Daily Mashriq

پابندی کا خاتمہ، ایک اورمماثل فیصلہ کی ضرورت

پابندی کا خاتمہ، ایک اورمماثل فیصلہ کی ضرورت

معاون خصوصی اطلاعات فردوس عاشق اعوان کا کہنا ہے کہ حکومت نے فیصلہ کیا ہے کہ اب اپوزیشن کی کسی ریلی یا جلسے کو نہیں روکنا، عوام خود دیکھ لے گی کہ ان کے شو کس طرح فلاپ ہوتے ہیں۔ہم سمجھتے ہیں کہ یہ حکومت کا قدر تا خیر سے کہا جانے والا فیصلہ ہے لیکن ہے مثبت اور صائب فیصلہ جس کی ضرورت ہی پیش نہیں آتی اگر حکومت پہلے ہی حزب اختلاف کی ریلیوں اور جلسوں کو کھلی چھٹی دے دیتی جس طرح سابق حکومت نے موجودہ حکومت جماعت اور اس کے قائد کے جلسوں اور ایک سو چھبیس دن کے دھرنے سے تعرض نہ کیا۔حکومت نے یہ فیصلہ کر کے تو اچھا کیا لیکن ان وجوہات اور اسباب کا بھی از سر نو جائزہ لینے کی ضرورت ہے جو حزب اختلاف کے جلسوں پر پابندی لگانے کا سبب بنے حالانکہ کسی سیاسی جماعت نے پرتشددراستہ اختیار نہیں کیا اور نہ ہی ان کی ریلیاں اور جلسے اتنے طویل تھے کہ اس سے ملکی معاملات اور روزمرہ کی زندگی متاثر ہوئی ۔حکومت جس فیصلے پر اب پہنچی ہے اگر یہی فیصلہ کچھ ہی دن قبل کرتی تو حزب اختلاف کو اپنی ریلی اور جلسوں کی کامیابی کیلئے بہت زیادہ جتن کرنا پڑتے نفسیاتی طور پر بھی جب بھی کسی چیز پر قد غن لگائی جاتی ہے یا پھر کسی کا راستہ روکا جاتا ہے تو اس کی اہمیت خود بخود دو چند ہوجاتی ہے حزب اختلاف کی جماعتوں کو ریلی نکالنے کی آزادی اور جلسہ عام کا بحفاظت وبحسن وخوبی موقع دے کر بلکہ ایک قدم آگے بڑھ کر جلسہ گاہ کی سرکاری ملازمین سے صفائی ستھرائی کروانے کا جو دانشمندانہ اقدام خیبر پختوا میں کیا گیا اور حزب اختلاف نے جس طرح بلا اشتعال اپنے اجتماع کا انعقاد کیا اس کا کریڈٹ صوبائی حکومت کو جاتا ہے ہم سمجھتے ہیں خیبرپختونخوا کی حکومت کا یہ اقدام حزب اختلاف کے جلسے کے اثر کو کم کرنے کا باعث بنا اس طرح سے عوام اور انتظامیہ بھی متاثر نہ ہوئی حکومت کی نیک نامی بھی ہوئی اور حزب اختلاف کی جماعتوں کو بھی شکایت کا موقع نہ ملا جلسہ ہوا اور رات گئی بات گئی والی صورتحال ہوگئی اس کے برعکس صوبہ پنجاب میںاختیار کردہ رویہ منفی تاثرات اور عوام کی حزب اختلاف سے ہمدردی کاباعث بننا فطری امر تھا۔