Daily Mashriq

خوشامد کی حد

خوشامد کی حد

شاہی دربار میں ہمیشہ خوشامدیوں نے بادشاہ کی خوشنودی حاصل کر نے کے لئے اُس کی شان میں قصیدے سنائے ہیں۔بادشاہ کو مختلف القابات سے نوازا گیا ہے۔لیکن سعودی عرب کے بادشاہ سلمان بن عبد العزیز نے الجزیرہ ٹیلی ویژن سے وابستہ ایک کالم نگار رمضان ال انزری کو اس بناء پر معطل کیا کہ جس نے بادشاہ کیلئے ایسے الفاظ ادا کئے جو صرف اللہ پاک کے99 ناموں میں سے ہیں۔جو صرف اس دُنیا کے خالق و مالک اللہ پاک کیلئے مختص ہیں ۔جس پرسعودی فرمانروا سلمان بن عبد العزیز نے سعودی وزیر اطلاعات کو کالم نگار کے خلاف سخت کارروائی کرنے کا حکم صادر کیا ۔خوشامد کی بھی ایک حد ہوتی ہے۔حدود کوپھلا نگنے سے اس کا خمیازہ بھگتنا پڑتا ہے۔حضرت شیخ سعد ی کی ایک حکایت یاد آئی کہ بادشاہ کی قربت کے دو اہم امکانات پیش آسکتے ہیں۔اگر بادشاہ کو کوئی بات پسند آئے تو انعام و اکرام سے نوازتا ہے ۔اگر موڈ خراب ہو یا مزاج شاہانہ پر گراں گزرے تو سرقلم کرنے کا حکم بھی دے سکتا ہے۔رموز مملکت خویش خسروان دانند

حضرت شیخ سعدی نے ایک اور حکایت میں فرمایا ہے کہ دُشمن سے ہمیشہ بچو اور دوست سے اُس وقت جب وہ تمہاری تعریف کرنے لگے ۔حضرت شیخ سعدی کی حکایت سے اقتباس ہے ۔ جس میں ایک بادشاہ اور درویش کاذکر ہے کہ ایک نیک آدمی نے خواب میں دیکھا کہ ایک بادشاہ جنت میں ہے اور دوسرا درویش دوزخ میں پڑا ہے ۔وہ سوچ میں پڑ گیا کہ لوگ تو یہ سمجھ رہے تھے کہ بادشاہ دوزخ میں ہوگا اور درویش جنت میں ۔لیکن یہاں تو معاملہ اس کے برعکس نکلا۔ معلوم نہیں اس کا سبب کیا ہے ۔غیب سے آواز آئی '' کہ بادشاہ درویشوں سے عقیدت رکھتا تھا۔ اس لئے بہشت میں ہے اور اس درویش کو بادشاہوں کے تقرب کا بڑا شوق تھا اس لئے جہنم میں ہے ''۔ خوشامدیوں کا ٹولہ پرانے وقتوں سے چلا آرہا ہے۔مغلیہ دور میں اکبربادشاہ کے دربار میںبادشاہ کی خوشنودی حاصل کرنے کیلئے اس کی ہاں میں ہاں ملانا ایک روایت بن چکی تھی۔ایک دفعہ بادشاہ کے کھانے میں بینگن پیش کیا گیا ۔ بینگن کھانے کے بعد بادشاہ نے اس کی بڑی تعریف کی۔ دربار یو ں نے بادشاہ کے منہ سے بینگن کی اتنی تعریف سنی تو درباریوں نے بھی تعریف کے پل باندھ دیئے۔ بینگن کو شاہی سبزی اور سبزیوں کا بادشاہ بنادیا۔کسی نے کہا کہ بینگن کے سر پر تاج ہے۔ رنگ کاسنی اور تاج سبز ہے ۔

کیا اتفاق ہے ۔جبکہ اندر سے سفید ہے اور سفید گودہ کیا بات ہے۔دوسرے دن بادشاہ نے جب بینگن کھایا تو پیٹ میں گڑ بڑ شروع ہوگئی ۔بادشاہ نے آکر درباریوں سے شکایت کی کہ تم لوگ بینگن کی بڑی تعریفیں کرتے تھے ۔ یہ تو ایک خراب سبزی ہے ۔درباریوں نے پھر ہاں میں ہاں ملانا شروع کی کہ جی بینگن بھی کوئی سبزی ہے ۔اس کی کوئی شکل ہے ۔کالا کلوٹا ،پیٹ نکلا ہوا اور پیٹ کے اندر دانے یہ تو پیٹ میں مروڑ پیدا کرتا ہے۔بادشاہ نے درباریوں سے پھر مخاطب ہو کر پوچھا کہ کل تو اس کی تعریف کی جارہی تھی اور آج اس کی برائیاں کی جارہی ہیں۔بیربل نے بادشاہ سلامت سے عرض کیا کہ ہم تو بادشاہ کے غلام ہیں بادشاہ نے کہا کہ اچھی سبزی ہے ۔ہم نے تعریف شروع کردی ۔بادشاہ نے فرمایا کہ بینگن ایک خراب سبزی ہے ۔ہمیں بینگن سے کیا لینا دینا۔جہنم میں جائے بینگن ۔وہ تو بادشاہ سلامت کی بات کی تائید کرینگے۔موجودہ دور میں بھی اس قسم کے خوشامد ی ہر جگہ پائے جاتے ہیں۔ جو تعریف کرنے پر آئیں تو تعریفوں کی کتاب پر کتاب لکھ دیتے ہیں۔لیکن اہل قلم اورکالم نگار اپنی تحریروں میں خوشامد کرتے ہوئے زمین اور آسمان کے قلابے ملاتے نہیں تھکتے ۔یہ ایک رواج بن چکا ہے کہ ضرورت سے زیادہ تعریف کی جائے ۔تاکہ سننے والے کے دل میں اُس کیلئے ایک نرم گوشہ پیدا ہو اور اس نرم گوشے سے اپنے مقاصد حاصل کرنے میں کامیابیاں حاصل کرے ۔یا حکام بالا کی قربت حاصل کرے۔کچھ ہی دن پہلے اس کی ایک دو مثالیں سامنے آئی تھیں جب پاکستان کرکٹ بورڈ کے بزرگ چیئرمین نے ایک تقریب میں وزیر اعظم کی بیٹنگ کا کوئی واقعہ سنایا اور تعریف کی حد ہی پار کر دی ۔ ایک خاتون پولیس افسر کا سیلوٹ تو سب کو یاد ہوگا ۔ الغرض خوشامدی اپنی اداؤں سے وقتی طور پر تو چند معمولی قسم کے فائدے حاصل کرسکتے ہیں ۔لیکن بعض اوقات حالات بدلنے پر یہی خوشامدی درباری ٹولے نقصان بھی اُٹھاتے ہیں۔جیسے بادشاہوں کے دربار میں ذرا سی لغزش پر بادشاہ کے غضب کا خمیازہ بھگتنا پڑتا ہے۔

متعلقہ خبریں