Daily Mashriq


مجھے اقتدار کی ہوس نہیں !

مجھے اقتدار کی ہوس نہیں !

پاکستانی قوم اس وقت سخت ذہنی و فکری انتشار کی شکار ہے ۔ اس میں سب سے بڑا ہاتھ سیاستدانوں کا ہے ۔ کیونکہ ستر برسوں میں بھی ہم اُس نسل کو جو قیام پاکستان کے بعد پیدا ہوئی ، ستر اسی فیصد کو بھی خواندہ نہ بنا سکے ۔ قیام پاکستان کے بعد کی دوسری نسل بھی اس کے باوجود اس زمانے میں دنیا کہاں سے کہاں نکل گئی ہماری شرح خواندگی کھینچ تان کر پچاس پچپن سے آگے نہ بڑھ سکی ۔ ان پڑھ اور نیم خواندہ عوام کبھی بھی اس قابل نہیں رہتی کہ ووٹ کا صحیح استعمال کیسے کیا جائے ۔ ہمارے روایتی اور موروثی سیاستدان جن میں سردار ، وڈیرے ، جاگیردار ، خوانین ، چودھری اور دیگر پیدائشی ، بڑے کبھی یہ نہیں چاہتے کہ پاکستان کی عوام تعلیم حاصل کر کے باشعور ہوجائے اور آزادانہ اور خود مختارانہ انداز میں ووٹ کا استعمال کر کے آزاد زندگی گزارے ۔ حکومت پاکستان بہر حال کوشش کرتی رہی ہے کہ دور دراز دیہاتوں میں کم از کم پرائمری تا سیکنڈری سکول قائم کر کے لوگوں کو ابتدائی تعلیم سے بہرہ ور کیا جا سکے ۔ لیکن وہاں کے وڈیروں اور جاگیر داروں کی یہ عادت کون تبدیل کر سکتا ہے کہ سکول کی عمارتوں پر قبضہ کرکے وہاں اپنی بھینس اور دیگر ڈور ڈنگر سمائیں ۔ سندھ اور پنجاب کے جاگیر دار اور وڈیرے و چودھری تو اتنے جابر اور بالا دست ہوتے ہیں کہ سرکاری عمارتوں کو اپنے شادی بیاہ کے پروگراموں کے لئے کئی دن تک زیر استعمال رکھتے ہیں ۔ سندھ میں ایک مشہور سیاستدان نے شاید پچھلے برس ایئر پورٹ کے لائونج کو اپنے بیٹے کی شادی کی تقریب کے لئے بطور شادی ہال استعمال کیا تھا ۔

چونکہ عوام تعلیم یافتہ نہیں لہٰذا ہمیشہ غربت اُن کا احاطہ کئے ہوتی ہے ۔ اوروہ اپنے ان علاقائی جاگیرداروں کی بچی کھچی اور اُترن کے ہمیشہ محتاج رہتے ہیں ۔ پوری زندگی ان کی کھیتوں گھروں اور کارخانوں میں قوت لایموت Hand to mouthرہ کر زندگی کے دن پورے کرتے ہیں اور جب کبھی انتخابات کے دن آتے ہیں تو ان ’’بڑوں ‘‘ کے لئے جوق در جوق جا کر ووٹ ڈال آتے ہیں ۔

ان سب کے باوجود ہمارے سارے سیاستدان جب انتخابی جلسوں میں ان بے چاروںسے خطاب کرتے ہیں تو یہ بات سب حیرانگی کی حد تک مشترک طور پر کہتے ہیں کہ ’’مجھے اقتدار کی ہوس نہیں ‘‘ میں تو آپ لوگوں کے مسائل کو حل کرنے کے لئے نکلا ہوں ۔ ورنہ مجھے تو اللہ نے سب کچھ دیا ہے۔( حالانکہ اس سب کچھ دئیے میں ان غریب عوام کا خون پسینہ شامل ہوتا ہے) اور اس گرمی اور حبس میں یہ سیاستدان جس انداز سے اپنا پسینہ بہا رہے ہوتے ہیں‘ کیا کوئی قرآن کریم پر با وضو ہو کر ہاتھ رکھ کر کہہ سکتا ہے کہ وہ واقعی بے چارے غریب عوام کے لئے یہ سب کچھ برداشت کر رہا ہے۔ قطعاً نہیں۔ اگر ایسا ہوتا تو کیا سندھ اور پنجاب میں گزشتہ دس برسوں سے ایک ہی پارٹی کی مسلسل حکومتوں کے طفیل وہاں کے غریب عوام کو بجلی‘ پانی گیس اور تعلیم و صحت کی سہولیات بلا کم و کاست میسر نہ آئی ہوتیں؟۔ کیا تھرپارکر میں زچہ و بچہ کی بالخصوص خوراک اور ابتدائی طبی سہولیات کے فقدان کے سبب مرنے کی شرح افریقہ کے پسماندہ ملکوں کے برابر ہوتی۔

