Daily Mashriq

چاند کا تنازعہ طے کرنے کی ایک اورسعی

چاند کا تنازعہ طے کرنے کی ایک اورسعی

ملک بھر میں ایک ساتھ عید اور رمضان کیلئے اسلامی نظریاتی کونسل بھی متحرک ہوگئی ہے، اسلامی نظریاتی کونسل نے پشاور کے معروف عالم دین مفتی شہاب الدین پوپلزئی سے رابطہ کرکے ملاقات کا وقت مانگ لیا ہے۔ ذرائع نے بتایاکہ مفتی شہاب الدین پوپلزئی کی ٹیم کو محکمہ موسمیات کی تکنیکی ٹیموں سے ملوانے کا فیصلہ کیا گیا،مفتی پوپلزئی کی ٹیم کو چاند کی پیدائش اور رویت سے متعلق بریفنگ دی جائیگی۔اسلامی نظریاتی کونسل کے ذرائع کے مطابق مفتی شہاب الدین پوپلزئی اور انکی ٹیم کو سمجھایا جائیگا کہ چاند کی رویت ممکن نہیں تو نظر کیسے آ سکتا ہے؟رویت کے حوالے سے مفتی پوپلزئی کے تحفظات بھی دور کرنے کی کوشش کی جائیگی،ملک بھر میںایک ہی دن عید اور ایک ہی دن رمضان کے حوالے سے اسلامی نظریاتی کونسل کا متحرک ہونا خوش آئند امر ہے عید اور رمضان المبارک کے ایام میں عموماً اسی طرح کی مساعی سامنے آتی ہیں جبکہ میڈیا بھی اس پر سیر حاصل بحث کروانے کی ذمہ داری انجام دے چکا ہے مگر یہ مسئلہ حل ہونے والانہیں تھا سو حل نہ ہوا۔یہاں دلیل،سائنس اور شریعت کے تقاضے جدا جدا ہیں یا پھر ان کو تسلیم نہ کرنے کا سوال ہے دلچسپ امر یہ ہے کہ ہر فریق کے پاس اپنے دلائل اور تاویلات ہیں یہ مسئلہ آج اور کسی ایک دور حکومت کا بھی نہیں قدیم الایام ہے پرانے دور میںاس کی شدت نہ ہونے کے برابر ہوگی کیونکہ اس دور میں ایک شہر کی خبر دوسرے شہر پہنچے پہنچتے باسی اور پرانی ہوچکی ہوتی تھی دن گزر چکا ہوتا تھا لیکن اب ایسا نہیںبات زبان سے نکلنے سے قبل ہی کوٹھوں چڑھ چکی ہوتی ہے دنیاکے جس کونے میں جو واقعہ رونما ہو لوگ اب اسے براہ راست دیکھ سکتے ہیں۔ٹیکنالوجی اتنی تیز رفتار ہوچکی ہے کہ تصویر وآوازحرکات وسکنات سبھی دیکھ بھی سکتے ہیں اور محفوظ کرنے کا بھی انتظام ہے رویت ہلال کے علاوہ دیگر امور میں اس ٹیکنالوجی کی افادیت کے قائل ہیں اور اس سے استفادہ بھی کرتے ہیں مگر چاند کی رویت کیلئے ہمیں سوائے انسانی آنکھ کے کسی ذریعے پر بھروسہ نہیں مگر ستم یہ کہ جوکام طاقتور سے طاقتور اور جدید ٹیکنالوجی نہیں کرسکتی یہاں انسانی آنکھ وہ کر گزرتی ہے یہاں المیہ صرف اسی حد تک محدود نہیں المیہ یہ بھی ہے کہ دوسری جانب کو ہمیشہ غلط اور صادق نہ ہونا فرض کر لیا گیا ان کا موقف سننا ان کی شہادت کو پرکھنا ان کے شرعی حقوق اور دلائل ان کا اعتبار کوئی بھی چیز قابل تسلیم کے باوجود اس کا ایسا ہی رہنے اور عدم اتفاق کی صورت تقریباً یقینی ہے ہم سمجھتے ہیں کہ اس مسئلے کا واحد حل چاند دیکھنے کی ذمہ داری یا تو حکومت خود اٹھالے اورکسی کو بھی اس کی اجازت نہ دی جائے کہ وہ چاند کے نظر آنے یا نہ آنے کا اعلان کرے۔مرکزی رویت ہلال کمیٹی سرے سے ختم کردی جائے اور مسجد قاسم علی خان میں بھی چاند کے حوالے سے کسی مجلس کے انعقاد کی اجازت نہ دی جائے ۔اس فریضے کی ادائیگی کیلئے سرکاری علماء کے بجائے غیر جانبدار ماہرین کی کمیٹی تشکیل دی جائے جس کا اعلان تسلیم کیا جائے یا پھر اسے لوگوں کے عقیدے وعقیدت کا مسئلہ قرار دے کر حکومت سرے سے کوئی اعلان نہ کرے مگر اس میں قباحت سرکاری دفاتر کی تعطیل کی ہے اس مشکل کا حل صوبائی سطح پر فیصلہ سے ممکن ہے جو بھی ہو اس مسئلے کا کوئی حل تلاش ہونا چاہئے اور اس قضیے کا اختتام کیا جانا چاہئے۔

