Daily Mashriq


انقلا ب زمانہ

انقلا ب زمانہ

یہ انقلاب زمانہ ہی تو ہے کہ عام انتخابات میںبڑے بڑے سیاسی برج زمین بوس ہوکررہ گئے۔ اس سیاسی کا یا پلٹ میں عمر ان خان کو انتہائی کٹھور امتحان سے گزرنا پڑے گا ، عوام نے عمر ان خان سے ایک ایسی آس لگائی ہے جو تحریک پاکستان کے وقت مسلما نا ن ہند کو مسلم لیگ سے تھی۔ اس امر کا احساس عمر ان خان کو بھی کر لیناچاہیے کہ ایسا انقلا ب قیا م پا کستان کے وقت ہی رونماہو اتھا۔اب کہا جا تا ہے کہ ایوب خان کے خلا ف تحریک اور بھٹو مرحوم کی الیکشن میں کا میا بی بھی ایک انقلاب تھا مگر حقیقت یہ ہے کہ جو لائی کا یہ انقلا ب اس سے بڑھ کر ہے ، تب بھی بڑے بڑے سیاسی ستون ڈھے گئے تھے مگر اس دفعہ کچھ اور ہی ہو ا ہے ، بہر حال انتخابات بھی ہوگئے اور تقریبا ًتما م سیاسی جماعتوں سوائے تحریک انصاف کے سبھی جماعتوں نے دھاندلی کا الزام عائد کیا ہے۔ اس طرح انتخابات کے نتائج بھی متنا زعہ ہو چلے ہیں۔ویسے بھی انتخابات اپنے انعقاد سے پہلے ہی متنازعہ فضا کیگمبھیر سائے میں گھرے ہو ئے تھے ، انتخابی نتائج کے بارے میں جو الزاما ت ہیں وہ نظر انداز نہیں کرنا چاہیے۔ وہ سیا سی صورت حال دھر نو ں کے موسم سے بھی زیا دہ مبہم ہو سکتی ہے ، کیو ں کہ نتائج کے دوران ہی مسلم لیگ ن نے فارم 45کی عدم دستیابی کے حوالے سے دھا ندلی کا الزام جڑا تھا اور اس کے فوری بعد پی پی سمیت دیگر چھ جما عتو ں نے بھی ایساہی الزام لگا دیا ِ ،گویا سب کو ایک ہی نو عیت کی شکایت ہوئی ۔

حزب اختلا ف کی جا نب سے موجو د ہ دھاندلی کا واویلا اور سابق انتخابات کے نتائج میں دھاندلی کی ہا ہا کار میں ایک بڑا فرق ہے ، 2013ء کے انتخابات میں کسی جا نب سے دھاندلی ، اس کے غیر شفافیت اور جانبداری کے الزاما ت نہیں لگے تھے ، خود عمر ان خان نے نتائج کو قبول کیا تھا ، بلکہ تحریک انصاف کی جانب سے جیتنے والو ںکو مبارک با د دی گئی تھی ، میا ں نواز شریف نے کا میابی کے بعد ان سے عیا دت کے حوالے سے ملا قا ت کے دوران باہمی تعاون کی دعوت بھی دی تھی جس کو عمر ان خان نے قبول کیا تھا تاہم تقریباً ایک ما ہ بعد عمر ان خان نے دھاندلی کی تحریک یکا یک شروع کر دی جس کو انہوں نے دھر نا ، پھر پانا ما اور آخرمیں منی لانڈرنگ میں بدل کر رکھ دیا کیوں کہ وہ کسی الزام کو ثابت تونہ کر سکے البتہ انہو ں نے عوام کا سیا سی طورپر اور ایک بڑی تبدیلی کے نا م پر خون گرمائے رکھا جس میں وہ کا میاب بھی رہے۔