پنجاب اور کے پی کا حال بھی اگرچہ کچھ زیادہ اچھا نہیں لیکن ان دو صوبوں کے مقابلے میں کچھ تھوڑا بہت بہتر دکھائی دیتا ہے۔ بحیثیت مجموعی پورا پاکستان اس وقت جنوبی ایشیاء میں ان سیاستدانوں کی کرپشن‘ انتظامی امور میں نالائقی‘ اقربا پروری اور دیگر بہت ساری وجوہات کے سبب سب سے پسماندہ رہنے والا ملک بن گیا ہے۔ حالانکہ 60ء کے عشرے میں ان سب سے آگے تھا۔ یہاں یہ بات بھی عرض کردوں کہ کرپشن اور بد انتظامی میں صرف سیاستدان ملوث نہیں ‘ مارشل لاء‘ ایڈ منسٹریٹرزاور عدلیہ کے بعض ججز بھی برابر کے شریک ہیں۔ لیکن سیاستدانوں پر دہری ذمہ داری اس لئے عائد ہوتی ہے کہ یہ تو عوام کے ووٹ سے آکر حکمران بنتے ہیں اور عوام کے پاس دوبارہ بلکہ بار بار جانا پڑتا ہے اور اہم بات یہ کہ چاروں صوبوں میں وزرائے اعلیٰ اوز وزراء اپنی اقوام اور قبائل و برادری کے نمائندے ہوتے ہیں اور اپنا ہی علاقہ اور صوبہ ہوتا ہے حالانکہ ویسے تو پورا پاکستان سب کو اپنے صوبے ہی کی طرح عزیز ہونا چاہئے لیکن پھر بھی جنم بھومی سے ایک فطری لگائو بھی تو ہوتا ہے اس لئے سخت حیرانگی کی بات ہوتی ہے کہ یہ سنگدل سیاستدان کس ہمت کے ساتھ غریب عوام کا حق اپنے اور اپنی نسلوں کی تجوریوں میں محفوظ کرکے عوام کو ٹیکسوں اور قرضوں کے بوجھ تلے کراہنے اور چیخ و پکار اور آہ و فریاد پر مجبور کرلیتے ہیں اور یہ مخلص غریب عوام ان کی ایک جھلک دیکھنے‘ ہاتھ چومنے اور ہاتھ ملانے کے لئے ان سیاستدانوں کی جھڑکیاں اور تھپڑ بھی برداشت کرتے ہیں۔ روا روی اور مجبوری کے تحت ووٹ کے دنوں میں ان کمی کمینوں اور میلے کچیلوں سے جب یہ ہاتھ کی دو تین انگلیاں ملا بھی لیتے ہیں تو معلوم نہیں فرصت ملتے ہی کتنا جلدی کس اعلیٰ اینٹی جرمز (Anti germs) سے دھوتے ہوں گے۔ پھر بھی نعرہ اور سلوگن یہی کہ ’’ ہمیں اقتدار کی ہوس نہیں‘‘ حالانکہ ہوس کیوں نہیں۔ اقتدار میں جو مزے‘ ٹھرا پھرا‘ پھوں پھاں‘ ہٹو بچو‘ باآدب با ملاحظہ ہوشیار۔ پورا پاکستان ان کی مٹھی میں اور یہ سیاہ و سفید کے مالک ان ہی غریب عوام کے ووٹ سے۔ لیکن اب شاید صورتحال بدل رہی ہے یا تو غریب عوام کو ان کا حق دینا ہوگا اور سیاستدانوں کو حقیقی معنوں میں خادم بننا پڑے گا یا پھر نشست خالی کرنا پڑے گی۔

متعلقہ خبریں