سی این جی سلینڈرز کی چیکنگ کی ضرورت

خیبرپختونخوا میں غیر معیاری اورغیر محفوظ گیس سلینڈروں کے پھٹنے سے جانی نقصان پر شور مچنے کے بعد ہی اس کے خلاف مہم شروع ہوئی ہے اور چند دن شور مچنے کے بعد حکام بھول جاتے ہیں کہ اس حوالے سے ان کی کوئی ذمہ داریاں بھی ہیںارتعاش اس وقت ہوتا ہے جب ایک اور سنگین واقعہ میں قیمتی انسانی جانیں چلی جائیں تازہ ترین واقعے میںڈرائیور نے سردریاب میں سی این جی ڈالنے کے لئے سی این جی پمپ میں گاڑی میں جیسے ہی سی این جی فلنگ شروع ہو ئی تو کار کا سلنڈر زور دار دھماکہ سے پھٹ گیا جس کے نتیجے میں کار میں سوار ایک ہی خاندان کی دو خواتین اور ایک بچی موقع پر جاں بحق ہو گئے جبکہ ڈرائیور سمیت چار افراد زخمی ہو گئے ۔یہ پہلا سنگین افسوسناک اور جان لیوا واقعہ نہیں اس طرح کے درجنوں واقعات رونما ہو چکے ہیں مگر اس کے باوجود اس قسم کے حادثات کی روک تھام کیلئے گیس سلینڈروں کی چیکنگ اور محفوظ بنانے کا کوئی انتظام نہیں اور امید نہیںکہ یہ واقعہ آخری واقعہ ثابت ہو۔ہرگاڑی کے سلینڈر کی چیکنگ یقیناً حکام کے بس کی بات نہیں لیکن کبھی کبھار مہم چلائی جائے اور عملہ سی این جی سٹیشنز پر جاکر سلینڈر چیک کرے یا پھر ہر ڈرائیور کو سلینڈر چیک کروا کر سند معائنہ ساتھ رکھنے کی ہدایت کی جائے اور متعلقہ سرکاری عملہ اس کیلئے سی این جی اسٹیشنزاور جگہ جگہ اچانک معائنہ کرنے کی ذمہ داری نبھائے تو صورتحال قدرے بہتر ہوگی۔تازہ واقعے کے بعد صوبہ بھر میں سی این جی والی گاڑیوں کے سلینڈرز چیک کر کے ونڈ سکرین پر تصدیقی سٹکر لگانے کی مہم جلد سے جلد شروع کی جائے اور حکومت جتنا جلد ممکن ہوسکے چلتے پھرتے بم رکھنے والی ان گاڑیوں کو محفوظ بنانے کی ذمہ داری نبھائے۔

متعلقہ خبریں