Daily Mashriq


خیبر پختونخوا کے عوام کی نئی حکومت سے توقعات

خیبر پختونخوا کے عوام کی نئی حکومت سے توقعات

صوبائی اسمبلی کی 68اور قومی اسمبلی کی 39سیٹوں پر کامیابی کے بعد تحریک انصاف کی حکومت کی بنیاد اگر خیبر پختونخوا میں رکھے جانے سے لے کر وزارت عظمیٰ کی کرسی تک رسائی تک یہاں کے عوام کی بھرپور حمایت کو قرار دیاجائے تو غلط نہ ہوگا۔ خیبر پختونخوا میں پاکستان تحریک انصاف ہی وہ خوش قسمت جماعت نکلی جسے یہاں کے عوام نے نہ صرف دوسری بار منتخب کیا بلکہ دوسری بار پہلے سے زائد اکثریت اور یک جماعتی حکومت کے قیام کا بھی موقع دیا حالانکہ مدت اقتدار پوری کرکے رخصت ہونے والی جماعت سے شکوہ و شکایات کا ہونا معمول کی بات ہے۔ خیبر پختونخوا میں تحریک انصاف کی صوبائی حکومت سے جو توقعات وابستہ تھیں ان پر پورا نہ اترنے کا خود تحریک انصاف کی قیادت کو بھی اعتراف اور ادراک ہوگا۔ شاید یہی وجہ ہے کہ پارٹی قائد عمران خان نے الیکشن مہم کے دوران صوبائی دارالحکومت میں انتخابی مہم میں شرکت کو ضروری نہ سمجھا۔ بی آر ٹی کی عدم تکمیل یقینا پی ٹی آئی کے لئے کوئی خوشگوار امر نہ تھا اس کے باوجود ان کے تمام کے تمام امیدواروں پر اعتماد کا اظہار کیاگیا۔ اس تناظر میں اب خیبر پختونخوا اور خاص طور پر صوبائی دارالحکومت پشاور کے عوام کی تحریک انصاف سے توقعات سے بڑھ کر مسائل کے حل کی توقع غیر حقیقت پسندانہ نہ ہوگی۔ ہم سمجھتے ہیں کہ پی ٹی آئی کی حکومت کی اولین ترجیح بی آر ٹی کے منصوبے کی تکمیل ہونی چاہئے۔ یہ کہنا بے جا نہ ہوگا کہ بی آر ٹی کی تکمیل نہ صرف صوبے میں تبدیلی کی ایک بڑی علامت ہوگی بلکہ اسے نئے پاکستان سے بھی تعبیر کیا جائے گا جہاں کے عوام کو سفر کی بہتر سہولت مل گئی ہو۔ سوات ایکسپریس وے کی تعمیر اور حسب وعدہ دسمبر2018ء میں اسی کا افتتاح ایک اور سنگ میل ہوگا جس سے ملاکنڈ ڈویژن کے عوام اور سیاحت کو بالخصوص اور من حیث المجموع علاقے کی ترقی اور عوام کی سہولت کے لئے یہ اہم منصوبہ ہے۔ صوبائی دارالحکومت میں بی آر ٹی کی تکمیل کے بعد شہر کی مرکزی سڑک جو بی آر ٹی کے منصوبے کی وجہ سے خراب ہونے کے بعد نیم پختہ کی جا چکی ہے اس کی معیاری تعمیر و مرمت ترجیحی بنیادوں پر کی جائے۔ پشاور سمیت صوبے کے بڑے شہروں میں صفائی کی صورتحال پر توجہ دینی ہوگی۔ صحت‘ تعلیم‘ مواصلات‘ ہسپتالوں اور تعلیمی اداروں کی بہتری اور خاص طور پر روزگار کے مواقع جیسے دیگر ضروری کام یقینا نئی حکومت کی اولین ترجیحات میں شامل ہوں گی۔ صوبے کے عوام نے اجماع کی صورت میں مرکز میں حکومت بنانے والی جماعت پر جس قدر اعتماد کا اظہار کیا ہے اس کا تقاضا ہے کہ وفاقی حکومت بجلی کی پیداوار کے منافع میں صوبے کا واجب الادا حصہ ابتدائی تین ماہ میں ادا کرے اور کتنا بھی ممکن ہوسکے صوبے کے عوام کے مسائل کے حل کو یقینی بنایا جائے۔ صوبے میں ضم ہونے والے قبائلی اضلاع کے لئے خصوصی پیکج دیا جائے اور صوبے کے تمام پسماندہ علاقوں کی حالت زار میں بہتری لانے پر خاص طور پر توجہ دی جائے۔ صوبے کے عوام کو بجا طور پر توقع ہے کہ موجودہ حکومت ماضی میں خیبر پختونخوا کے ساتھ ہونے والی نا انصافیوں کا ازالہ کرے گی اور عوام کو ان کا حق ملے گا۔

متعلقہ خبریں