Daily Mashriq


عوام کی مرضی یہی ہے

عوام کی مرضی یہی ہے

سکندر اعظم نے کہا تھا کہ ’’ میں شیروں کی ایک فوج سے خوفزدہ نہیں ہوں جس کی رہنما ایک بکری ہو۔ میں بکریوں کی فوج سے خوفزدہ ہوں جس کی قیادت ایک شیر کر رہا ہو۔‘‘ عمران خان کی تقریر سننے کے بعد سکندر اعظم کا یہ قول مجھے پھر یاد آگیا۔ اور اگر اس قول کے محاوری مطلب کو ایک لمحے کے لئے پس پشت ڈال د وں اور صرف بظاہر معنوی مطلب کو ذہن میں رکھوں اور پاکستان کی موجودہ انتخابی صورتحال پر اس قول کے لغوی معنی کا اطلاق کروں تو بھی صورتحال میں کوئی ایسی تبدیلی محسوس نہیں ہوتی۔ مسلم لیگ(ن) کی کیفیت تو شاید ایسی نہ ہو کہ وہ شیروں کی فوج ہو ہاں البتہ ان کی قیادت بکری نے ہی کی۔ اور اب بھی صورتحال کچھ ایسی ہی ہونے والی ہے ایک فوج ہوگی جس کی قیادت ایک شیر کر رہا ہوگا اور اللہ کرے کہ اب کی بار یہ سب پاکستان کے لئے‘ اس کی آنے والی نسلوں کے لئے بہترین ثابت ہو۔ مولانا فضل الرحمن آل پارٹیز کانفرنس بلائیں‘ احتجاج کا اعلان کریں‘ مسلم لیگ (ن) والے دھاندلی دھاندلی چلائیں اس سب کے باوجود میں اور آپ‘ ہم سب جو عوام ہیں جانتے ہیں یہ محسوس کرسکتے ہیں کہ انتخابات میں دھاندلی نہیں ہوئی اور ہمیں یہ بھی محسوس ہو رہا ہے کہ اپنی تمام تر مشکلات‘ سینیٹ میں مسلم لیگ(ن) اور پیپلز پارٹی کی موجودگی کے باوجود آنے والا وقت پاکستان کے لئے اچھا وقت ثابت ہوگا۔ میں نہیں جاننا چاہتی کہ مسلم لیگ(ن) والے کس کس سر میں رو رہے ہیں۔ مجھے خوشی ہے کہ کوئی سیاستدان غلام احمد بلور جیسا بھی ہے جنہوں نے کھلے دل سے اپنی شکست تسلیم کی ہے اور یہ بھی قبول کیا ہے کہ انتخابات میں کسی قسم کی دھاندلی نہیں ہوئی۔ بات صرف اسی حد تک موقوف نہیں ایک میڈیا چینل پر ایسی ہی بات فرید پراچہ کی جانب سے بھی کی گئی جن کا تعلق جماعت اسلامی سے ہے۔ انہوں نے اس بات کا اعتراف کیا کہ انہیں انتخابات میں دھاندلی ہوتی‘ ٹھپے لگتے دکھائی نہیں دئیے۔

یہ نہایت ہی افسوسناک صورتحال ہے جس میں پاکستان کی محبت کو پس پشت ڈال کر ساری سیاسی پارٹیاں عمران خان کے خلاف متحد ہوگئی ہیں۔ ان کے لئے پاکستان سے محبت یا پاکستان کا مستقبل کوئی معنی نہیں رکھتا۔ ان کے لئے خود اپنے ہی کردار کو تسلیم کرنا ممکن نہیں۔ کاش کوئی سچائی کا ایسا آئینہ ہوتا جس میں یہ لوگ نہ صرف اپنا چہرہ دیکھ سکتے بلکہ انہیں اس سچائی کا مکمل ادراک ہوتا کہ یہ ہی ان کی اصل صورت ہے۔ وہ صورت جو لوگوں کو دکھائی دیتی ہے اور ان انتخابات میں تو لوگوں نے یہ اظہار بھی کیا ہے کہ انہیں سب کچھ دکھائی دینے لگا ہے۔ وگرنہ یہ کیسے ہوتا کہ مولانا فضل الرحمن دونوں ہی نشستوں سے ہار جاتے۔ اکرم درانی بھی کامیاب نہ ہوسکے۔ مولانا فضل الرحمن تو اپنے ساتھ جماعت اسلامی کو بھی لے ڈوبے۔ جناب سراج الحق سے یہ ایک ایسی حکمت عملی کی غلطی ہوئی ہے جس کا خمیازہ جماعت اسلامی کو آنے والے کئی سالوں تک بھگتنا پڑے گا۔ اس وقت جبکہ اکثر ہارے ہوئے سیاستدان آنے والی حکومت کے خلاف تحریک چلانے کا ارادہ رکھتے ہیں‘ میں سمجھتی ہوں اس وقت ایسی تمام جماعتیں جو یہ جانتی ہیں کہ اس تحریک کا کوئی فائدہ ہونے والا نہیں ‘ انہیں ابھی اس سب سے علیحدہ ہوجانا چاہئے۔ کم ازکم ان کی سیاسی بالیدگی کا یہ تقاضا ہے کہ انہیں اپنے رویوں میں یہ پختگی پیدا کرنی چاہئے کہ وہ ایسی کوششوں میں شامل نہ ہوں۔ جماعت اسلامی کو بھی یہ اندازہ ہوگا کہ در اصل دھاندلی نہیں ہوئی پھر عمران خان کی جانب سے یہ کہا جانا کہ مخالف جماعتوں کو جن حلقوں میں دھاندلی کی شکایت ہوگی وہ ان حلقوں میں شکایت کرنے والوں کے ساتھ مل کر خود تفتیش کروائیں گے۔ اس کے بعد ایسی کسی بھی تحریک کا اخلاقی جواز ہی ختم ہو جاتا ہے۔ لیکن چونکہ اب کی بار واقعی لوگوں نے ووٹ کو عزت دی ہے اور ان لوگوں کو ووٹ دیا ہے جنہیں اب وہ آزمانا چاہتے ہیں۔ اور وہ جو بار بار آزمائے گئے ہیں انہیں دوبارہ آزمانا نہیں چاہتے۔ اسی لئے سیاستدانوں کو شدید جھٹکا لگا ہے۔

ان انتخابات کے بعد کم از کم عوام میں بھی یہ اعتماد پیداہوگا کہ ان حکمرانوں کی تقدیروں کا فیصلہ کرنا انہی کے ہاتھ میں ہوتا ہے۔ عمران خان کے لہجے میں مستقبل کی جو امید دکھائی دیتی ہے اس سے کل کے اندھیرے کو روشن ہونے دینا چاہئے۔ اپنی اپنی پریشانیوں کو تھپک کر سلا دینا چاہئے اور اپنی سیاست پر دھیان دینا چاہئے۔ عوام کی پسند کا نقارہ بج چکا اس کی تھاپ کو سمجھ لینے میں ہی عافیت ہے۔

متعلقہ خبریں