Daily Mashriq


ماحول سازی کی دھاندلی ؟

ماحول سازی کی دھاندلی ؟

انتخابی نتائج نے منظر بڑی حد تک واضح کر دیا ہے ۔مرکز میں تحریک انصاف جوڑ توڑ کے ساتھ حکومت سازی کی پوزیشن میں آئے گی ۔پنجاب میں انیس بیس کے فرق کے ساتھ مسلم لیگ ن ،سندھ میں واضح اکثریت کے ساتھ پیپلزپارٹی اور خیبر پختون خوا میں پی ٹی آئی نے میدان مار لیا ہے۔انتخابات کا عمل ابھی جاری ہی تھا کہ کچھ جماعتوں نے احتجاج اور استرداد کے لئے بنیادیں رکھنا شروع کر دی تھیں بلکہ یہ کہا جائے تو بے جا نہ ہوگا کہ انتخابی مہم کے دوران ہی انتخابی عمل کو شکوک وشبہات کا شکار کیا جانے لگا تھا اور بعدمیں اسی موقف کی جگالی عالمی میڈیا بھی کر تا چلا جاتا تھا ۔انتخابی مہم کے دوران ہی احتجاج کے لئے گرینڈ الائنس تشکیل دینے ،مشترکہ ٹرک سجانے اور میثاق جمہوریت کو دوبارہ زندہ کرنے کی باتیں دھیمے سُروں میں ہونے لگی تھیں ۔صاف دکھائی دے رہا تھا کہ ہارنے والی جماعتوں نے اس بار انتخابی نتائج کو تسلیم نہ کرنے کا ذہن بنا رکھا ہے ۔اس کے برعکس عمران خان نے پہلے ہی کہہ دیا تھا کہ مسلم لیگ ن اور پیپلزپارٹی سے مل کر حکومت بنانے کی بجائے وہ اپوزیشن میں بیٹھنے کو ترجیح دیں گے۔انہوں نے معلق پارلیمنٹ کو ملک کی بدقسمتی قرار دیا تھا ۔الیکشن کمیشن کی ناقص کارکردگی نے سیاسی جماعتوں کے موقف کوتقویت دینے میں اہم کردار ادا کیا ۔سیاسی جماعتوں میں الیکشن سے پہلے ایک فریق کی جیت کا ’ ’ماحول ‘‘بنانے کی چہ می گوئیاں جا ری تھیں اور میڈیا بھی ایسی رپورٹس پیش کر رہا تھا مگر پاکستان کی سیاست میں ماحول سازی کوئی نیا عمل نہیں ۔ہر دور میں کوئی ایک فریق خود یا کسی فریق کے حق میں کوئی نادیدہ طاقت ماحول سازی کرتی رہی ہے ۔ ایک زمانہ تھا جب انتخابات سے کچھ عرصہ پہلے امریکہ کا سفیر کسی بڑی سیاسی جماعت کے دفتر کادور ہ کرتا یا اس جماعت کا کوئی اہم راہنما امریکی سفارت خانے کا چکر لگاتا یوں یہ پیغام نیچے سے اوپر تک پہنچ جاتا کہ پاکستان میں کنگ میکر امریکہ نے فلاں شخصیت اور جماعت کے سر پر دست ِشفقت رکھنے کا فیصلہ کر لیا ہے جس کے ساتھ ہی پاکستان کی اسٹیبلشمنٹ سمیت تمام اداروں کا موڈ بدل جاتا اور اس کا فطری اثر رائے عامہ پر بھی پڑتا اور لوگ جیتنے والے گھوڑے کے سحر میں مبتلا ہوتے ۔رفتہ رفتہ پاکستان اورامریکہ کے تعلقات میں خرابی در آتی چلی گئی اور اس بدلی ہوئی صورت حال نے تعلقات کی اس نوعیت کو بھی زک پہنچائی۔ جب پرویز مشرف کے دور میں پیپلزپارٹی اور جنرل مشرف کے درمیان دوبئی میں مذاکرات کا آغاز ہوا تو یہ ماحول سازی ہی تھی ۔پیپلزپارٹی کے مرحوم راہنما جہانگیر بدر اسے مذاکرات نہیں بلکہ ڈائیلاگ کہنے پر اصرار کر کے بحث کا رخ موڑنے کی کوشش کرتے رہتے تھے ۔بعدمیں اسلام آباد کے تفریحی مقام پیر سوہاوہ میں جنرل مشرف اور مخدوم امین فہیم کے درمیان ملاقات ماحول سازی کی طرف اہم قدم ثابت ہوئی ۔گوکہ ماحول مخدوم امین فہیم کے لئے نہ بن سکا مگر بطور مجموعی پیپلز پارٹی کے لئے بنتا چلا گیا ۔ مرغانِ بادنما جنہیں جدید لغت میں’’ الیکٹیبلز‘‘ کا نام دیا گیاہے ،نے ان مذاکرات وملاقاتوں کے بعد ہی جوق در جوق پیپلزپارٹی کے خیمے کا رخ کرلیا تھا ۔بعد میں یہی کہانی کچھ مختلف انداز سے دہرائی گئی اور مرغان بادنما نے اسلام آباد میں نصب بادپیما کو دیکھ کرمسلم لیگ ن کا رخ کر لیا تھا۔ عمران خان نے اسے بھی ماحول سازی قرار دیا تھا ۔فرق صر ف یہ ہے کہ اس بارہوائیں اور فضائیں تحریک انصاف کی طرف چل رہی تھیں اور یوں ہوا کے دوش پر سیاسی سفر کرنے والوں نے پی ٹی آئی کا رخ کرلیا ۔سیکورٹی خدشات کے باوجود تمام سیاسی جماعتوں نے جم کر انتخابی مہم چلائی مگر الیکشن کے دن مختلف سیاسی جماعتوں نے پولنگ ایجنٹس کو زبردستی باہر نکالنے اور فارم پینتالیس فراہم نہ کرنے اور انتخابی نتائج روکنے کیوجہ سے انتخابی عمل کو مشکوک قرار دیا ۔مسلم لیگ ن کے صدر شہباز شریف نے لمحوں کی تاخیر کئے بغیر انتخابی نتائج کو مسترد کردیا ۔افسوسناک بات یہ انتخابی نتائج دینے کا نظام آر ٹی ایس جس کا پہلی بار تجربہ کیا جا رہا تھا بیٹھ گیا جس کی وجہ سے سارا سسٹم جام ہو گیا ۔الیکشن کمیشن کی اس نااہلی اور سیاسی جماعتوں کے اعتراضات کی جانچ ہونا ضروری ہے اگر اس میں کوئی سازش ہے تب بھی اس کی تہ تک پہنچنا چاہئے ۔اگر اہلیت کی کمی تھی تو پھر اس گورکھ دھندے کی ضرورت ہی نہیں تھی اور اگر یہ جدید طریقہ اپنانا لازمی تھا تو بھی اس کی ریہرسل پہلے کی جانی چاہئے تھی ۔انتخابات کا انعقاد ہو چکا اور اب حکومت سازی کے مراحل شروع ہونے ہیں ۔ عمران خان نے دھاندلی کی شکایت پر کوئی بھی حلقہ کھولنے کا اعلان کیا ہے مگر بہت ہی اچھا ہو کہ سیاسی جماعتوں کے اعتراضات اور تحفظات کا جائزہ لینے کے لئے ایک کمیشن قائم کیا جائے اور خود سیاسی جماعتیں اب وہیکنٹینر سجانے سے گریز کریں جس پر وہ چار سال پہلے شدید تنقید کرتی چلی آئی ہیں ۔ اس کنٹینر پر سوار ہونے سے پہلے ہی میڈیا پانچ سال پہلے والے بیانات کی ویڈیو کلپس چلانا شروع کرے گا ۔یہ خود ان جماعتوں بالخصوص مسلم لیگ ن اور پیپلزپارٹی کے لئے مشکل مقام اور مرحلہ ہوگا جو عمران خان کو سڑکوں پر میلہ سجانے کی بجائے پارلیمنٹ میں لوٹ آنے کی دعوت دیا کرتے تھے ۔ملک کو استحکام کی جتنی ضرورت آج ہے شاید ہی پہلے کبھی تھی ۔ اگر کنٹینر سواروں کے پیچھے بھی کوئی ہو جیسا کہ عمران خان پر الزام عائد کیا جاتا رہا تب بھی اس کا کامیاب ہونا ضروری نہیں ہوتا اور جب کوئی پس پردہ بھی نہ ہوتو کنٹینر کا دور تک چلتے چلے جانا اور دیر تک سجے رہنا بھی ممکن نہیں ہوتا۔اس لئے ملک کو معاشی بحران سے نکالنے کے لئے سیاسی جماعتوں کو افہام وتفہیم کا راستہ اختیار کرنا چاہئے مگر افہام وتفہیم کا مطلب ہرگز’’ مک مکا ‘‘کی سیاست اور قانون کی حکمرانی پر سمجھوتہ نہیں ہونا چاہئے ۔بطور اپوزیشن سیاسی جماعتوں کا رول حکومت کا قبلہ درست رکھنے میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔

متعلقہ خبریں