Daily Mashriq


عمران خان کا امتحان

عمران خان کا امتحان

انتخابات میں مرکز اور خیبر پختونخوا میں سب سے زیادہ نشستیں لینے اور سب سے بڑے صوبے پنجاب میں حکومت سازی کی پوزیشن میں آنے والی جماعت پاکستان تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان نے کہا ہے کہ حالیہ عام انتخابات میں جن جن حلقوں کے بارے میں الزامات لگائے جائیں گے کہ وہاں دھاندلی ہوئی ہے وہاں وہ ان کے ساتھ تحقیقات کے لیے تیار ہیں۔اپنے روایتی لب و لہجہ کے برعکس دھیمے اور متین انداز میں الفاظ کے چنائو میں احتیاط کے ساتھ اپنے خطاب میں عمران خان نے کہا کہ احتساب کا عمل مجھ سے شروع کیا جائے گا۔ قانون کی بالا دستی ہو گی۔تحریک انصاف کے قائد نے اپنے جیت کے پیغام میں قوم کو تقریباً ان تمام بنیادی مسائل اور مشکلات سے نمٹنے کا یقین دلایا جو اب تک لاینحل چلے آرہے تھے ۔ انہوں نے قوم سے اس عزم کا اظہار کیا ہے کہ وہ اور ان کی جماعت کی حکومت اپنے وعدے پورا کرنے کے لئے ہر ممکن اقدام کرے گی۔ عمران خان کی کامیابی کی تقریر کے لفظ لفظ سے اختلاف کی گنجائش نہیں سوائے اس کے کہ خواہ وہ آمر وقت ہو یا جمہوری حکمران ہر دو کی پہلی تقریر کم و بیش ایک جیسی ہی ہوتی ہے جیت اور کامیابی سے سرشار وقت میں جن زریں خیالات کااظہار کیا جاتا ہے ان پرعملدرآمد کا وقت آتا ہے تو محسوس ہوتا ہے کہ جذبات میں کچھ زیادہ ہی کہہ گئے تھے۔ مکین اڈیالہ بندی خانہ اور تین مرتبہ وزیر اعظم رہنے والے نواز شریف نے بھی کامیابی کی تقریر میں عوام سے اس سے ملتے جلتے وعدے کئے تھے مگر آج ان کو اپنی دولت کاحساب دینے میں تامل ہے۔ متوقع وزیر اعظم عمران خان نے جن خیالات کا اظہار کیا ہے اس حوالے سے بد گمانی گناہ کے زمرے میں آئے گی حالات و واقعات کے تناظر میں اس کامحتاط جائزہ لیا جائے تو یہ بات سامنے آتی ہے کہ عمران خان کی اولین تقریر اور قوم سے کئے گئے ان کے وعدے اور ان کے خیالات کسی بڑے چیلنج سے کم نہیں۔ عمران خان نے احتساب کے عمل کے لئے سب سے پہلے اپنے آپ کو پیش کرکے احسن قدم اٹھایا ہے لیکن وہ کسی عوامی عہدے پر نہیں رہے ہیں اگر ان کے حوالے سے کوئی بھول چوک متوقع بھی ہے تو وہ ٹیکس ریٹرنز یا بنی گالہ کے گھر کی تعمیر میں قواعد و ضوابط کی خلاف ورزی یا زیادہ سے زیادہ خیبر پختونخوا حکومت کے سرکاری ہیلی کاپٹر کا ناجائز استعمال جیسے سطحی قسم کے معاملات ہی ہوسکتے ہیں البتہ عمران خان اگر خیبر پختونخوا میں تحریک انصاف کی پانچ سالہ حکومت میں ہونے والے معاملات کا حقیقی اور اعتراضات سے بالا تر احتساب سے شروع کرنا چاہیں تو یہ حقیقی احتساب کا مظہر ہوگا۔ اس امر کا بھی جائزہ لینے کی ضرورت ہوگی کہ صوبائی احتساب کمیشن کو فعال بنانے کی بجائے عضو معطل بنا کر کیوں رکھا گیا۔ بی آر ٹی کے معاملات کی چھان بین میں عدم مداخلت بھی ایک اچھی ابتدا ہوگی۔ ایک راسخ العقیدہ مسلمان کا حقیقی عقیدہ اور نظریہ مدینہ والی فلاحی ریاست اور خلافت راشدہ کے طرز کی نہ سہی اس کی کمزور ترین نقل کی ریاست کا قیام ہے جس کے تحریک انصاف کے قائد بھی متمنی ہیں اس کے باوجود کہ اس قسم کی ریاست کے قیام اور اس کو چلانے کے لئے اس قسم کے حکمران اور عمال اس پوری دنیا میں میسر آسکتے ہیں یا نہیں کے سوال سے قطع نظر اس قسم کی ریاست کا قیام اپنی جگہ اگر خلوص کے ساتھ اس قسم کی ریاست کے قیام کے لئے عمران خان اگر پہلا قدم بھی اٹھاتے ہیں تو یہ بڑا مبارک اور ملک کی قسمت کے لئے سعد ہوگا۔ معروضی حالات میں اس کی تمنا اور دعا ہی کی جاسکتی ہے۔ اس قسم کی ریاست کے لئے اگر ابتدائی کوششیں شروع کی جائیں تو ان تمام باقی معاملات کی ضرورت ہی نہیں پڑے گی جس کا عمران خان نے اپنی تقریر میں حوالہ دیا ہے۔ بہر حال عمران خان نے نئے پاکستان کیلئے نئے وعدے کئے ہیں جس میں سرفہرست یہ ہیں کہ ملک میں ایسی حکومت آئے گی جس میں کسی کو سیاسی انتقام کا نشانہ نہیں بنایا جائے گا۔تحریک انصاف کی حکومت اداروں کو مضبوط کرے گی۔تمام لوگوں کے لیے مساوی قانون بنایا جائے گا۔صرف اپوزیشن جماعتوں کے اراکین کا احتساب نہیں ہوگا، بلکہ پی ٹی آئی اپنے لوگوں کا بھی احتساب کرکے مثال قائم کرے گی۔ملکی نظام بہتر کرنے کے بعد بیرونِ ملک پاکستانیوں کو ملک میں سرمایہ کاری کرنے کی دعوت دی جائے گی۔وزیر اعظم ہائوس کو تعلیمی مقاصد کے لیے استعمال کیا جائے گا۔چھوٹے کاروبار میں مدد کی جائے گی اور نوجوانوں کو ہنر سکھایا جائے گا۔اپنی حکومت میں چین کے ساتھ اپنی دوستی کو مزید مضبوط کریں گے۔پاکستان کے عوام ملک میں ایک مختلف قسم کی حکومت دیکھیں گے۔ملک کے تمام طبقوں کے ساتھ کھڑے ہوں گے۔ہم سمجھتے ہیں کہ عمران خان بائیس سال کی جس طویل جدوجہد بلکہ مشکلات اور ناخوشگوار حالات سے گزر کر آج جس منزل پر پہنچے ہیں وہ اپنی جگہ ان کا اس قوم نے خاص طور پر نوجوانوں نے جس امید پر دیوانہ وار ان کا ساتھ دیا ہے ان کی امیدوں پر مکمل طور پر پورا اترنے کے لئے وسائل اور دیگر معاملات کی کٹھن حقیقت سے ہر کوئی واقف ہے لیکن تحریک انصاف کے قائد حتی المقدور کوشش اور ملک و قوم اور خاص طور پر تبدیلی اور نیا پاکستان ایک ایسا نیا پاکستان جس میں انصاف عدل مساوی مواقع ملکی وسائل کا خواص کی بجائے عوام کے لئے استعمال اور اس کے لئے دن رات ایک کردینا حکمران جماعت کے قائد اور ملک کے متوقع وزیر اعظم کا اولین فریضہ اور ذمہ داری ہے۔ عمران خان اپنی سوچ نظریے اور دعوئوں میں کس حد تک مخلص اور حقیقت پسندانہ طرز عمل اختیار کرتے ہیں اس کی سب سے پہلی کسوٹی حکومت سازی کے وقت اراکین دولت کاانتخاب ہے۔ وفاقی کابینہ میں وہ کس قسم کے افراد کا چنائو کرتے ہیں اپنے ارد گرد کن لوگوں کو رکھتے ہیں‘ صوبائی حکومتوں کے قائدین کس قسم کے افراد کو چنتے ہیں اور حکومت کیسے چلائی جاتی ہے اسے دیکھ کر بخوبی اندازہ ہو جائے گا کہ تحریک انصاف کے قائد اپنے ایجنڈے اور منشور پر سنجیدگی سے عمل درآمد کے خواہاں ہیں یا نہیں۔ ہم سمجھتے ہیں کہ عمران خان حزب اختلاف سے بھی معاملات طے کر پائیں گے اپنے پیشرو پر بھارت سے تعلقات بہتر بنانے پر الزامات لگانے کے باوجود بھارت سے بھی تعلقات بہتر بنانے کی سعی کریں گے ‘ امریکہ سے بھی اپنے نظریات اور دعوئوں کے مطابق معاملت کی سعی ان کے لئے ناممکن نہیں ہوگی۔ ایران اور افغانستان سے بہتر تعلقات کی بھی کوشش کر پائیں گے۔ معیشت اور اقتصاد کا پہاڑ بھی سر کرنے کی کوشش کریں گے لیکن اگر وہ حقیقی اور بلا امتیاز احتساب نہ کر پائیں ‘ عوام کو انصاف کی فراہمی میں شکایات رہیں ‘ اہلیت ‘ معیار اور دیانت کو اولیت نہ دے پائے تو ان کا اقتدار پیشروئوں سے مختلف نہیں کہلائے گا اور نئے پاکستان کے جس خواب کی تعبیر کے لئے نوجوانوں نے ان کا جو ساتھ دیا تھا خدانخواستہ ان کا خواب بکھر جائے گا اور وہ مایوسیوں کا شکار ہو کر انتہا پسندی کی طرف مائل ہوں گے۔ عمران خان کے لئے ہی نہیں اقتدار کسی کے لئے بھی پھولوں کی سیج نہیں ہوتی کانٹوں کا تاج ہوتا ہے سوائے ان کے لئے جن کو ملک و قوم کی بجائے ذات عزیز ہو۔

متعلقہ خبریں