عوامی نفسیات ہی یہ ہے کہ وہ حکومت کی بجائے حزب اختلاف سے ہمدردی رکھتے ہیں خواہ کچھ بھی ہو عوام حزب اختلاف کی کال یا احتجاج کو اپنے مفاد میں اور حکومتی اقدامات کو اپنے حق میں بہتر نہیں سمجھتے خواہ حقیقت برعکس ہی کیوں نہ ہو یہ ایک عمومی رویہ ہے جس کا بہتر حل اور حکمت عملی حکومت کی جانب سے رکاوٹیں نہ ڈالنا ہی ہے جس طرح حکومت نے جلسے جلوسوں کی آزادی کا حق تسلیم کرلیا ہے اسی طرح حق تحریر وتقریر اور سیاسی جلسے جلوسوں سیاسی رہنمائوں کی کوریج کے حوالے سے بھی فیصلہ کرلینا چاہیئے حکومت کو کسی سیاسی جماعت اور لیڈر کے بیانیے سے خوفزدہ ہونے کی ضرورت نہیں حکومت کی حکمت عملی اسے روکنے کیلئے نہیںاس کا مسکت جواب دینے کیلئے ہونا چاہئے اور پھر فیصلہ عوام پر چھوڑ دینا چاہیئے جہاں جہاں حکومت پابندیوں اور بلیک آئوٹ کا قدم اٹھانے کی غلطی کرے گی وہاں دیگر ذرائع اور متبادل راستے ڈھونڈنے کے ساتھ ساتھ مخالفین کو مفت میں عوام کی ہمدردیاں حاصل ہوں گی حکومت کو اس امر کا ادراک ہونا چاہیئے کہ رکاوٹیں اور پابندیاں بہتر حکمت عملی نہیں بہتر حکمت عملی اظہار کی آزادی اور رکاوٹیں نہ ڈالتا ہے تاکہ عوام یہ تاثر نہ لیں کہ حکومت فلاں پارٹی یا فلاں سیاسی لیڈر کے جلسوں اور بیانات سے خائف ہے ان کو آزادی ملنے سے کوئی انقلاب برپا نہیں ہوگا ضروری نہیں کہ عوام ان کے بیانیہ سے متاثر ہوکر ساتھ دیں جو لوگ ان عناصر کے حامی ہیںاور جو غیر جانبدار ہیں ان کا پابندیوں کے باعث اپنی رائے کو پختہ بنانے اور غیر جانبداروں کو رائے بنانے کے مواقع ملیں گے کوئی بھی بات موقف یا بیانیہ بلا رکاوٹ عوام تک آئے تو اس کا اثر رفتہ رفتہ کم ہوتا جائے گا اور عوام نفسیاتی طور پر اسے معمول کا عمل گرداننے لگیں گے۔ حکومت کے میڈیا مینجرز اور سیاسی مشیروں کو جلسوں کی طرح تقریروں اور احتجاج کی کوریج کے حوالے سے بھی سخت حکومتی موقف میں تبدیلی لانے کا مشورہ دینا چاہیئے اور ان کو یاد رکھنا چاہیئے کہ جس جذبے کو جتنی شدت سے دبایا جائے اس کا اظہار اس سے زیادہ قوت سے سامنے آئے گا ایسا ہونا حزب اختلاف کے مفاد میں اور حکومت کے حق میں بہتر نہیں توقع کی جانی چاہیئے کہ حکومت جلد ہی آزاد میڈیا پالیسی اپنانے کا دانشمندانہ فیصلہ کرے گی اور اس امر کو یقینی بنانے کا فیصلہ کرے گی کہ پاکستان میں ہر قسم کے شہری حقوق محفوظ ہیں اور حکومت کو شہریوں کے کسی حق میں کمی لانے کا کوئی ارادہ نہیں اور نہ ہی حکومت حزب اختلاف کی جماعتوں کی سیاسی سرگرمیوں کواپنے لئے خطرہ سمجھتے ہوئے اس کی راہ میں رکاوٹیں ڈالنے یا اس کی تشہیر کی روک تھام میں دلچسپی رکھتی ہے بہتر ہوگا کہ اس سلسلے میں جتنا جلد فیصلہ کیا جائے اور وہ تمام اقدامات اور امور جو حکومت کے حوالے سے منفی تاثرات کا باعث بن رہے ہیں یا بنائے جارہے ہیںاُن کا سد باب کیا جائے گا۔

متعلقہ خبریں