Daily Mashriq

اے شمع تیر ی عمر طبیعی ہے ایک رات

اے شمع تیر ی عمر طبیعی ہے ایک رات

سیانوں کا کہنا ہے کہ خواتین سے عمر کے بارے میں پوچھنے کی غلطی کبھی نہیں کرنی چاہئے کیونکہ خواتین عام طور پر اپنی عمر ویسے ہی چھپاتی ہیں جیسے کہ مرد حضرات عموماً اپنی بیویوں سے اپنی تنخواہ چھپاتے ہیں،مگر کبھی کبھی کوئی دانا بینا بھی ایسی حرکت کر بیٹھا ہے کہ شاعر کو کہنا پڑتا ہے

بھری بزم میں راز کی بات کہہ دی

بڑانا سمجھ ہوں میں کیاچاہتا ہوں

اپنے دیرینہ کرمفرما اور پشاور کیلئے فخر کا باعث ہمارے بہت ہی پیارے فردوس جمال نے خدا جانے کس ترنگ میں آکر اوپر درج سیانوں کے حوالے سے مشہور قول زریں کے پرزے کرنے کی ہمت کر ڈالی ہے اور پاکستان کی نامور ماڈل اور اداکارہ جسے بعض تبصرہ نگاروں نے اب پاکستانی مادھوری ڈکشٹ بھی قرار دیدیا ہے کیونکہ موصوفہ نے غالباً عیدالاضحیٰ کے موقع پر نمائش کی غرض سے پیش کی جانے والی ایک فلم میں مادھوری ہی کے سٹائل میں ایک آئٹم سانگ میں مادھوری ہی کی مانند روپ بھر کر ناچ کا مظاہرہ کیا ہے،یوں تو فردوس جمال بہت ہی نرم گفتار ہے تاہم اس کے اندر چھپا ہوا پختون اسے سیدھے سیدھے شفتالو کہنے سے باز نہیں رکھتا یعنی وہ شف شف نہیں کرتا، اگرچہ ایسا کرتے وقت بھی اس کے چہرے پر مسکراہٹ سجی ہوتی ہے،تو تازہ ''واردات'' اس نے یوں کر ڈالی ہے کہ حال ہی میں ایک نجی ٹی وی کے شو میں فیصل قریشی کے ساتھ گفتگو کرتے ہوئے فردوس جمال نے ماہرہ خان کی عمر کا مسئلہ چھیڑ دیا،حالانکہ فردوس جمال نے ماہرہ خان کی اصل عمر تو نہیں بتائی جو یقیناً پرانے اور آزمودہ فارمولا کے تحت صیغہ راز میں ہے،تاہم خواتین کی اس دکھتی رگ کو دوسرے طرز سے چھیڑ کر صورتحال کو سنجیدہ بنادیا ہے،یعنی فردوس جمال نے کہا ہے کہ ماہرہ خان کی عمر اب ہیروئنوں والی نہیں ہے اور اسے چاہئے کہ اب وہ مائوں کے کردار کرے،وجہ بتاتے ہوئے فردوس جمال نے اگرچہ یہ بھی کہا کہ میری بات کسی کو بری لگے تو معذرت چاہتا ہوں لیکن مجھے نہیں لگتا ہے کہ ماہرہ خان کو اب ہیروئن کے کردار ادا کرنے چاہئیں،ماہرہ خان ماڈل تو ہوسکتی ہیں لیکن وہ نہ تو ایک اچھی اداکارہ ہیں اور نہ ہی ہیروئن،ماہرہ خان کی عمر زیادہ ہوگئی ہے اور اس عمر میں ہیرئونیں نہیں ہوتیں بلکہ ماں کے کردار کئے جاتے ہیں،شیخ ابراہم ذوق نے کہا تھا

اے شمع تیری عمر طبیعی ہے ایک رات

روکر گزاریا اسے ہنس کر گزار دے

فردوس جمال کا یہ تبصرہ کسی اور کو تو خیر کیا برا لگے گا،صرف ماہرہ خان ہی اس پر چیں بہ جبیں ہوسکتی ہیں البتہ بہت سی اس سے خوش بھی ہوسکتی ہیںیہ الگ بات ہے کہ وہ اس پر کوئی تبصرہ نہ کریں، البتہ ایک میرا اس سے سرشار ہوسکتی ہیں کیونکہ جب ماہرہ خان پر شوبز انڈسٹری نے وارے صدقے جانے کا آغاز کیا تھا اور میرا جی سے فلم انڈسٹری نے منہ موڑ لیا تھا تو تب اپنے اس دور کی مد مقابل ریما کے خلاف بیانات کا سلسلہ روک کر اچانک میرا نے ماہرہ خان کے بارے میں اپنی''خاص انگریزی'' میں تبصرے شروع کر دیئے تھے مگر موصوفہ کے''مسز میلا پر اپ سٹائل'' انگریزی والے تبصروں کو ماہرہ خان نے کسی قابل نہ سمجھتے ہوئے جواب دینے کی ضرورت ہی محسوس نہیں کی تھی،یہ صورتحال یقیناً میرا کیلئے دلبرداشتگی کا ایک اور سبب بن گئی تھی،کیونکہ ان کا خیال تھا کہ ماہرہ خان کے ساتھ''سینگ'' اڑانے کی وجہ سے وہ جوابی تبصروں کی وجہ سے ایک بار پھر پریس میں''ان''ہوسکیں گی اور جو ان کے بارے میں کیپٹن نوید والا معاملہ چل رہا تھا اس سے وقتی طور پر ہی سہی میرا کی جان چھوٹ جائے گی،مگر اے بسا آرزو کہ خاک شدہ،ان کی خواہش پر ماہرہ نے پانی پھیر دیا تھا،تاہم اب ممکن ہے کہ ان کے دل کی آرزو پوری ہوجائے اور اس وقت میرا کے تبصروں پر صرف ایک جوابی تبصرہ ماہرہ خان کی طرف سے بھی عمر رسیدگی ہی کا آیا تھا،جس سے میرا تلملا کر رہ گئی تھی مگر جوابی وار اس سے بن نہیں پارہا تھا،البتہ اب فردوس جمال کے تبصرے کے بعد ممکن ہے میرا اپنے مخصوص انگلش سٹائل میں سامنے آجائیں،تاہم یہ ضروری بھی نہیں۔غالباً ایسی ہی صورتحال پر منیر نیازی نے پنجابی زبان میں جو تبصرہ کیا ہے اسے اردو کا جامہ پہنانے کی کوشش کرنے میں کیا حرج ہے،ممکن ہے آپ کو پسند آجائے،

اب جو ملے تو روک کے پوچھوں

دیکھا اپنا حال؟

کہاں گئی وہ رنگت تیری؟

سانپوں جیسی چال!

باتیںکرتی بولتی آنکھیں

ہوا سے اڑتے بال

کہا ںگیا وہ ٹھاٹھیں مارتا

لہو کا اتنازور؟

سانسوں جیسی گرم جوانی

لے گئے کونسے چور؟

متعلقہ خبریں