دھاندلی ہوئی رے

28 جولائی 2018

ہمارے لئے یہ کوئی نئی بات نہیںکہ جیتنے والا اپنی جیت یا فتح و کامرانی کے جشن مناتا خوشیوں کے گیت اور ترانے گاتا ، ڈھول بجاتا اور بھنگڑے ڈالتا نہیں تھکتا اور ہر الیکشن ہارنے والا میں اشکوں میں سارے جہاں کو بہادوں کی قسم کھا کر ٹپ ٹپ آنسو بہاتا دھاندلی کا رونا رونے لگتا ہے ، وہ جو کسی نے کہا ہے کہ اب پچھتائے سے کیا ہوت ، جب چڑیاں چگ گئیں کھیت، ہمیں دھاندلی سے بچنے کا اچھا خاصا موقع اس وقت ہاتھ میں آتا ہے جب ہم حسن اتفاق سے مسند اقتدار پر براجمان ہوجاتے ہیں ، لیکن ہم اقتدار کو اپنے باپ داداکی جاگیر سمجھ کراپنے گرد شہنشاہوں جیسے پروٹوکول کا ہالہ بننے لگتے ہیں ، کسی کی داد رسی کرنا تو دور کی بات ، فریادی کی فریاد تک سننا کسر شان سمجھتے ہیں ، بھلا دھاندلی کی اس سے بڑی اور کون سی مثال دی جاسکتی ہے ، دھاندلی کا اشتقاق دھاندل سے ہے، دھاندل پڑنا چھاپہ پڑنے کو کہتے ہیں ، جب کہ دھاندلی کرنا یا دھاندلی ہونا کے معنی ’ٹھگی برگی، چکمہ یا بے ایمانی‘ کے لئے جاتے ہیں ، دھاندلی صرف الیکشن ہی میں نہیں ہوتی،الیکشن سے پہلے اور الیکشن کے بعد اس کا ارتکاب کیاجاتا ہے ، اس کی لاتعداد مثالیں ہماری روز مرہ زندگی میں ہمارا منہ چڑاتی رہتی ہیں ۔ رشوت ، سفارش، چوری ، سینہ زوری، ذخیرہ اندوزی، ناجائز منافع خوری، سمگلنگ، لوٹ مار، بے ایمانی،یہ اور اس قسم کی بہت سی قسمیں یا قباحتیں ہیں جو غربت بے بسی اور لاچاری کی چکی میں رات دن پسنے والی قوم کے مظلوم و مقہور عوام برداشت کرتے رہتے ہیں ،ان کو دھاندلی ہی کی مختلف قسمیں سمجھا جانا چاہئے ، دھاندلی کرنے والا کبھی نہیں مانتا کہ وہ دھاندلی کر رہا ہے، وہ پورے کے پورے اونٹ اور ہاتھی ڈکار جاتا ہے ، بنکوں سے قرضے لیکر ہڑپ کر جاتا ہے ، منی لانڈرنگ کے ذریعے ملک اور قوم کا پیسہ غیر ملکی بینکوں میں منتقل کرکے مونچھوں کو تاؤ دینے لگتا ہے ، اور جب مونچھوں پر ہاتھ پھیرتے وقت اسے محسوس ہوتا ہے کہ اس کی مونچھیں ہی موجود نہیں تو وہ بھر پشیمان یا شرمندہ نہیں ہوتا اور دھاندلی پہ دھاندلی کرتا رہتا ہے ، ایسے لوگوں کو ہم شیم پروف، ہٹ دھرم یاڈھیٹ دھاندلی باز کہہ سکتے ہیں ، لیکن ایسا کہتے ہوئے ڈرتے ہیں کیونکہ وہ اپنے آپ کو دھاندلی کے جنگل کا بادشاہ کہتے ہیں او ر جنگل کے بادشاہ سے کون پاگل ہے جو پنگا لے سکتا ہے ، ایک بار کسی نے کسی سے پوچھا کہ شیر انڈے دیتا ہے یا بچے جنتا ہے ، جس کے جواب میں جواب دینے والے نے کہا کہ یہ شیر کی مرضی پر منحصر ہے ، چونکہ وہ جنگل کا بادشاہ ہے اس لئے وہ اگر چاہے تو بچے جنے یا انڈے دے ، اگر وہ بچے جننے کی بجائے انڈے دینا شروع کردے اور اگر اس کا موڈ ہو تو انڈے دینا چھوڑ کر بچے جننا شروع کردے، جنگل کا بے تاج بادشاہ کہلاتا ہے اور کسی قاعدے قانون کو خاطر میں نہیں لاتا، جنگل کے قانون کو قانون مانتا ہے اس لئے اسے اپنی کوئی دھاندلی ، دھاندلی نظر نہیں آتی اور اگر اس کی کسی دھاندلی کے خلاف کوئی آواز اٹھانے لگے تو ا س کو چیر پھاڑ کر کھاجانے کی دھاندلی کرنا وہ اپنا آبائی او ر فطری حق سمجھتا ہے، لیکن اس ناعاقبت اندیش کو اس بات کا علم نہیں ہوتا کہ اس کے کرتوتوں پر نظر رکھنے والا موجود ہے ، اور جب اس کو اس بات کااحساس ہونے لگتا ہے کہ وہ قانون قدرت کے شکنجے میں آنے لگا ہے تو اپنی دھاندلی پر شرمندہ ہونے کی بجائے حیرت اور استعجاب کے عالم میں پکار اٹھتا ہے کہ کہاں سے آگئے یہ حساب کتاب مانگنے والے ، اور جب انہیں ان سب باتوں کی سمجھ نہیں آتی تو آسمان سے اترنے والی ان قوتوں کو وہ خلائی مخلوق کا نام دینے لگتا ہے، مجھے اپنے والد بزرگوار جب کبھی سرز نش دینے لگتے تھے تو ان کی زباں سے یہ جملہ ضرور ادا ہوتا تھا کہ ’’اتو اتریاں چار کتاباں، پنجواں اترا ڈنڈا، ‘‘ آسمان سے چار کتابیں کرہ ارض پر بسنے والوں کی ہدایت کے لئے نازل ہوئیں ، اور پانچویں چیز جو آسمان سے اتاری گئی وہ حضرت موسیٰ علیہ السلام کو ودیعت ہونے والا عصا ء یا ان کی لاٹھی یا ڈنڈا تھا، جس نے فرعون جیسے خدائی دعویٰ کرنے والے کی گردن کی سٹیل نکال کر رکھ دی، والد بزرگوار کے اس سرزنشی جملے کی سمجھ ہمیں اس وقت بھی آئی جب ہم نے اللہ تعالیٰ کی بے آواز لاٹھی کے متعلق بہت کچھ سنا ، اور اس وقت تو ہماری سمجھ بہت پختہ ہوچکی تھی جب ہم نے اپنے سبز ہلالی پرچم کے متعلق یہ بات عرض کی کہ

