Daily Mashriq


پاکستان، اشرف غنی اور خطے میں امن کا خواب

پاکستان، اشرف غنی اور خطے میں امن کا خواب

دنیا میں شاید ہی کوئی تعلق اتنا پیچیدہ ہو جتنا پاکستان اور افغان صدر اشرف غنی کا تعلق ہے۔ ستمبر 2014ء میں صدر منتخب ہونے کے چند ہفتوں بعداشرف غنی پاکستان کا دورہ کررہے تھے۔ اشرف غنی کے دورے کا مقصد ایک کثیر الجہتی خارجہ پالیسی پر عمل کرتے ہوئے پاکستان کی سیاسی اور عسکری قیادت کے ساتھ تعلقات میں بہتری لانا تھا۔ نئے افغان صدر کی اس پالیسی کو بہت سے حلقوں کی جانب سے ایک بے باک پالیسی کے طور پر دیکھا جارہا تھا کیونکہ سابقہ صدر حامد کرزئی نے پاک افغان تعلقات کو پستی کی نئی گہرائیوں میں دھکیل دیا تھا۔ لیکن اشرف غنی سابق صدر حامد کرزئی سے بہت مختلف تھے ۔ اشرف غنی ایک معروف ماہرِ تعلیم اور ماہرِ بشریات تھے جو پاکستان اور افغانستان کے معاشروں اور ان کے آپس کے تعلقات کی اچھی سمجھ بوجھ رکھتے تھے۔ اس کے ساتھ ساتھ نئے افغان صدر ملک میں امن کے قیام کے لئے اپنے ہمسایوں اوراتحادیوں کے ساتھ بہتر تعلقات کی اہمیت کو سمجھتے تھے۔ اس لئے جب اشرف غنی نے پاکستان میں اپنے ہم منصب کے ساتھ مسلسل رابطے، نئی عسکری ہاٹ لائن کے قیام، دوطرفہ مذاکرات کے لئے مختلف نئے چینلز کے قیام اور دونوں حکومتوں کے درمیان کوآرڈینیشن کی ضرورت پر زور دیا تو بین الاقوامی تعلقات کے ماہرین نے نئے صدر کے ان عزائم کو ایک تازہ ہوا کے جھونکے سے تعبیر کیا جس سے جنگ زدہ خطے میں طویل المیعاد امن قائم کیا جاسکتا تھا۔صرف دو سال بعد وہی اشرف غنی نے پاکستان کے دورے کی دعوت مسترد کرتے ہوئے کہا 'میں نہیں آئوں گا'۔ صرف دوسال کے عرصے میں پاکستان سے تعلقات میں بہتری لا کر خطے میں قیام امن کے خواب دیکھنے والے اشرف غنی اتنے مایوس ہوگئے تھے کہ انہوں نے پاکستان کا دورہ کرنے کی دعوت مسترد کردی ۔ یہاں پر سوال یہ اٹھتا ہے کہ ایسا کیا ہوا کہ اشرف غنی جیسا انسان اتنا مایوس ہوگیا ؟ اشرف غنی کی مایوسی کو سمجھنے کے لئے ہمیں حامد کرزئی کے دور میں پاک افغان تعلقات کی باریکیوں کو سمجھنا ہوگا ۔ امریکہ نے حامد کرزئی کو اس لئے افغانستان کا صدر منتخب کیا تھا کہ وہ اس جنگ زدہ ملک میں امن قائم کرنے کے ساتھ ساتھ پورے افغانستان میں اپنی حکومت کی رٹ کو بحال کریں گے جہاں پر اُس وقت کئی جنگجو سردار اپنی چھوٹی چھوٹی ریاستیں قائم کئے ہوئے تھے۔امریکی امیدوں کے برخلاف حامد کرزئی ایک نااہل اور بصیرت سے محروم قائد ثابت ہوئے۔ حامد کرزئی کی ذمہ داریوں میں سے ایک مختلف سٹیک ہولڈرز کو ایک صفحے پر لانا بھی تھی جن کی وجہ سے ملک میں امن قائم نہیں ہورہا تھا۔