دھاندلی کے حوالے سے موجو د اپو زیشن کا رویہ مثبت نظر آرہا ہے ۔انہو ں نے ملکی نظام کو تلپٹ کرنے کے لیے احتجاجی انداز اختیا ر نہیں کیا بلکہ معروف سیا سی جدوجہد کا حوالہ دیا جبکہ عمر ان خان دھا ندلی کا الزام لگاتے ہی سڑکو ں پر آنکلے تھے اور سارے نظام زندگی کو مفلوج بنا دیا تھا جس کا پاکستان کو سفارتی سطح پر بھی،معاشی طور پر بھی ، امن واما ن کے حوالے سے ضعف پہنچا تھا۔ توقع ہے کہ مو جو دہ اپو ز یشن یہ راستہ اختیا ر نہیں کر ے گی جب عمر ان خان نے احتجا ج کا طریقہ دھرنا سیاست میںڈھونڈ نکلا تھا اس وقت بھی ان کالمو ں میں ان سے کہا گیا تھا کہ پاکستان ایسی سیاست اور احتجا ج کا متحمل نہیں ہو سکتا۔ آج بھی ایساہی ہے کہ پا کستان مزید کیا بلکہ ہر گز ایسی تحاریک کا متحمل نہیں ہے۔ اس سے اپو زیشن کو دور ہی رہنا چاہیے ۔اپو زیشن کی جانب سے فوری جذباتی ہنگامہ خیزی نظر نہیں آئی اور اصولی راہ کی طرف بڑھنے کا اشارہ دیا ہے مثلا ًمولانا فضل الرّحمان کی جانب سے دھاندلی کا الزام لگائے جانے کے ساتھ کہا گیا ہے کہ وہ عنقریب تما م سیا سی جماعتوں کا مشترکہ اجلا س بلائیں گے اور اس میںآئند ہ کا لا ئحہ عمل طے کر یں گے۔ ان کا یہ اقدام مسلمہ اصولو ںکے مطا بق ہے مسلم لیگ ن کی جانب سے بھی دھاندلی کے خلا ف کسی تحریک کا آغاز کر نے کا کوئی اشارہ نہیں دیا گیا ہے بلکہ مسلم لیگ ن کی جانب سے قابل تحسین اقدام یہ کیا گیا ہے کہ اس نے اسمبلی میںحزب اقتدار کا کر دار ادا کرنے کا فیصلہ کیا ہے ، حقیقت یہ ہے کہ گزشتہ چار پانچ سال کی عمرا ن خان کی تحریکو ں ہنگامہ خیز یو ں نے جہاں سارا نظام گڑبڑ کر دیا تھا وہا ں لو گوں کو ذہنی طور پر تھکا بھی دیا ہے۔ اب عوام ایک پر سکون سیا سی ما حول کے متقاضی ہیں جس طرح پہلے مسلم لیگ ن پر ذمہ داری تھی اسی طرح اب تحریک انصاف پر آن پڑی ہے۔دیکھنا ہے کہ وہ سیاسی نظام کو کس طرح پراگندہ ہونے سے محفوظ رکھتے ہیں ، انہیں نئی ذمہ داریو ں کا احساس رکھتے ہوئے انتقامی سیا ست ، جذبات بکھرنے کے ماحول کو اجا گر کر نے کی بجا ئے سر ٹھنڈا اور پاؤں گرم رکھنے کی ضرورت ہے اور اسی پر عمل کرنا ہو گا۔ بصورت دیگر ملک کے لیے کھلواڑ ہو جا ئے گا ، وہ اپنے لیے ایک اچھے اور سا ز گار ماحول کے ساتھ کامیا ب ہو ئے ہیں ، جس میںان کے لیے کسی بھی قوت کی جانب سے کوئی روک موجود نہیں ہے۔ خلا ئی مخلو ق اور ان کے ساتھ کے بارے میں پہلے سے تاثر قائم ہے چنا نچہ اب یہ ثابت کر نا ان کا کا م ہے کہ وہ خود کا ر اور خود مختار حکمر ان ہیں ان کی راہ میں کسی جا نب سے اور خود ان کی جانب سے کوئی الجھاؤپید ا نہیں ہوگا۔ ان کو عوام کی تائید بھی رہے گی اور اداروں کی آشیر با د سے بھی تہی دامن نہ ہوںگے ۔ یہاں یہ بات بھی یا د رکھنے کی ہے کہ عوام نے شخصیت پر ستی کے حوالے سے فیصلہ نہیںدیا ہے ویسے پاکستان کے بارے میں یہ ہی رائے قائم کی جا تی ہے کہ سیاسی جماعتوں کے منشور کو انتخابات میں نہیںکھنگالا جا تا بلکہ شخصیت کا سحر چڑھتا ہے یہ بات سچ ہے مگر اس مرتبہ اتنی بھی سچ نہیں ہے کیو ں کہ عوام نے عمر ان خان کی شخصیت سے سحر زدہ ہو کر چنا ؤ نہیں کیا بلکہ ان کے منشور کا چنا ؤ کیا ہے چنانچہ ان پر تما م وعدو ں کو پورا کرنے کا دباؤ بدستور رہے گا ۔ورنہ نتائج 2018ء کے انتخابات جیسے ہی برآمد ہوسکتے ہیں ۔حکومت سازی میں عمر ان خان کے سامنے پہاڑ کھڑا نظر آرہا ہے۔ 2013ء کے انتخابات کی روشنی میں مسلم لیگ ن اس پو زیشن میں تھی کہ اگر مولا نا فضل الرّحما ن کی تجو یز قبول کرلیتی تو کے پی کے میں تحریک انصاف کی حکومت نہ بن پاتی بلکہ جمعیت اور مسلم لیگ ن کی مشترکہ حکومت ہو تی (باقی صفحہ7)