لب پہ دعا ہے سب کے ‘ ہر دل کی آرزو ہے

یا رب مرے وطن کا اونچا رہے یہ جھنڈا

کڑوی سہی مگرہے اے دوستو حقیقت

جھنڈے کے واسطے ہو تا ہے ایک ڈنڈا

جو لوگ صاحب اقتدار اور بااختیار ہونے کے بعد اللہ کی بے آواز لاٹھی کو خاطر میں نہیں لاتے یا جھنڈے کے ڈنڈے کو بھول کر اسکولہرانے کی دھاندلی کرتے ہیں تو ان بے چاروں کو الیکشن 2018ہی میں نہیں زندگی کے ہر موڑ پر منہ کی کھانی پڑتی ہے، اور یوں وہ اپنے گریبان میں جھانکنے کی بجائے فتح و کامرانی کے جشن منانے والوں کی بند قباء کی طرف اشارہ کرکے دھاندلی دھاندلی کا شور مچانے لگتے ہیں ۔عظیم ہوتے ہیں وہ لوگ جو اپنی غلطیوں اور کوتاہیوں کو تسلیم کرتے ہوئے اپنی شکست کو قبول کرلیتے ہیں اورجیتنے والے کو دلی مبارک باد پیش کرنے لگتے ہیں ، اس حسن اخلاق کا مظاہرہ ہم نے شہروں کے شہر پشاور میں پی ٹی آئی کے امیدوار کو ان کے اعلیٰ ظرف مد مقابل امیدواروں کی جانب سے دی جانے والی مبارک باد کی صورت دیکھا

تجھ کوشرف مہر جہاں تاب مبارک

غالب کو ترے عتبہ عالی کی زیارت

مزیدخبریں