Daily Mashriq

تحریک عدم اعتما د کی واپسی

تحریک عدم اعتما د کی واپسی

بابائے جمہو ریت نو ابزدہ نصراللہ خان فرمایا کر تے تھے کہ جمہوریت میں مفاہمت یا بات چیت کے دروازے بند نہیںہو ا کرتے ۔ بات درست ہے کیو ں کہ سیا ست عربی زبان کے لفظ ساس سے مشتق ہے اس کا ہر گز یہ مفہوم نہ لے لیا جا ئے کہ یہ اردو کا لفظ ساس ہے جو ساس وبہو کے درمیان جنگ وفساد کا رشتہ بنا ہو اہے یہا ں تینو ں حروف پر زبر ہے جس کے معنی ہیں کہ کسی حکمت عملی یا نظم کو کا میا بی سے چلا نے کے لیے مثبت منصوبہ بندی کر نا پاکستان یا جنوبی ایشیا میں سیا ست کے رنگ ڈھنگ میں کیا ہو تا ہے یہ الگ موضوع ہے ۔یہا ں تو مدمقابل یا دوسرے فریق کو چکمہ دینا یا فریب وجھانسے میں رکھنا ہی سیا ست سمجھ لی گئی ہے ۔چنا نچہ بابائے جمہو ریت کا یہ قول کہ سیا ست میں مذاکر ات کے دروازے کبھی بند نہیں ہو ا کر تے اپنی جگہ گیرائی اور گہرائی لیے ہوئے ہے، مگر افسوس ہے کہ ما ضی میں بھی سیا سی مخالفین کو دیو ار سے لگانے کی سعی کی جاتی رہی ہے جس کی وجہ سے ملک میں سیا سی عدم استحکا م رہا یہ بات مسلمہ ہے کہ عدم سیا سی استحکا م ہی ملک کی ہر شعبے میں تنزلی کا سبب قرار پا تا ہے ، اگر فی زما نہ جائزہ لیا جا ئے تو اس وقت بھی ملک بری طر ح عدم سیا سی استحکا م کا شکا ر ہے اور حزب اختلا ف کو دیو ار سے لگا یا جا رہا ہے کہ منظر پیش کیا جا رہا ہے ۔ گزشتہ سینٹ کے چیئر مین کے جو انتخابات ہوئے تھے ان میں سے ڈپٹی چیئر مین شپ کے امیدوار تو باقاعدہ پی پی کی طرف سے امید وار تھے تاہم چیئر مین کے عہد ے کے لیے صادق سنجر انی ایک آزاد امید وار کے طور پر سامنے آئے تھے مگر ان کا سیا سی ، سماجی ، کاروباری قیلو لہ پی پی کے سربراہ آصف زرداری سے ملتا تھا اور وہ ان انتخابات میں صادق سنجر انی کی پشت بانی کر رہے تھے ،تحریک انصاف کا ان کے ساتھ کوئی لینا دینا نہیں تھا ، لیکن پی ٹی آئی نے صادق سنجر انی کو اس طر ح سپو رٹ کیا گویا پی پی نہیں بلکہ وہ ان کی پشت بان ہے چلیں یہ قصہ پا رینہ ہے تازہ صورت حال یہ پی پی جو پہلے چیئر مین سینٹ کی کا میا بی کو اپنی جھولی میں سمیٹتی رہی وہ اب اپنی اسی چہیتی شخصیت کو ہٹانے کے درپے ہے اور اس بارے میں اس نے سینیٹ میں حزب اختلا ف کا ایک اتحاد بھی تشکیل دید یا اور صادق سنجر انی کے خلا ف تحریک عدم اعتما د بھی پیش کر دی گئی ہے ۔پی ٹی آئی جو سینیٹ کے انتخابات کے وقت پی پی کی اتحادی بن گئی تھی جس کے بارے میں عمر ان خان نے کہاتھا کہ یہ ایکا صرف سینٹ کے چیئر مین کے انتخابات تک ہے کیو ں کہا گیا پی ٹی آئی اس انتخابات میں پی پی کے امید واروں کو ووٹ دے یہ بات جما عت اسلا می کے مرکزی امیر سراج الحق سے بھی کہی تھی جنہو ں نے عوام میں اس کا چرچا کردیا تھا ۔ اب پی پی اپنے منتخب کر دہ چیئرمین سینٹ کے خلاف عدم اعتما د کے ووٹ جمع کر نے کی تگ ودو میں ہے اور پی ٹی آئی عد م اعتما د کا شکار ہونے والے چیئر مین سینٹ کو بچانے کی مساعی میں مگن ہے چنا نچہ حزب اختلا ف کے بارے میں پی ٹی آئی کو جو رویہ چلاآرہا تھا وہ ایک کھلی کتا ب کی طرح ہے جس کے بارے میں کوئی وضاحت کر نا یا دہر انا یا کوئی تبصرہ کرنا بے فضول نہیں تو فضول ضرور ہے ۔ عالمی شہرت کے اردو کے بے بدل شاعر ا حمد فراز کے صاحبزادے اور سینٹ میں قائد حز ب اختلا ف شبلی فراز کی قیا دت میں پا رٹی کا ایک وفد حزب اختلا ف سے رابطے کر کے مساعی صیحہ کر رہا ہے کہ حزب اختلا ف صادق سنجر انی کے خلا ف پیش کردہ عدم اعتما د کی قرار داد واپس لے۔ یہ حکومت کا جمہوری حق ہے کہ کسی بھی معاملے میں حزب اختلا ف سے مفاہمت کے لیے راہ ہمو ار کرے ، جس کو خوش آئند قر ار دینا چاہیے ، عدم اعتما د کی تحریکیں پیش ہو نا معمول کا عمل ہو تا ہے اوریہ پارلیمان کے ارکا ن کا حق ہوتا ہے کہ اگر وہ کسی کی کا رکر دگی سے مطمئن نہ ہوں تو وہ ایسی تحریک پیش کریں ۔ ماضی میں بھی پاکستان کی پارلیمان میں ایسی تحاریک پیش ہوتی رہی ہیں سابق وزیر اعظم محمد خان جونیجو کے دور میں بھی سید فخر اما م کے خلا ف تحریک عدم اعتما د لائی گئی تھی جو کا میا ب ہو ئی تھی ، اسی طرح نو ا زشریف نے بے نظیر مر حومہ کے خلا ف تحریک پیش کی تھی جو نا کا م رہی تھی ایسا بھی ہو ا ہے کہ تحریک عدم اعتما د پیش کرنے والو ں نے یہ محسوس کر کے یہ ناکا م ہو جائے گی تحریک واپس بھی لی ہے ، ان تما م مناظر میں یہ کوئی انوکھی تحریک نہیںہے تاہم جو بے چینی حکومتی پا رٹی میں پائی جا رہی ہے وہ اس امر کی غما زی ہے کہ یہ تحریک کا میا بی سے ہمکنا ر ہو سکتی ہے چنا نچہ واپسی کی درخواست لے کر حزب اختلا ف کے رہنما ؤں سے ملنا تو بڑی بات ہے انہیں منہ لگا نا بھی پی ٹی آئی کی قیا دت کو گوارہ نہیں ہے چنا نچہ ہر طر ف سے ان کو جواب نفی میںمل رہا ہے جو ان کی سیا ست کی سجائی گئی بیل کے ثمر ات ہیں اور اس طرح حزب اختلا ف کو بھی خوب باتیں سنانے کا موقع ہا تھ آرہا ہے ، شبلی فراز نے دودن پہلے مولا نا فضل الرّ حما ن سے دورکنی وفد کے ہمراہ ملا قات کر کے ان سے درخواست کی کہ وہ عدم اعتما د کی تحریک واپس لے لیں ، مولا نا نے کیا جو اب دیا وہ الگ بات ہے تاہم دوسرے روز انہو ں نے ختم نبوت کے حوالے سے منعقدہ جلسے میں اس ملا قات کا ذکر زور دار انداز میں کیا کہ یہ کہتے ہیں کہ (ان کا اشارہ پی ٹی آئی کے لیڈرو ں کی جا نب تھا )وہ ان سے این آر او مانگتے ہیں یہ کیا این آر او دیں گے بلکہ یہ تو خود این آر او مجھ سے ما نگنے آئے تھے ۔ایسا ہی حاصل بزنجو نے بھی جو اب دید یا ہے اس لیے بالغ النظر سیا ست دان یہ جا نتے ہیں کہ سیا ست میں کوئی بھی بات یا مو قف حرف آخر نہیں ہو ا کرتا آج حزب اختلا ف کے پا س جانے کی حزب اقتدار کو ضرورت پڑہی گئی کل کیا ہو گا وہ کوئی نہیں جا نتا ، پی ٹی آئی نے ما ضی قریب میں جو عدم مفاہمت کا رویہ فروغ دیا یہ اسی کا نتیجہ ہے کہ حز ب اختلاف نے کا ن بند کر رکھے ہیں یہ حزب اقتدار کی ذمہ داری ہو تی ہے کہ وہ مفاہمت ، صلح وآشتی اورلچک کے تما م راستے کھلے رکھے ۔کیو ں کہ نہ جا نے سیا ست کے کس مو ڑ پر کس کی ضرورت پیش آجائے ۔

متعلقہ خبریں