Daily Mashriq

’’فرض کرو ابھی اور ہو اتنی آدھی ہم نے چھپائی ہو‘‘

’’فرض کرو ابھی اور ہو اتنی آدھی ہم نے چھپائی ہو‘‘

ڈاکٹر مجاہد مرزا بیسویں صدی کی چھٹی اور ساتویں دہائی کے معروف ترقی پسند طالب علم رہنما تھے۔ ان کی آب بیتی ’’پریشاں سا پریشاں‘‘ پر سادہ لفظوں میں ’’فرض کرو یہ جی کی بپتا جی سے جوڑ سنائی ہو۔ فرض کرو ابھی اور ہو اتنی، آدھی ہم نے چھپائی ہو‘‘ ابن انشاء کے مندرجہ بالا شعر کے مصداق ہی ہے۔ کہانی ابھی باقی ہے اور اس بقیہ حصے کی روداد بھی دلچسپ ہوگی۔ سوویت یونین وہ پہنچے تھے اور اب روس میں مقیم ہیں۔ سوویت یونین کے روس بننے کے وہ عینی شاہدین میں سے ہیں اس لئے توقع کی جاسکتی ہے کہ ان کی سوانح عمری کا دوسرا حصہ بھی ایک تاریخی دستاویزات کے طور پر سیاست و تاریخ کے طلباء کی اگلی نسلوں کے کام آئے گا۔ ہم سے طالب علموں کو اس کا انتظار اس لئے بھی رہے گا یہ داستان لفظوں کی جادوگری سے زیادہ سیدھے لفظوں میں سادہ انداز میں ہوگی۔ ’’پریشاں سا پریشاں‘‘ میں انہوں نے اپنے خاندان کی ہجرت سے ماسکو ایئرپورٹ پر اُترنے تک کی داستان رقم کی ہے۔ ان کا خاندان 1947ء کے بٹوارے کی بدولت ہجرت کرکے سرائیکی وسیب کے دور افتادہ قصبے (اب تحصیل) علی پور کے محلہ رام پورہ میں آن بسا۔ یہ محلہ بھی اپنی مسلمانی کے بعد رام پورہ سے اسلام پورہ کہلایا‘ والد کاروباری شخصیت تھے، ابتدائی چند برس بہت اچھے گزرے پھر روایتی سادگی کی بناء پر سرکاری اہلکاروں کی دھوکہ دہی کے شکار ہوئے اور شہر کا متمول خاندان سفید پوشی کی چادر اوڑھ کر سفر حیات طے کرنے لگا۔ ابتدائی تعلیم علی پور کی درسگاہوں (اسکولز) سے حاصل کی۔ ایف ایس سی گورنمنٹ کالج لاہور سے اور ایم بی بی ایس نشتر میڈیکل کالج ملتان سے۔ پاک آرمی کی میڈیکل کور میں کیپٹن ڈاکٹر کے طور پر دو سال فرائض سر انجام دئیے۔ لاہور‘ کوٹ ادو اور مرید کے میں کلینک بنا کر طبی خدمات بھی ادا کیں اور پھر ایک دن ملک چھوڑ کر سوویت یونین (اب روس) جا بسے۔ عشق کا معرکہ سر کیا، نبھا بھی ہوا اور ان بن بھی، پھر یہ رشتہ ٹوٹ گیا مگر جتنی داستان حیات انہوں نے رقم کی ہے وہ ادھوری ہے اس لئے محبت کی شادی سے بنا گھر بکھر جانے کی کہانی دوسرے حصہ میں ہوگی۔

