Daily Mashriq

آل پارٹیز کانفرنس، ولے بخیر گذشت

آل پارٹیز کانفرنس، ولے بخیر گذشت

اپوزیشن جماعتوں کی آل پارٹیز کانفرنس کیلئے پہلی بدشگونی تو یہی تھی کہ جماعت اسلامی کی صورت اپوزیشن کی بعض جماعتوں نے شرکت سے معذوری ظاہر کرکے اسے اسم بامسمیٰ یعنی آل پارٹیز بننے ہی نہیں دیا۔ باقی جماعتوں کو بھی اگر آل پارٹیز کا نام دیا جائے تو ان کا رویہ حکومت کے بارے میں حد درجہ مصالحانہ اور محتاط رہا۔ حکومتی عمارت کی جن اینٹوں کے کھسکنے کی اُمید کی جا رہی تھی وہ بھی عین ان لمحوں جب آل پارٹیز کانفرنس جاری تھی زیادہ مضبوطی کیساتھ دیوار میں جم رہی تھی۔ بلوچستان نیشنل پارٹی کے سربراہ اختر مینگل جنہیں خبروں اور قیا س آرائیوں اور خود اپنی ملفوف دھمکیوں کے باعث آل پارٹیز کانفرنس کا حصہ ہونا چاہئے تھا وزیراعظم عمران خان سے ملاقاتی ہو رہے تھے۔ وزیراعظم عمران خان اختر مینگل کے تحفظات دور کر رہے تھے اور اختر مینگل حکومت کیساتھ چلتے چلے جانے کا اعلان دہرا رہے تھے۔ اس تقریب کی روح رواں مولانا فضل الرحمان تھے جو ملک بھر میں ملین مارچ کے نام پر تنہا عوامی طاقت کے بڑے مظاہروں کے بعد اب حکومت کو دباؤ میں لانے کیلئے دوسری سیاسی جماعتوں کو ایک پلیٹ فارم پر اکٹھا کرنے کی مشق کر رہے ہیں۔ مولانا کی سیاست کا المیہ یہ ہے کہ بہت عرصے کے بعد ان کے پاس کھونے کو کچھ نہیں۔ پہلی بار نہ ان کے پاس کوئی حکومتی عہدہ ہے، نہ مرکزی وزارت اور نہ کسی صوبے کی وزرات اعلیٰ یا مخلوط حکومت۔ جنرل ضیاء الحق کے بعد تشکیل پانے والے منظرنامے میں مولانا کبھی خسارے میں نہیں رہے، انہوں نے اپنی پارلیمانی قوت کو ہمیشہ بہت مہارت کیساتھ سیاسی ایڈجسٹمنٹ کیلئے استعمال کیا۔ جنرل مشرف کا سیکولر دور بھی ان کے نعمت غیرمترقبہ ثابت ہوا اور شاید یہی ان کے سیاسی عروج کا عہد بھی تھا جب قائدحزب اختلاف کی کرسی پر وہ خود براجمان تھے، سینیٹ اور قومی وصوبائی ایوان جبہ ودستار سے بھرے بھرے لگتے تھے۔ خیبر پختونخوا اور بلوچستان کی صوبائی حکومتیں ان کی اپنی تھیں۔ اس کے بعد متحدہ مجلس عمل بکھر گئی اور مولانا پارلیمانی سیاست کے میدان میں قابل ذکر عددی قوت نہ بن سکے مگر پیپلزپارٹی اور مسلم لیگ ن دونوں حکومتوں میں مولانا چیئرمین کشمیر کمیٹی کے طور پر ’’اِن ‘‘ رہے۔ گزشتہ انتخابات نے مولانا کی سیاست اور سیاسی حکمت کاری کو ’’اپ سیٹ‘‘ کر دیا۔ پیپلزپارٹی اور مسلم لیگ ن کی صورت ان کی اتحادی اور ہم خیال جماعتیں بھی اقتدار کی منزل تک نہ پہنچ سکیں اور نتیجے کے طور پر مولانا بھی سسٹم کے اندر جگہ نہ پا سکے بلکہ وہ پارلیمنٹ تک بھی نہ پہنچ سکے۔ یہ عجیب منظر اور بدلا ہوا سسٹم اور اجنبی سا ماحول مولانا کی طبیعت پر اس قدر گراں ہے کہ وہ خود فرما چکے ہیں کہ میرے بس میں ہو میں حکومت کو ایک گھنٹہ برقرار نہ رہنے دوں۔ اس کا کیا کیجئے کہ پارلیمان میں عددی قوت جن اپوزیشن جماعتوں کے پاس ہے ان کے پاس اب بھی کھونے کو بہت کچھ ہے۔ مسلم لیگ ن قائد حزب اختلاف کے عہدے کیساتھ پارلیمان کی دوسری بڑی اور پیپلزپارٹی تیسری بڑی سیاسی قوت اور سندھ کی حکمرانی اور سینیٹ کی وائس چیئرمین شپ کی حامل ہے۔ یوں یہ جماعتیں حکومت میں نہ سہی مگر پارلیمان اور سسٹم کے اندر پوری طرح شراکت دار بھی ہیں اورحصہ دار بھی۔ کہیں سے سیٹی بج جائے تو آج کی یہ دو اپوزیشن جماعتیں ہاتھوں میں ہاتھ ڈال کر آنے والے کل کی حکومت بھی بن سکتی ہیں اور یہ معجزہ اسی پارلیمان کے اندر سے ظہور پذیر ہو سکتا ہے۔ اس طرح دونوں بڑی اپوزیشن جماعتوں کی شاخ مولانا کی انقلابی سیاست کا بوجھ موجودہ حالات میں برداشت نہیں کر سکتی۔ اس لئے جب بھی مولانا انقلاب کیلئے دباؤ بڑھاتے ہیں تو یہ شاخ بوجھ سے لچک سی جاتی ہے۔ مولانا کیلئے ان کے پاس دینے کو دعائیں بھی ہیں، محبتیں اور راز ونیاز بھی، ان کے احترام میں وہ کسی بھی بیٹھک تک کھنچے چلے آسکتے ہیں اور ان کی اقتدا میں وہ خوش الحان قرأت کا لطف بھی لے سکتے ہیں مگر موجودہ حالات میں دونوں جماعتیں ان کے سیاسی ایجنڈے اور لائن پر من وعن عمل نہیں کر سکتی۔ دونوں جماعتوں کی ایک اور قدر مشترک مقدمات، عدالتیں، نیب ضمانتیں، پیشیاں، ریفرنس، این آر او سمیت نجانے کیا کچھ ہے اور مولانا کی سیاست اس جھنجھٹ سے آزاد ہے۔ اس ماحول میں پیپلزپارٹی نے آل پارٹیز کانفرنس میں شرکت کیلئے جو وفد ترتیب دیا بلاول بھٹو زرداری کے نام سے خالی تھا۔ بھلا یہ بھی کوئی نمائندگی تھی کہ اس قدر محنت سے آل پارٹیز کانفرنس منعقد ہو اور بلاول اس سے غیرحاضر ہوں۔ بلاول اس کانفرنس میں حاضر تو ہوئے مگر وہ اصل وفد کی فہرست سے ان کا نام خارج کرکے پیپلزپارٹی نے مولانا کو اپنی مجبوریوں کا پیغام دیدیا تھا۔ مسلم لیگ ن کیلئے آل پارٹیز کانفرنس اس لحاظ سے اچھی رہی کہ شہباز شریف کے میثاق معیشت کی تجویز کو مذاق معیشت کہہ کر مذاق اُڑانے کے بعد یہ چچا بھتیجی کی ایک ساتھ پہلی عوامی اور میڈیائی رونمائی تھی۔ اس حال میں کانفرنس میں وہی ہوا جو نوشتہ دیوار تھا یعنی ایک کمزور اور ڈھیلا ڈھالا اعلامیہ جس میں حکومت کو سیکورٹی رسک قرار دیدیا گیا۔ اس میں احتجاج کا ذکر تھا نہ گھیراؤ جلاؤ کی تاریخ، نہ مار دھاڑ سے بھرپور عزائم کا اظہار۔ مولانا نے اسمبلیوں سے استعفیٰ دینے کی تجویز بھی دی مگر دو بڑی جماعتوں نے اس انقلابیت کی حمایت سے بھی ہاتھ کھڑے کر دئیے۔ لے دیکر تان چیئرمین سینیٹ کیخلاف تحریک عدم اعتماد کے وعدۂ فردا پر ٹوٹی۔ چیئرمین سینیٹ اس سے پہلے ہی آصف زرداری کی خیریت معلوم کر آئے ہیں، ضرورت پڑی تو وہ ایک دو بار پھر خیرخیریت دریافت کر لیں گے۔ یوں چچا غالب کا یہ شعر آل پارٹیز کانفرنس پر خوب جچتا ہے کہ

ہم نے سوچا تھا کہ غالب کے اُڑیں گے پُرزے

دیکھنے ہم بھی گئے تھے پہ تماشا نہ ہوا

متعلقہ خبریں