Daily Mashriq

میٹرک کا امتحان۔۔ ایک اہم سنگ میل

میٹرک کا امتحان۔۔ ایک اہم سنگ میل

طلباء وطالبات کیلئے میٹرک کا امتحان ایک اہم سنگ میل ہوتا ہے، میٹرک کا نتیجہ آتے ہی کالجوں میں داخلوں کا سلسلہ شروع ہو جاتا ہے۔ سکول سے کالج جانے کی خوشی اور اسی طرح کی دوسری بہت سی باتیں زیادہ نمبر حاصل کرنے والے طلبہ کیلئے بہت سے خواب لیکر آتی ہیں۔ جب ہم چھوٹے تھے تو یہ نعرہ بہت مشہور تھا ’’کل نتیجہ نکلے گا کوئی ہنسے گا کوئی روئے گا‘‘ جہاں بہت سے طالب علم پاس ہوجاتے وہاں چند طلبہ فیل بھی ہو جاتے، پاس ہونے والے خوشیاں مناتے اور فیل ہونے والے ایک آدھ دن اُداس رہ کر پھر زندگی کی گہماگہمیوں میں مصروف ہوجاتے۔ چند دنوں بعد انہیں اپنی ناکامی یاد بھی نہ رہتی لیکن آج حالات بدل چکے ہیں، آج تعلیم کے حصول کا حق ادا کیا جارہا ہے یا نہیں لیکن ایک بات بالکل واضح ہے کہ تعلیم کا بھوت سب کے سر پر سوار ہے۔ تعلیم کے بھوت کی بجائے زیادہ نمبر لینے کا بھوت کہا جائے تو شاید زیادہ بہتر ہوگا۔ رٹہ لگانے والے طلبہ کے حوالے سے یہ خیال بہت عام ہے کہ وہ زیادہ نمبر حاصل کرنے میں کامیاب تو ہو جاتے ہیں لیکن انہیں اپنے پڑھے ہوئے کی زیادہ سمجھ نہیں آتی، رٹے کا تعلق چونکہ حافظے کیساتھ ہوتا ہے اس لئے امتحان کے فوراً بعد زبانی یاد کئے ہوئے اسباق حافظے سے محو ہوجاتے ہیں۔ تعلیم کے حصول میں بنیادی اہمیت اپنے پڑھے ہوئے کو سمجھنا ہے جس کیلئے عام طور پر کہا جاتا ہے کہ Concepts clear ہونے چاہئیں اور یہی وہ طالب علم ہوتے ہیں جو عملی زندگی میں کامیاب ہوتے ہیں۔ یہ ہمارا روزمرہ کا مشاہدہ ہے کہ میٹرک، ایف ایس سی کے امتحانات میں بہت زیادہ نمبر حاصل کرنے والے طلباء وطالبات انٹری ٹسٹ میں عموماً فیل ہو جاتے ہیں اور جن طلبہ نے کم نمبر حاصل کئے ہوتے ہیں وہ کامیاب ہوجاتے ہیں۔ یہ وہی طلبہ ہوتے ہیں جو سمجھ کر پڑھتے ہیں جن کے آئیڈیاز واضح ہوتے ہیں۔ پشاور کے کچھ نامی گرامی سکول آٹھویں جماعت سے ہی طلبہ کو رٹے پہ لگا دیتے ہیں، طلبہ کاپیاں بھرتے ہیں اور ان سوالات کو بے تحاشہ یاد کرتے چلے جاتے ہیں۔ یہ پرانے پرچہ جات کے ہر سال امتحان میں آنے والے سوالات ہوتے ہیں جن کو زبانی یاد کرکے زیادہ نمبر تو حاصل کر لئے جاتے ہیں لیکن اس حوالے سے بہت بڑا لمحۂ فکریہ یہ ہے کہ یہی زیادہ نمبر حاصل کرنے والے طلبہ آگے چل کر تعلیم کے میدان میں کوئی بڑا کارنامہ سرانجام دینے سے محروم رہتے ہیں! تعلیم ایک مشکل موضوع ہے اور اس حوالے سے اچھی بری باتیں تو چلتی ہی رہتی ہیں لیکن اس کہانی کا سب سے افسوسناک پہلو یہ ہے کہ آج کل زیادہ سے زیادہ نمبروں کے حصول کو ہی سب کچھ سمجھ لیا گیا ہے اور میٹر ک کے رزلٹ کے بعد بہت افسوسناک قسم کی خبریں سننے کو ملتی ہیں جنہیں قلمبند کرتے ہوئے کلیجہ منہ کو آتا ہے۔ کم نمبر حاصل کرنے والے طالب علم دل برداشتہ ہوکر خودکشی کر لیتے ہیں، اس قسم کے حادثات ہم سب کیلئے بہت بڑا لمحۂ فکریہ ہیں جن میں والدین، اساتذہ کرام اور سکول انتظامیہ سب برابر کے قصوروار ہیں۔ میٹرک کے بعد بھی انسان کو عملی زندگی میں بہت سے امتحانوں سے واسطہ پڑتا ہے اور طلبہ پر یہ بات بھی واضح کر دینی چاہئے کہ بہت سے نالائق طلبہ بھی زیادہ نمبر حاصل کرنے میں کامیاب ہو جاتے ہیں۔ وہ یہ نمبر کیسے حاصل کرتے ہیں؟ (اس پر پھر کبھی بات ہو جائے گی) اساتذہ کرام، والدین اور سکول انتظامیہ کا یہ فرض ہے کہ وہ طلبہ کو اس حوالے سے یہ سکھائیں کہ اللہ پاک نے انسان کو بہت سی صلاحیتوں سے نواز رکھا ہوا ہے۔ ایک اچھا انجینئر کبھی اچھا ڈاکٹر نہیں بن سکتا، انہیں یہ بھی بتانے کی ضرورت ہے کہ دنیا میں کامیاب لوگوں کے بہت سے شعبے ہیں، انہیں صرف انجینئرنگ اور میڈیکل تک محدود نہیں کیا جاسکتا۔ امریکہ اور دوسرے ترقی یافتہ ممالک میں اگر آپ بچوں سے سوال پوچھیں تو کوئی کہے گا میں صحافی بننا چاہتا ہوں، کوئی کارپینٹر، تو کوئی آرٹسٹ! زندگی بہت زیادہ وسیع ہے اس کے بہت سے شعبے ہیں جن کا شمار بھی ممکن نہیں ہے۔ اس معاشرے کو چلانے کیلئے سب کا اپنا اپنا کردار ہوتا ہے، سب کی اپنی اپنی اہمیت ہوتی ہے، کسی کو کسی بھی حوالے سے کمتر نہیں سمجھنا چاہئے! ہماری آج کی جدید دنیا کے بڑے بڑے نام جن میں بہت بڑے سائنسدان بھی شامل ہیں سکول وکالج کے امتحانات میں کم نمبر حاصل کرنے والے تھے لیکن بعد میں جب وہ اپنے متعلقہ شعبے میں آئے تو پھر انہیں پیچھے مڑ کر دیکھنے کی فرصت بھی نہیں ملی! آج ان کا شمار ہماری دنیا کے کامیاب ترین لوگوں میں ہوتا ہے! ہم سب نے طلباء وطالبات کی حوصلہ افزائی کرنی ہے، ان کے مسائل کو دیکھنا ہے کم نمبر حاصل کرنے سے کوئی قیامت نہیں آجاتی اگر یہ زیادہ نمبر حاصل کرنے میں کامیاب نہیں ہوتے تو ان کیساتھ بڑے پیار ومحبت کیساتھ مکالمہ کرنا ہے، انہیں سینے سے لگانے کی ضرورت ہے، انہیں سچ مچ کی تعلیم کا شعور دینا ہے! سچ مچ کی تعلیم اور زیادہ نمبر حاصل کرنے والی تعلیم کا فرق سمجھانا ہے!

متعلقہ خبریں