پچھلے دو دنوں کے دوران تین نشستوں میں ان کی سوانح عمری کا دستیاب حصہ پڑھ پایا‘ ان سموں جب یہ سطور رقم کر رہا ہوں تو چند گھنٹے بعد 9کلو میٹر کے فاصلے پر ان کی کتاب کی تقریب رونمائی ہے مگر اپنی علالت اور سستی کی وجہ سے شرکت کرنے سے قاصر ہوں۔ ’’پریشاں سا پریشاں‘‘ ان گزرے ماہ وسال کی تاریخ ہے جن میں تین مارشل لاء لگے۔ ملک ٹوٹا‘ بھٹو صاحب اقتدار میں آئے اور پھر پھانسی بھی چڑھا دئیے گئے۔۔مجاہد مرزا نے 702صفحات پر پھیلی آدھی داستان حیات میں جھوٹ‘ فریب اور ظاہری پارسائی کے بینڈ نہیں بجائے، جو دیکھا‘ محسوس کیا، جس سے گزرے اور جو ان کے ارد گرد ہو رہا تھا وہ سب لکھ دیا۔ عین ممکن ہے کہ دوغلے سماج میں ان کی داستان حیات کے دستیاب حصے پر لوگ چیں بجبیں ہوں کیونکہ کتاب کی صورت میں انہوں نے جو آئینہ بیچ چوراہے کے رکھ چھوڑا ہے اس میں سب کو اپنی اپنی شکل دکھائی دے۔ اپنا اصل دیکھنے سے گھبرائے سماج کا المیہ یہی ہوتا ہے کہ وہ پورا سچ سننا پڑھنا نہیں چاہتا۔ مجاہد مرزا کی داستان حیات کے بہت سارے کردار چند سالوں کے وقفے سے مجھ طالب علم کے بھی قابل احترام دوست ہوئے۔ مثلاً محمود نواز بابر ایڈووکیٹ‘ شوکت محمود خان ایڈووکیٹ‘ عزیز جاں عزیز نیازی ایڈووکیٹ‘ جناب ڈاکٹر اعزاز نذیر‘ کامریڈ جام ساقی اور بہت سارے دوسرے کردار۔ امتیاز عالم کا انہوں نے نقشہ کھینچا اور کیا خوب، مجھے امتیاز عالم سے پہلی ملاقات یاد آئی جو جنرل ضیاء الحق کے دور میں معصوم شاہ روڈ ملتان کے ایک گھر میں ہوئی تھی۔ اس ملاقات میں ناصر زیدی‘ عزیز نیازی‘ میرے چچا زاد بھائی ندیم شاہ‘ سید حسن رضا بخاری رضو شاہ بھی شامل تھے۔ امتیاز عالم ان دنوں اپنی پنجاب لوک پارٹی بنائے دوستوں سے ملاقاتیں کرتے تھے۔ یہ ملاقات بد مزگی پر ختم ہوئی کیونکہ عزیز نیازی‘ رضو شاہ‘ ندیم شاہ اس بات سے انکاری تھے کہ ہم پنجابی ہیں‘ سرائیکی قومی شناخت اور دیگر چند امور پر امتیاز عالم سے اتفاق نہ ہوسکا۔ مجاہد مرزا نے ربوہ کے ریلوے اسٹیشن پر پیش آئے اس واقعہ کے حوالے سے بھی جرأت مندی کیساتھ اصل مسئلہ لکھ دیا اور سازشیوں کے چہروں سے نقاب ہٹا دیا۔ یہ وہی واقعہ ہے جس کے بعد بھٹو دور کی اینٹی قادیانی موومنٹ چلی۔ جنرل ضیاء الحق کے مارشل لاء کے دوران ہی جب وہ آرمی میڈیکل کور میں دو سالہ خدمات کے بعد واپس شہری زندگی میں لوٹے تو شعوری طور پر ترقی پسندوں کیساتھ سر گرم عمل ہوگئے۔ سرائیکی لوک سانجھ کے بانیوں کے سپہ سالار اُستاد فدا حسین گاڈی کا ذکر انہوں نے محبت واحترام کیساتھ کیا اور ان کی دانش وانسان پروری کا تذکرہ بھی۔ ڈاکٹر مجاہد مرزا کو پچھلی صدی کی چھٹی اور ساتویں دہائیوں کے دوران گاہے اپنے نام کی وجہ سے منفی پروپیگنڈے کا شکار بھی ہونا پڑا۔ یہ ہمارے سماج کاالمیہ آج بھی ہے کہ کسی شخص کے فہم اور دیگر معاملات کا مقابلہ نہ ہو پائے تو جھٹ سے فتویٰ صادر کردیجئے۔ فتوئوں کی چاندماری جدوجہد کے دوران پولیس اور تفتیشی اداروں کے تشدد کیساتھ انہوں نے بعض اداروں کی جانب سے مخبر بن جانے کی پیشکشوں کا ذکر کیا۔ تین نشستوں میں پڑھے گئے 702 صفحات پر کم سے کم لفظوں میں یہ عرض کیا جاسکتاہے کہ ڈاکٹر مجاہد مرزا نے اپنے نام کی لاج رکھتے ہوئے دو بلکہ تین تین نقابوں میں چھپے کرداروں اور نفس پرستوں کو چوراہے پر لاکھڑا کیا ہے۔ گو یہ ان کی ذات کی گرد گھومتے ماہ و سال ہیں لیکن یہ کہنا غلط نہ ہوگا کہ ان ماہ و سال کی کہانی اور کہانی کے اندر کی کہانیاں لکھتے ہوئے انہوں نے بناوٹ سے کام نہیں لیا۔ یقینا جب وہ اپنی داستان حیات کا بقیہ حصہ لکھیں گے تو مزید سچ کھل کر سامنے آئیں گے۔

متعلقہ خبریں