اورآج جیسی سیا سی صورتحال بھی نہ ہو تی مگر نواز شر یف نے عوامی میندیٹ کا احترام کیا اور تحریک انصاف کی حکومت قائم کرنے میں ساتھ دیا ، گو تحریک انصاف کی حکومت صوبے میں ایسی کا رکردگی نہ دکھائی پائی کہ اس کو مثالی قرار دیا جا ئے مجموعی طورپر ناکام حکمر انی کا لیبل ہی لگا یاہے جنگلہ بس جس کی عمر ان خان خود مخالفت کیا کرتے تھے بعد میں اسی گنگا میںاشنا ن کرنے لگے اور نا مکمل چھوڑ کر رخصت ہوئے ، بجلی گھروںکی تعمیر میںبھی کوئی چار چاند نہ لگا پائے جیسا کہ اوپر بتایا گیا ہے کہ کامیابی کا راز ٹیم ورک میں ہے مگر ٹیم کیا نکلی کہ گزشتہ پانچ سال کی سب سے زیادہ کرپٹ پارٹی ہونے کا اعزاز پایا اور یہ اعزاز بھی کسی بیرونی قوت نے نہیںدیا بلکہ خود عمر ان خان نے عطا کیا۔ اقتدار کے شروع ایّا م میں اپنے ایک وزیر کی گردن کرپشن کر نے کے الزام میںپکڑ لی جس کے بعد صوبائی حکومت کو مبینہ طور پر کرپشن کی بدنامی کو پوشیدہ رکھنے کے لیے احتساب بیورو کو معطل رکھنا پڑااور اس کے بعد کسی کرپشن کو گرفت میں لینے کی ہمت نہ ہوئی اور رخصت ہوتے ہو ئے اپنے ہی بائیس ارکان صوبائی اسمبلی کو کرپٹ قرار دیدیا بائیس ارکا ن اسمبلی جمع ایک وزیر تئیس ارکا ن کے کر پٹ نکلنے کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا ہے اور اس طرح یہ اعزاز بھی ملتا ہے کہ کرپشن کی سب سے بڑی جماعت ہے ، مگر اس اقدام سے یہ سیا سی فائدہ بھی اٹھایا کہ اس طرح عوام کو یقین ہو ا کہ ملک میں کرپشن ختم کر نے میںعمر ان خان کردار ادا کرسکتے ہیںجب وہ اپنو ںکی گردنیںناپنے کا عملی مظاہرہ کر سکتے ہیں تو دوسرے کرپٹ افراد کا صفایا تو یقینی کریں گے ۔

جہا ں تک حکومت سازی کا تعلق ہے تو پنجا ب میں وہی صورت حال ہے جو کے پی کے میںگزشتہ انتخابات کے بعد تھی ۔چنا نچہ وہا ں جوڑ توڑ کر نا پڑے گا البتہ وفاق میںکوئی خاص جدوجہد نہیںہو گی تاہم یہا ں بھی اپو زیشن کے مقابلے میں مضبوطی کے لیے ان کو دوسری جما عتو ں کا سہا را لینا پڑسکتا ہے۔ اس سلسلے میں ایم کیو ایم فیورٹ نظر آرہی ہے مگر انتخابی نتائج نے ایم کیو ایم کی سیا سی حیثیت بدل دی ہے وہ اس طرح کہ سند ھ میں خاص طور پر کر اچی ، حید رآباد اور شہری علا قوں میںایم کیو ایم کی سیا سی حریف پی پی رہی ہے مگر اب انتخابی نتائج کے مطابق پی ٹی آئی حیرت انگیز طورپر کراچی کی بیس نشستو ں میں سے چو دہ نشستیں لے اڑی ہے جس نے عام آدمی ہی نہیںخود ایم کیو ایم کے ہو ش اڑ ا دئیے ہیں۔ اب پی پی کی بجائے پی ٹی آئی ایم کیو ایم کی اصل حریف بن گئی ہے چنانچہ ان کا ساتھ بنتا نظر نہیں آرہا ہے کیو ںکہ پی ٹی آئی کے علیم خان نے کہہ بھی دیا ہے کہ پی ٹی آئی نے دائمی طو ر پر ایم کیو ایم کو دفن کر دیا ہے ۔

متعلقہ خبریں