Daily Mashriq

پاکستانی سیاست اور سماج کا المیہ

پاکستانی سیاست اور سماج کا المیہ

قلم مزدوری کرتے لگ بھگ پینتالیس چھیالیس برس ہوگئے مگر زندگی کو بھگتے 61 واں برس ہے۔ چار مارشل لاء ملک کا دولخت ہونا' بھٹو صاحب کی جمہوریت' جنرل ضیاء الحق کے بعد کی سمجھوتہ جمہوریت' آبپاروی جمہوریت کے ادوار دیکھے پھر جرنیلی جمہوریت نازل ہوئی۔ 2007ء میں محترمہ بے نظیر بھٹو اور راولپنڈی کے لیاقت باغ کے باہر دہشت گردی کا رزق ہوئیں۔ اگلے پانچ سال پیپلز پارٹی پھر اگلے پانچ سال نون لیگ اقتدار میں رہی۔ اب تحریک انصاف اپنے اتحادیوں کے ساتھ بر سر اقتدار ہے۔ پاکستانی سیاست کی تاریخ کے اوراق الٹتا ہوں تو ہر صفحہ پر نفرت' عدم برداشت' زہریلے فتوے' مذموم الزامات کے سوا کچھ نہیں ملتا۔ جب کبھی یہ سوچنے کی کوشش کی کہ ہم ایسے کیوں ہیں' فقیر راحموں بولے دستیاب مسلم تاریخ کے پنے الٹ کر دیکھ لو ہم ہمیشہ سے ویسے ہی تھے۔ دوسرے مسلم ممالک میں بھی سیاسی اختلافات کی کوکھ سے نفرت و عدم برداشت نے جنم لیا کہیں کہیں تو قتال نے بھی رنگ دکھایا لیکن ہمارے یہاں تو عجیب معاملہ ہے۔ پاکستان دنیا کا واحد ملک ہے جہاں سیاستدان سیاستدانوں کو چور' لٹیرے' سیکورٹی رسک' غدار قرار دیتے آرہے ہیں اور کسی مقام سے نفرت کے اس دھندے کی سر پرستی بھی ہوتی آرہی ہے۔ سیاسی مخالفین کے لئے غدار اور بھارتی ایجنٹ کی پھبتی پہلی بار اس مسلم لیگ نے کسی جس کا دعویٰ تھا کہ پاکستان اس نے بنایا ہے۔ آگے بڑھیں تو مختلف فرقوں کی قائم مذہبی سیاسی جماعتوں نے معاملات کو مزید بگاڑا۔ بہت سارے دوست اور کسی حد تک میں بھی اس نفرت بھری عدم برداشت کا ذمہ دار ایک خاص طبقے کو سمجھتے ہیں جو اپنے معاملات سے توجہ ہٹانے کے لئے سیاسی عمل کو گالی بنا دینے کو ضروری سمجھتا ہے۔ مگرکیا صرف وہی ایک ''طبقہ'' ذمہ دار ہے۔ سیاستدان معصوم اور ان کے پیروکاران چوچے ہیں؟ صاف سیدھی بات یہ ہے کہ بہت حد تک صورتحال کی ذمہ داری سیاستدانوں ان کی جماعتوں اور حامیوں پر بھی ہے۔ یہی نہیں بلکہ نفرت بھری سیاست کے اس کاروبار میں اہل صحافت نے بھی خوب حصہ ڈالا اور بعض نے خوب حصہ وصول کیا۔ اگر آپ آج کی نوجوان نسل کے بارہ افراد سے سیاست' جمہوریت اور صحافت کے حوالے سے گفتگو کریں تو بارہ میں سے کم از کم آٹھ کا جواب یہ ہوگا '' سیاستدان ملک لوٹ کے کھا گئے' صحافی لفافہ خور ہیں''۔ آپ سوال کیجئے سیاستدان کیسے ملک لوٹ کے کھا گئے تو وہ آپ کو پچھلے گیارہ برسوں کے دوران ٹی وی چینلوں اور اخباری کالموں اور خبروں کے ذریعے سامنے لائی گئی کرپشن کے حوالے سے بات کریں گے۔ سوال کیجئے کہ اگر پیپلز پارٹی اور نون لیگ چوروں کی جماعتیں ہیں تو ان جماعتوں کے ادوار حکومت میں بڑے بڑے عہدوں پر فائز رہنے والے جو لوگ اب تحریک انصاف کے خیمہ میں تشریف فرما ہیں وہ کیسے سادھو ہوئے۔ یہاں جواب ملے گا' تم لفافہ خور کرپٹ صحافی ہو پیپلز پارٹی اور ن لیگ کے دستر خوان پر پلنے والے۔ چند دن ادھر سیاسی کرپشن کے موضوع پر جمی ایک محفل میں سوال شرکائے محفل کے سامنے رکھا۔ کیا سارے بیرونی قرضے سیاستدان کھا گئے۔ کہیں کوئی کام بالکل نہیں ہوا؟ جواب ملا کیا کام ہوئے سڑکیں اور پل بنانے سے میٹرو یا اورنج لائن منصوبوں سے ترقی ہوتی ہے۔ یہ منصوبے بنائے اس لئے جاتے ہیں کہ کرپشن کی جاسکے۔ عرض کیا ''کیا ہم پشاور میٹرو منصوبے کو بھی اس زمرے میں شمار کرلیں؟'' جواب جواب میں جو سننے کو ملا وہ لفظوں میں ڈھال کر ان سطور میں لکھنا مشکل ہے۔ یہ سب کیوں ہے اس کی ایک وجہ تو وہ پیدائشی تجزیہ نگار ہیں جن کے دودھ کے دانت ابھی سلامت ہیں مگر ان کا زعم یہ ہے کہ جو وہ جانتے ہیں سب کہہ لکھ دیں تو قیامت برپا ہو جائے گی۔ دوسرے نمبر پر وہ اہل صحافت ہیں جنہوں نے صحافت سے زیادہ میڈیا منیجری کی سیاسی جماعتوں اور بعض اداروں کی۔ آپ کو یاد ہوگا کہ کچھ عرصہ قبل ان سطور میں عرض کیا تھا '' کیا ملکی و غیر ملکی قرضوں میں کرپشن کے حوالے سے ماحول بناتے اور آت اٹھائے پھرتے ہوئے محب وطنوں کے پاس اس سوال کاجواب ہے کہ ان قرضوں میں سے کتنی رقم ملکی دفاع کو مستحکم بنانے پر صرف ہوئی؟۔ جواب میں ایک تین سطری ای میل موصول ہوئی۔ '' تم گھٹیا اور ملک دشمن قوتوں کے ایجنٹ ہو اس لئے دفاع کے لئے قائم مقدس اداروں پر حرف گیری کرتے رہتے ہو''۔ سوال گندم جواب چنا اسی کو کہتے ہیں۔اب یقینا آپ سمجھ گئے ہوں گے کہ نفرت و عدم برداشت کی بنیادی وجہ ہے کہ جو ہمارا لیڈر اور مذہبی رہنما کہتا ہے وہ پورا سچ ہے باقی سب جھوٹ غلاظت اور ملک دشمنی ہے ہمیں یہ سوچ تبدیل کرنا ہوگی۔ ایک اور مثال عرض کردوں پچھلے ایک سال سے کہا جا رہا ہے کہ پچھلے دس برسوں میں 34 ارب ڈالر کا قرضہ لیا گیا۔ اسی ایک سال کے دوران 16ارب ڈالر کا قرضہ بھی لے لیا گیا۔ آپ کسی سے پوچھیں تو جواب ملے گا پچھلے قرضے اتارنے کے لئے نئے قرضے لئے۔ ارے بھائی! یہ اصولی رعایت آپ سابقہ حکومتوں کو کیوں نہیں دیتے۔ کالم کے اختتام سے قبل یہ عرض کردوں کہ اگر کسی نے کرپشن کی ہے تو قانون اور عدالتیں موجود ہیں تحریک انصاف ان سیاسی خانہ بدوشوں سے لا تعلقی کا اعلان کرے جو کرپشن چھپانے کے لئے اس کی پناہ میں آئے۔ حرف آخر یہ ہے کہ ایک دوسرے کو برداشت کیجئے' نفرتیں بڑھاتے چلے جانے سے فائدہ کم اور نقصان زیادہ ہوگا۔

متعلقہ خبریں