Daily Mashriq

بجلی بھول جائو

بجلی بھول جائو

خبر لگی ہے کہ نیپرا نے جون کے فیول ایڈجسٹمنٹ کی مد میں بجلی 2روپے 11پیسے سستی کرنے کی منظوری دے دی ہے۔ حالیہ دنوں میں بجلی کے نرخ جس تیزی سے کم ہو رہے اس حساب سے تو اب تک صارفین کو مفت بجلی ملنا چاہئے تھی لیکن ایسا نہیں ہوا۔ وجہ اس کی فیض احمد فیض ایک دوسرے پیرائے میں بیان کر چکے ہیں۔ فرماتے ہیں

کچھ محتسبوں کی خلوت میں کچھ واعظ کے گھر جاتی ہے

ہم بادہ کشوں کے حصے کی اب جام میں کم تر جاتی ہے

مطلب اس کا یہ بنتا ہے کہ کچھ بجلی لائن لاسز کی نذر ہو جاتی ہے۔ کچھ چوری میں چلی جاتی ہے' کچھ بجلی والوں کو رعایتی بجلی سپلائی کرنے میں صرف ہو جاتی ہے' کچھ بد انتظامی میں ضائع ہو جاتی ہے۔ نتیجہ اس کا وہی ڈھاک کے تین پات یعنی صارفین کو بھاری بھر کم بلوں سے کوئی نجات نہیں ملی۔ لوڈشیڈنگ کا عذاب اسی طرح جاری و ساری ہے۔ ہمیں اطہر زبیری یاد آرہے ہیں۔ ایک روز سٹاف روم میں یاروں کے قہقہے سن کر آئے اور فرمایا' گھنٹیاں بج رہی ہیں' لڑکے آجا رہے ہیں مگر آپ حضرات میں سے کوئی ہلتا جلتا نظر نہیں آتا۔ بالکل اسی طرح بجلی کی نرخوں میں کمی کے اعلانات کے باوجود صارفین اوور بلنگ کا رونا رو رہے ہیں۔ قوم کو 25ارب روپے کی ریلیف دینے کی خوشخبری بھی سنا دی گئی ہے۔ لیکن ظاہر ہے اسکے ثمرات سے صارفین بالعموم محروم ہیں۔ بجلی کے نرخوں میں کمی کے اعلان کے ساتھ ایک شرط یہ بھی لگا دی جاتی ہے کہ نئے نرخوں کا اطلاق 300یونٹس تک بجلی خرچ کرنے والوں پر نہیں ہوگا۔ اس کو بنیا ذہنیت کی مثال قرار دیا جاسکتاہے جو قرض خواہ سے قرض سے زیادہ سود وصول کرتا ہے۔ ہم پہلے بھی کئی بار عرض کرچکے ہیں کہ ڈیجیٹل کے نام سے جو نئے بجلی کے میٹر صارفین کو فراہم کئے گئے ہیں مبینہ طور پر یہ پہلے سے ہی 20 سے 30 فیصد تک زیادہ تیز رفتاری سے چلتے ہیں۔ واللہ اعلم' اس بات میں کہاں تک صداقت ہے۔ البتہ اس ضمن میں ذمہ داروں کی جانب سے کوئی تردید بھی اب تک نہیں آئی۔ گھر میں آپ الیکٹرک آئرن کے استعمال پر پابندی لگا دیں۔ بجلی کی موٹر صرف اشد ضرورت کے تحت ہی چلائیں۔ گھر کے صحن میں اندھیرا رکھیں۔ فریج کا استعمال مستقل طور پر ترک کردیں۔ اس خود اذیتی کے باوجود 300 یونٹ بجلی خرچ کرنے پر بھی نئے ڈیجیٹل میٹرز کی تیز رفتاری کے نتیجے میں آپ کو 390یونٹ کے اخراجات برداشت کرنا پڑیں گے۔ ایک مثال سے اس کو اس طرح ثابت کیاجاسکتا ہے جون 2016ء میں ہم نے بجلی کے استعمال میں حد درجہ احتیاط سے کام لیا پھر بھی بل میں 1007 یونٹ خرچ بتایا گیا۔ خرچ شدہ بجلی کے تین سلیب سے گزرنے کے بعد اسکی قیمت 16726.00 روپے درج تھی۔ جی ہاں آپ جتنی زیادہ بجلی استعمال کریں گے اس کے نرخوں میں اضافہ ہوتا رہے گا۔ حالانکہ ازروئے انصاف بجلی کے زیادہ استعمال پر اس کے نرخ کم ہونا چاہئیں۔ جیسے شنید ہے باہر کے ملکوں میں ہوتاہے ۔ ہمارے ہاں الٹی گنگا بہتی ہے۔ زیادہ بجلی خرچ پر آپ کے گلے میں پھندا مزید سخت کردیا جائے گا۔ چونکہ صارف کے جسم سے مزید خون نچوڑنے کی گنجائش ہوتی ہے چنانچہ اس میں سرچارج بھی شامل کردیا جاتا ہے۔ اب آپ سے 17017.270 روپے وصول کئے جائیں گے۔ لوڈشیڈنگ کے عذاب سے بچنے کے لئے لوگ یو پی ایس کا استعمال کرتے ہیں۔ یہ آلہ چونکہ روزانہ طویل لوڈشیڈنگ میں استعمال کے قابل نہیں رہتا تو صاحب استطاعت لوگوں نے اس کے علاوہ جنریٹر بھی خرید رکھے ہیں جو ڈیزل اور پٹرول سے چلانے کے لئے ڈیزائن کئے جاتے ہیں۔ محدود آمدنی کے صارفین کے لئے چونکہ یہ ممکن نہیں ہوتا تو جنریٹر کو گیس سے استعمال کرتے ہیں۔ لوڈشیڈنگ کے دوران جب ہر دوسرے گھر میںجنریٹر کے لئے گیس استعمال ہونے لگے اور ہر فرلانگ پر قائم سی این جی سٹیشن کو بھی گیس سپلائی ضروری ہو۔ بتاتے چلیں ہم کو آج تک یہ معلوم نہ ہوسکا کہ حکومت نے ہر فرلانگ پر ایک سی این جی سٹیشن قائم کرنے کی اجازت کس قانون کے تحت دے رکھی ہے اور یہ گیس پبلک ٹرانسپورٹ کو کیوں دی جاتی ہے۔ اس بارے میں عجیب و غریب کہانیاں کسی دوسری نشست میں پیش کریں گے۔ بتانا یہ چاہتے تھے کہ لوڈشیڈنگ میں گھریلو صارفین کو گیس کی سپلائی یکلخت بند کردی جاتی ہے اور چولہے تک ٹھنڈے پڑ جاتے ہیں۔ گھروں میں ضعیف العمر افراد شیر خوار بچوں اور مریضوں کو 40 درجہ سنٹی گریڈ گرمی میں زندہ رکھنے کے لئے یہ طریقے استعمال کئے جاتے ہیں کہ اسکے علاوہ کوئی دوسرا چارہ نہیں ہوتا۔ یہ شہری علاقوں میں رہائش پذیر صاحب استطاعت لوگوں کا ہم ذکر کر رہے ہیں۔ دیہات میں رہنے والی نئی نسل کو تو یہ بھی معلوم نہیں کہ بجلی نام کی بھی کوئی چیز تھی جسے ہمارے آبا و اجداد استعمال کرتے تھے۔ لوڈشیڈنگ کے نتیجے میں یو پی ایس ' جنریٹر اور سولر انرجی کا کاروبار کرنے والی جس نئی مافیا نے جنم لیا کیا وہ لوڈشیڈنگ کو ختم کرنے کا خطرہ مول لے سکتی ہے۔ ہر گز نہیں۔ ہم پورے دعوے سے کہہ سکتے ہیں کہ موجودہ صورتحال میں آئندہ پچاس سالوں میں بھی لوڈشیڈنگ کے خاتمے کے دور دور تک کوئی آثار نظر نہیں آتے۔ وہ اس لئے بھی کہ وڑوکی سے لے کر بڑے سلیمان تک سب لوگ پانامہ کی گتھیاں سلجھانے میں لگے ہوئے ہیں۔ مشرق کے کارٹونسٹ نے بجا طور پر بجلی اور پانی کے وفاقی وزیر کے کارٹون کو بھونپو میں یہ اعلان کرتے دکھایا گیا ہے۔ اوئے گائوں والو! خواجہ پانامے میں بزی ہے اس لئے مہربانی کرکے بجلی کو بھول جائو۔ بلکہ ہم تو کہتے ہیں ہمیشہ کے لئے بھول جائو۔

متعلقہ خبریں