Daily Mashriq


للسائل والمحروم

للسائل والمحروم

پاکستان میں سیاست ایک ایسا گورکھ دھندا ہے محسو س ہو تا ہے کہ سب ہی کو سیاست ما فیا ہوگیا ہے ، نائی کی ہٹی سے لے کر چمار تک کی تہ بازاری تک اگر کوئی موضوع کا ن میں پڑے گا تو وہ سیا ست کا ہی مو ضوع ہے۔ ایسا لگتا ہے کہ پاکستانی قوم کو کوئی دوسرا مسئلہ درپیش ہی نہیںہے حالا نکہ پاکستان کا سب سے بڑا مسئلہ نکبت و افلا س ہے ، گزشتہ روز سوشل میڈیا پر ایک تصویر دکھائی گئی کہ چند بچے ایک ڈلاؤ میںگھسے اس کی گندگی سے خوراک نکا ل نکا ل کر پیٹ کی آگ کو بجھا رہے تھے اس کے ساتھ ہی تحریر تھا کہ دریا دجلہ وفرات کے کنا رے اگر کوئی کتا پیا س سے مر جائے تو اس کی بھی با ز پر س عمر ہی سے ہو گی ۔ سوال کیا گیا کہ کیا آج کے حکمر ان عمر سے بھی اعلیٰ ہیں کہ ان کو فاقہ زدہ عوام کا احساس نہیںرہا ۔ چنانچہ آج سیا ست سے ہٹ کر بات ہوجا ئے ۔ سوشل میڈیا پر چلنے والی اس تصویر کے اگلے روز چیف منسٹر ہا ؤ س میں لا چار افرا د سے متعلق ایک تقریب ہوئی جس میں للسائل والمحروم فاؤنڈیشن کی جانب سے اعلیٰ تعلیمی ادارو ں میں یتیم طلباء اور طالبات کی مالی امدا د کے چیک وزیر اعلیٰ پر ویز خٹک کے دست شفقت سے تقسیم کئے گئے۔ للسائل والمحروم کی بنیا د ایم ایم اے کی حکومت کے دو ر میں رکھی گئی تھی ، چونکہ اس کو سیا ست سے قطعی پاک رکھنا تھا اور اس کی سربراہی کے لیے انتہا ئی ایماندار شخصیت کی ضرورت تھی چنانچہ اس وقت صوبہ کے پی کے کے سابق چیف سیکر ٹری عبداللہ جیسی مر تاض وعابد شخصیت کے نا م قر عہ پڑا ۔ عبداللہ صاحب کے بارے میںاتنا کہہ دینے سے ان کی پوری شخصیت کھل کر سامنے آجاتی ہے کہ بڑے سے بڑا عابد وزاہد بھی اپنے بارے میں کوئی ادعا نہیں کر سکتا مگر وہ عبداللہ صاحب کے بارے میں دعویٰ کر سکتا ہے ، جب عبداللہ صاحب کی تقرری ہو ئی تھی اس وقت یہ یقین کرلیا گیا تھا کہ اگر مستقبل میں بھی فاؤنڈیشن کے سربراہ ایسے ہی کر دار کی شخصیات مقر ر ہوئیں تو یہ ہر حکومت کا اخلا ص اور خدا تر سی ہو گا ، بعدا زاں فاؤنڈیشن کی کا رکر دگی چھپ سی گئی تھی یہ دور ا ے این پی اور پی پی کا مشتر کہ تھا ، اب تحریک انصاف کا دو ر آیا تو اس فا ؤنڈیشن نے زندگی کی ایک نئی کر وٹ لی ہے اور یہ عملی طور پر دوبارہ زندہ ہوئی جس کا کر یڈٹ بہر طور پر ویز خٹک کو جاتا ہے۔پر ویزخٹک صوبے کے پہلے بطنی طور پر منحنی جسامت اور ہلکے پھلکے مزاج کے وزیراعلیٰ ہیں یہ ہی وجہ ہے کہ ان کے صوبے کی تما م سیاسی شخصیا ت سے اچھی نبھ رہی ہے ، معترضین کو یہ اعتراض رہا ہے کہ جب سے وہ بر سر اقتدار آئے ہیں ان کی کا رکر دگی قابل ذکر نہیں رہی ہے ، محسو س تو ایساہی کیا جا تا تھا بلکہ محسو س کیا جا تا تھا کہ عمرا ن خان نے ان کو اپنے دھر نے کا میا ب بنا نے کے لیے مقر ر کر رکھا ہے بہر حال دھر نو ں سے جان چوٹی تو موصوف کی کارکر دگی بھی عیا ں ہونا شروع ہو ئی ہے تاہم ان کو اپنے وزیراعلیٰ بننے کے ساتھ ہی پا رٹی کے بعض دل جلوں سے بھی واسطہ پڑ تا رہا ہے اب ایک نئے سیا سی بحران کا بھی سامنا ہے کہ ان کے اتحادی شہر ام تر کئی بھی علم بغاوت اٹھائے نظر آرہے ہیں ۔ خیر با ت ہو رہی تھی کہ وزیراعلیٰ نے اپنے چار ساڑھے چار سالوں میں کوئی نما یا ںکا م کیا یا نہیں مگر للسائل والمحروم کے لیے جو کا م کیا ہے وہ واقعی قابل تحسین ہے کہ انہوں نے اس فاؤنڈیشن کو ایک نئی زندگی سے ہمکنا ر کیا وہ اس طرح کہ فاؤنڈیشن کا چیئر مین ایک ایسے شخص کو مقرر کیا جس کی شخصیت صالح لوگو ںکی طر ح نکھر ی ہوئی ہے ۔حاجی جا وید بہت نو جو انی ہی میں سیا ست میں وارد ہوئے ، دو دفعہ صوبائی وزیر کے عہد ے پر فائز ہو ئے پارٹی سیا ست میں بھی مقام پایا اور مسلم لیگ کے جنرل سیکر ٹری کے طور پر کا م کیا ، اسی سیا سی زندگی کے دوران وہ سیا ست کو چھو ڑ چھا ڑ کر تبلیغ دین کے مشن پر جت گئے اور کئی عشرو ں سے وہ سیا ست کانام تک بھلا بیٹھے ہیں۔ اب ان کا اوڑھنا بچھو نا دین اسلا م کی تبلیغ واشاعت ہے۔دنیاداری سے دور ہوگئے ہیں سیاست میںایسی کوئی مثال نہیں ملتی ۔ وزیر اعلیٰ پر ویز خٹک کی نظر انتخاب ان پر پڑی گو کہ حاجی جا وید نے پہلے یہ ذمہ داری قبول کر نے سے انکا ر کر دیا مگر فاؤنڈیشن کے بانی چیئرمین عبداللہ کے سمجھانے پر یہ ذمہ داری قبول کر لی۔ یہ بات درست ہے کہ ایسی تنظیم کوغیر سیاسی شخصیات کی ہی ضرورت ہے ورنہ سماجی ادارے بھی سیا ست کا کچر ا بن کر رہ جا تے ہیں ۔ پاکستان کی نصف سے زیادہ آبادی خواتین پر مشتمل ہے اور پاکستان سے غربت دور کرنے کا ایک ذریعہ یہ بھی ہے کہ خواتین کو ان کے پیر و ںپر کھڑا کیا جا ئے ان میں ہنر مند اور تعلیم یا فتہ خواتین کی بڑی کمی ہے چنانچہ اس امر کو ترجیح دی جا ئے کہ خواتین فنی تعلیم سے بہر ہ مند ہو ں جس سے ملک کو ان شعبوں میںافرادی قوت بھی میسر ہو سکے گی ، وزیر اعلیٰ نے للسائل والمحروم فاؤنڈیشن کے تحت بیو اؤں اور معذورافراد کے لیے سکل ڈویلپمنٹ انسٹی ٹیوٹ کی اصولی طور پر منظوری دیدی ہے اس کے علا وہ اسڑیٹ چلڈرن بچو ں کے سدھا ر کے لیے ''زمنگ کو ر ' ' (اپنا گھر ) کے قیام کا بھی اعلا ن کیا ہے ، یہا ں یہ کہنا مقصود ہے کہ پاکستان میں جس طرح سیا ست کا عمل دخل ہے اور سیا سی جماعت کی اقرباپر وری پر وان چڑھی ہیں اس میں کوئی بھی ادارہ عوام کے لیے قابل بھروسہ نہیں ہے بلکہ ان کی کارکر دگی کی مثال یہ رہی ہے کہ اندھا بانٹے ریو ڑیا ں بار بار اپنو ں ہی کو دے چنانچہ ایم ایم اے کے دور میں اس ادارے کے چیئر مین کا انتخاب بہت درست تھا ۔ اسی طر ح اب پر ویز خٹک کاانتخاب بھی اس امر کی گواہی دیتا ہے کہ وہ معاشرے کی بھلائی میں مخلص ہیں ۔ سیاست ہی ہر مسئلے کا حل نہیں ہے اخلا ص کو بھی اس میں اصل اہمیت حاصل ہے۔ ما ضی میں ایسے ادارو ں کو پارٹی کے لیے رشوت کے طور پر استعمال کیا جا تا رہا ہے پھر ان ادارو ںکا کیا حشر ہوا وہ سب کے سامنے ہے وہ ایسے سیا ست میں ڈوبے کہ ٹائی ٹینک سے بھی زیا دہ برا انجا م ہوا ۔توقع ہے کہ مستقبل میں آنے والے حکمر ان بھی پر ویز خٹک کی پیر وی کر یں گے اور دکھی انسانیت کے دکھو ں کا حقیقت میں مداوا کر یں گے ۔