Daily Mashriq


اجتماعی گناہ

اجتماعی گناہ

پتا نہیں وہ کون سا راجا ہو گا جس کے نام راجا پور کا گاؤں آبادہے جہاں ایک لڑکی کو بغیر قصور کے ایسی سزا دی گئی جس سے اس کی اور اس کے عزیزوں کی زندگی بربادہوگئی۔ ہمیشہ کے لیے داغدار ہو گئی لیکن کیا یہ سزا صرف اس لڑکی کو دی گئی جس کے بھائی نے پنچوں کے مطابق یہ قصور کیا تھا۔ نہیں یہ سزا اس سارے گاؤں' قریبی دیہات اور سارے ملک میں ہر اس شخص مردو عورت کودی گئی جس نے یہ خبر سنی اور خاموشی سے برداشت کی۔ پنچائیت کی اس گھناؤنی کارروائی پر عمل درآمد کے بعد پولیس حرکت میں آئی ہے اور اجتماعی گناہ کے مرتکب پنچائیت کے بیس ارکان کو گرفتار کر لیا گیا ہے۔ لیکن کیا یہ اجتماعی گناہ صرف ان بیس ارکان پنچائیت کا ہے ۔ کیا علاقے کے تمام لوگ جنہوں نے ایسے بدباطن لوگوں کو پنچ بنایا ان کی پنچائیت کو برداشت کیا وہ سب ان کے گناہ میں برابر کے شریک نہیں ہیں۔ کیا علاقے میں کوئی بھلے لوگ آبادنہیں ہیں جو ایسے لوگوں کو پنچائیت کے رکن بننے سے روک سکتے۔ کیا علاقے میں کوئی امام مسجد نہیں تھا جو لوگوں کو نیکی کا راستہ بتاتا اور برائی سے روکتا ہوگا۔ کیا علاقے کے لوگ نہیں جانتے کہ برائی کیا ہے اور اسے روکنا چاہیے۔ کیا ایک انفرادی برائی کا کفارہ اجتماعی برائی کے ذریعے ہو سکتا ہے۔ اس سوال کا جواب علاقے کے سمجھدار لوگوں کے پاس کیا ہے؟ اس لڑکی اور اس کے خاندان والوں کی بے بسی کوئی تصور کر سکتا ہے جو پنچائیت کے فیصلے پر اجتماعی زیادتی کا نشانہ بن گئی اور ان کی باقی زندگی ان کے لیے طعنہ بن گئی۔ کیا یہ طعنہ صرف اس لڑکی کے لیے ہے؟ یہ سوال ہر باضمیر پاکستانی کے سامنے ہونا چاہیے۔ کیا یہ طعنہ پنچائیت کے ارکان کے لیے نہیں ہے۔ کیا یہ طعنہ علاقے کے دیہات کے سارے لوگوں کے لیے نہیں جو خاموش رہے ' جنہوں نے برائی کا ہاتھ روکا ' نہ برائی کو برائی کہا اور شایدنہ برائی کو برائی سمجھا۔ پنچائیت کے ارکان کون ہیں' ان کا ذاتی کردار کیا ہے' ان کی سماجی حیثیت کیا ہے' ان کی فہم ، دانش کا معیار کیا ہے۔ لیکن کیا انہیں نہیں معلوم تھا کہ اگر وہ کسی بات کو برائی سمجھتے ہیں تو برائی کا خاتمہ اس سے بڑی برائی کا حکم دے کر نہیں کیا جاسکتا۔ ان کے فیصلے سے کیا اس لڑکی کی آبرو واپس آ گئی جس کے بارے میں پنچائیت کے حکم پر اجتماعی طور پر بے آبرو کی جانے والی لڑکی کے بھائی پر الزام ہے۔ اگر یہ الزام صحیح ہے تو راجا پور کی دو لڑکیاں بے آبرو ہوئیں جن میں سے ایک برسرعام پنچائیت کے حکم پر بے آبرو کی گئی ، جسے بچانے والا کوئی نہ تھا۔ اب جب یہ خبر عام ہو گئی ہے اب بھی کوئی نہیں ہے۔ کہا جاتا ہے کہ پنجاب کے وزیر اعلیٰ میاں شہباز شریف نے اس واقعہ کا نوٹس لے لیا ہے۔ میاں شہباز شریف سے بھی زیادہ مشہور نام وزیر اعظم نواز شریف کا ہے۔ ملک کا بچہ بچہ جانتا ہے کہ وہ ملک کی حکومت کے سربراہ ہیں۔ حکومت کا فرض ہے کہ وہ پاکستان کے تمام لوگوں کی جان ' مال اور آبرو کی حفاظت کرے۔ اس طرح وہ اور حکومت کے تمام کارپرداز پاکستانیوں کی جان ، مال اور آبرو کے امین ہیں۔ ان کی طرف سے ابھی اس واقعہ کے بارے میں جو پاکستان کے نام پربدنما داغ ہے کوئی ردِعمل منظر عام پر نہیں آیا۔ پنجاب کے وزیر قانون رانا ثناء اللہ سے یہ بیان منسوب ہے کہ پنجاب کی آبادی دس کروڑ ہے اس میں ایسے اِکا دُکا واقعات کا ہوجانا کوئی انہونی بات نہیں ہے۔ کیا قانون یہی کہتا ہے کہ اکا دکا واقعات کوئی انہونی بات نہیں اس لیے اسے ہونی بات سمجھ کر قبول کر لیاجائے؟ کہتے ہیں حجاج بن یوسف کو ایک مسلمان لڑکی کی فریاد موصول ہوئی تھی جس پراس نے محمد بن قاسم کو فوج دے کرسندھ بھیج دیا تھا کہ وہ راجا داہر کی سرکوبی کرے۔ راجاپور کے راجا داہر اتنے بااثر ہیں کہ ان کے گھناؤنے احکام اور ان پر عمل درآمد کرنے والوں کی زیادتی کا نشانہ بننے والی مظلومہ نہ فریاد کر سکتی ہے ، نہ کوئی ایسا ہے جو اس کی فریاد حکمرانوں تک پہنچائے۔ بھلا ہو اس ویب سائٹ کا جس نے یہ خبرجاری کر دی اور سنا ہے کہ وزیراعلیٰ کی ہدایت پر علاقے کی پولیس حرکت میںآگئی ہے اور اس نے پنچائیت کے بیس ارکان کو گرفتار کرلیا ہے۔ یہ معلوم نہیں ہو سکا کہ ان پرکن دفعات کے تحت مقدمہ قائم کیا گیا ہے ۔ لیکن سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا علاقے میں کوئی پولیس چوکی نہیں تھی۔ پولیس کاکوئی ایسا بندوبست نہ تھا جس کے ذریعے پولیس کو یہ معلوم ہو جاتا کہ راجاپور کے داہر ایک پنچائیت لگانے والے ہیں۔ ایسا ہوتا نہیں ہے۔ پولیس کے پاس بہت سے مخبر اور ذرائع ہوتے ہیں۔ کہاجاتا ہے کہ پنچائیت والے علاقے کے بااثر افراد ہیں۔ پولیس وزیراعلیٰ کے احکام کو بجالاتے ہوئے ان افراد کے ساتھ کیا سلوک کرتی ہے ' ان کے خلاف کیا مقدمہ درج کرتی ہے ' ایف آئی آر میں کتناجھول رکھتی ہے اس سے اندازہ ہو جائے گا۔ ایک رکن صوبائی اسمبلی جس نے برسرعام ٹریفک پولیس کے ایک اہل کار کو اپنی گاڑی سے کچل دیا اور وہ جاں بحق ہو گیا اسے حوالات میں جو پروٹوکول دیا گیا وہ میڈیا میں رپورٹ ہو چکا ہے۔ ایسا ہی ایک فیصلہ ایک اور پنچائیت میں چندسال پہلے مختاراں مائی کے خلاف دیا گیا تھا۔ اس کا مقدمہ چلا لیکن ملزم آج بھی دندناتے پھرتے ہیں۔ اور مختاراں مائی پاکستان میں انصاف اور عورتوں کی مظلومیت کی بین الاقوامی علامت بن چکی ہے۔ ہمارے وزیر اعظم ' وزیراعلیٰ ' وزیر قانون ' دیگر وزراء ' اسمبلیوں کے ارکان اورجو اہل سیاست اسمبلیوں میں نہیں ہیں وہ' ان کے علاوہ اہل دانش اور عاقل و بالغ لوگ سب ذمے دار اور جوابدہ ہیں۔ حکومت اور اہل سیاست کے اکابرین کی وجہ شہرت اور اہمیت جمہوری نظام ہے۔ کیا یہ سب جمہوری لوگ راجاپور اور اردگرد کے دیہات کے جمہور کو یہ اعتماد دے سکے کہ وہ چند بااثر افراد کی عدل اور انسانیت کی اقدار کو پامال کرنے کی کارروائی روک سکیں، اس کے خلاف آواز اُٹھا سکیں۔ یہی ذمہ داری عاقل و بالغ لوگوں کی ہے اور اہل اقتدار اس بات کے لیے جوابدہ ہیں کہ انصاف فراہم کرنے والے ادارے کیا مظلوموں کو واقعی انصاف فراہم کرتے ہیں۔ ورنہ جمہوریت اور عدل کے دعوے محض ایسے دستانے ہیں جن پر مظلوموں کی مظلومیت کے داغ ہیں۔

متعلقہ خبریں