ان سٹیک ہولڈرز میں سب سے اہم پاکستان اور امریکہ تھے لیکن امریکی منصوبوں کو سائیڈ لائن کرکے اور پاکستان کے ساتھ تعلقات کو خراب کرکے حامد کرزئی اس معاملے میں بھی بری طرح ناکام ہوئے تھے۔ پاکستان کے ساتھ مذاکرات کے معاملے میں کرزئی اس وجہ سے بھی ناکام ہوئے تھے کیونکہ جن افغان علاقوں سے پاکستان کے مفادات منسلک تھے ان علاقوں میں حامد کرزئی کی رٹ قائم نہیں تھی جس کی وجہ سے پاک افغان مذاکرات ایک مذاق بن کر رہ گئے تھے کیونکہ پاکستان نے کرزئی کی کسی بھی بات کو سنجیدگی سے لینا چھوڑ دیا تھا۔اشرف غنی نے جب صدارت کا عہدہ سنبھالا تو نہ صرف افغانستان خانہ جنگی سے نبرد آزما تھا بلکہ بیرونی ممالک کے ساتھ تعلقات کے حوالے سے بھی تنہائی کا شکار ہوچکا تھا۔ ملک میں امن کے قیام کے لئے اشرف غنی نے پاکستان کے ساتھ ٹوٹے ہوئے رابطے جوڑنے کی کوشش کی لیکن جلد ہی ان کو اندازہ ہو گیا کہ کرزئی حکومت میں پاکستان کے ساتھ تعلقات کو اتنا خراب کردیا گیا کہ اب ان میں بہتری لانا آسان نہیں ہوگا۔جب 2014ء میںاشرف غنی نے پاکستان کا دورہ کیا تو پاکستان میں دہشت گردی اپنے عروج پر تھی اور ان دہشت گرد کارروائیوں میں ملوث عناصر کے ٹھکانے سرحد پار بتائے جارہے تھے۔اس دورے میں اشرف غنی نے مختلف اقدامات کے اعلان کے ساتھ تعلقات کی بحالی کی کوشش کی لیکن افغان صدر کے دورے کے ایک مہینے بعد ہی آرمی پبلک سکول پشاور کا افسوس ناک واقعہ پیش آیا جس نے پاکستان سمیت پوری دنیا کو ہلا کر رکھ دیا۔اس حملے میں ملوث چھ میں سے دو حملہ آوروں کا تعلق افغانستان سے تھا ۔ اس وقت اشرف غنی کے لئے اس حملے میں ملوث مجرموں کو پاکستان کے حوالے کرنا ناممکن تھا کیونکہ کابل کے باہر ان کی حکومت کی عملداری نہ ہونے کے برابر تھی۔اس حوالے سے پاکستان کے ساتھ تعلقات میں بہتری کی خواہش کے باوجود بھی افغان صد ر پاکستان کی امیدوں پر پورا اترنے میں ناکام رہے تھے۔نتیجے کے طور پر پاکستان نے اپنے شمال مغربی علاقوں میں کارروائی کرکے ان علاقوں کو دہشت گردوں سے پاک کیا اور افغان بارڈر پر سیکورٹی کو سخت کرنے کے اقدامات کئے گئے۔ اگر اشرف غنی پاکستان کے ساتھ تعلقات میں بہتری چاہتے ہیں تو انہیں اپنے مشرقی علاقوں سے ان دہشت گردوں کا خاتمہ کرنا ہوگا جو سرحد پار دہشت گردی کی کارروائیوں میں ملوث ہیں۔ دونوں ہمسایوں کوامن کے قیام کے لئے بیانات کے علاوہ ٹھوس اقدامات بھی کرنے ہوں گے ورنہ خطے میں امن قائم کرنے کا خواب کبھی بھی شرمندہِ تعبیر نہیں ہوسکے گا ۔(بشکریہ: ایکسپریس ٹریبیون،ترجمہ: اکرام الاحد)

متعلقہ خبریں