کی ادائیگی ہونی چاہیئے

ملاکنڈ کے علاقہ ظالم کوٹ میں عوام کا سوات ا یکسپریس وے کی زد میں آنے والے قبرستان سے اپنے عزیز و اقارب کی میتوں کی رضا کارانہ اور اپنی مد د آپ کے تحت منتقلی تعاون رواداری کا عملی مظاہرہ ہے جس کی قدر کی جانی چاہیئے ۔ علاقے کے عوام کی جانب سے اس قدر تعاون کے باوجود حکومت کی جانب سے متاثرین کوان کی اراضی وغیرہ کی مد میں معاوضہ کی ادائیگی میں لیت و لعل قابل افسوس اقدام ہے جس کی کوئی گنجائش نہیں ہونی چاہیئے تھی ۔ علاقے کے عوام کی جانب سے مطالبے کے باوجود معاوضے کی عدم ادائیگی پر منصوبے پر کام بند کروانے پر مجبور ہونا انتہائی افسوسناک اقدام ہوگا ۔ جس سے منصوبے پر رخنہ پڑنے اور بروقت تکمیل سوالیہ نشان ہوگا ۔ بہتر ہوگا کہ متاثرین کو معاوضوں کی ادائیگی میں تاخیر نہ کی جائے اور حکومت تعاون کرنے والے عوام کو عدم تعاون اور احتجاج پر مجبور نہ کرے ۔

متعلقہ خبریں