Daily Mashriq

بجلی کی قیمتوں میں اضافے کا پریشان کن فیصلہ

بجلی کی قیمتوں میں اضافے کا پریشان کن فیصلہ

حکومت نے بجلی کے نرخوں میں بتدریج تین حصوں میں سوا2 سے ڈھائی روپے فی یونٹ تک اضافے کا اعلان کیا ہے تاکہ دسمبر کے آخر تک گردشی قرضوں کو کم کرکے250ارب روپے تک لایا جاسکے۔ وزیرتوانائی عمرایوب خان نے عندیہ دیا ہے کہ پہلا اضافہ آئندہ دو سے تین ماہ میں1روپے یونٹ کا کیا جائے گا، بقیہ اضافہ دو سہ ماہیوں کے دوران کیا جائے گا۔ انہوں نے کہا سابقہ حکومت نے انتخابی فائدے کو مدنظر رکھتے ہوئے نیشنل الیکٹرک پاور ریگولیٹری اتھارٹی کی جانب سے تجویز کردہ ٹیرف میں اضافے کے نوٹیفکیشن کو روک دیا تھا، نیپرا نے 3.66روپے فی یونٹ اضافے کی منظوری دی تھی لیکن اس اضافے کو عوام تک منتقل نہ کیا گیا جس کی وجہ سے گردشی قرضے حد سے زیادہ بڑھ گئے۔ بجلی کی قیمتوں میں اضافہ اور گیس بلوں میں اضافہ اور پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ ہر حکو مت وقت کے وہ کند ہتھیار ہیں جو وقتاً فوقتاً عوام پر آزمائے جاتے رہے ہیں۔ اس ضمن میں کسی حکومت کو استثنیٰ نہیں دیا جاسکتا جو بھی حکومت آئی اس نے یہی آسان اور فوری نافذالعمل طریقہ اختیار کیا، موجودہ حکومت بھی تسلسل کیساتھ یہی طریقۂ کار اختیار کئے ہوئے ہے بلکہ اگر قرار دیا جائے کہ مختصر مدت میں موجودہ حکومت نے بجلی کے نرخوں میں باربار اضافے کا گزشتہ حکومتوں کا ریکارڈ توڑ دیا ہے تو مبالغہ نہ ہوگا چونکہ موجودہ حکومت کے دعوے اور وعدے گزشتہ حکمرانوں سے زیادہ خوشنما اور دل آویز تھے اور موجودہ حکمران ریاست مدینہ کی بھی مثالیں دیکر عوام کو یقین دلاتے رہے ہیں کہ ان کی حکومت کیسی ہوگی۔ صرف یہی نہیں عوام نے بھی تبدیلی اور لٹیروں سے رقم وصول کر کے ملکی اخراجات چلانے اور عوام کو ریلیف دینے کی اُمید پر حکمرانوں کو کامیاب بنایا تھا۔ بنابریں عوام کی حکومت سے توقعات بھی حقیقت پسندانہ سے بڑھ کر ہونا فطری امر تھا مگر اب جب عمل کی باری آئی تو ناچ نجانے آنگن ٹیٹرھا والا معاملہ سامنے آرہا ہے جس سے عوام ہی نہیں خود اس حکومت کے حامیوں کا ماتھا ٹھنکنا کوئی باعث تعجب بات نہیں۔ بجلی کے بلوں میں اضافے کی جو توجیہہ موجودہ حکمران پیش کر رہے ہیں انہی توجیہات کا تذکرہ ہر نئی حکومت کے دور میں ہوتا رہا۔ گردشی قرضوں کے حجم میں اضافہ کوئی نئی بات نہیں اور گزشتہ حکومت کا اپنے دور کا بحران کا میابی سے آنے والی حکومت کی طرف کھسکانے کا عمل بھی غیرمتوقع عمل نہ تھا۔ اس امر کا اعتراف ہونا چاہئے کہ پیپلز پارٹی کی حکومت جاتے جاتے گردشی قرضوں کا بوجھ چھوڑ گئی تھی اور ملک میں بدترین لوڈشیڈنگ کی جو صورتحال بن گئی تھی اس میں نمایاں بہتری لانے کیلئے مسلم لیگ(ن) کی سابق حکومت کے وزیرخزانہ نے یکمشت رقم کی ادائیگی کر کے صورتحال کو بہتر بنایا تھا اور گزشتہ پانچ سالوں کے دوران ملک میں بجلی کا بحران شدید سے کم درجے کا رہا۔ عوام کو موجودہ حکومت سے اس سے بہتر حکمت عملی اور اقدامات کی توقع ہے اور اگر ایسا ممکن نہیں تو کم ازکم اس صورتحال کو اس طرح سے نہ بگڑنے دیا جائے کہ گرمیوں میں عوام کو سخت مشکلات سے دوچار ہونا پڑے۔ گردشی قرضوں کی ادائیگی کیلئے حکومت یکمشت رقم فراہم کرنے کا بندوبست کرے اور یہ بوجھ عوام پر منتقل نہ کیا جائے کیونکہ عوام پہلے ہی بجلی کے بھاری بلوں سے سخت نالاں ہیں، حکومت کو نئے ٹیرف کی منظوری سے انکار کرنا چاہئے۔ ہم سمجھتے ہیں کہ گردشی قرضوں میں اضافہ پر حکومت کو ان قرضوں کی ادائیگی کا بوجھ اُٹھانے کی بجائے اس بوجھ کو عوام پر منتقل کرنا اس لئے قرین انصاف نہیں کہ صارفین جو بجلی خرچ کرتے ہیں اس کے بل بھی ماہ بہ ماہ ادا کرتے ہیں اور جہاں بھی چوری ہوتی ہے اور لائن لائسز ہوتے ہیں اس کی روک تھام اور تدارک عوام کی نہیں حکومت کی ذمہ داری ہے۔ وزیرتوانائی نے آئندہ دو سے تین ماہ کے دوران ایک روپے فی یونٹ اضافہ کی جو تجویز دی ہے اس سے بجلی کی پہلے ہی سے مہنگے ترین یونٹ مزید مہنگے ہوجائیں گے جس کے عوام متحمل نہیں ہوسکتے۔ حکومت کو چاہئے کہ وہ تمام بوجھ بل کی ادائیگی کرنے والے صارفین پر منتقل کرنے کی بجائے بجلی چوروں کی روک تھام اور لائن لاسز میں کمی لانے پر توجہ دے لیکن ایسا لگتا ہے کہ حکومت کو مشکل نہیں آسان فیصلے مرغوب ہیں۔ اس کو عوام کی مشکلات کا کوئی احساس نہیں، اگر ایسا نہیں تو پھر گزشتہ حکومتوں کی طرح موجودہ حکومت بھی بجلی کی قیمتوں میں اضافہ ہی کو گردشی قرضوں کی ادائیگی کا ذریعہ کیوں بنا رہی ہے۔ موسم گرما میں صرف بجلی کی مہنگائی ہی سنگین مسئلہ نہیں ہوتی بلکہ طویل لوڈشیڈنگ کا جو سلسلہ ابھی سے جاری ہے اس میں مزید شدت آنے کا خدشہ ہے جس پر حکومت کو بروقت توجہ دینے کی ضرورت ہے تاکہ عوام دوہری مشکل کا شکار نہ ہوں۔ حکومت کو اس امر کی سعی کرنی چاہئے کہ وہ عوام کی مشکلات میں کمی لائے نہ کہ ایسے فیصلے کئے جائیں جن کے نتیجے میں عوام پر مزید بوجھ پڑے۔

متعلقہ خبریں