Daily Mashriq

غیراستعمال شدہ فنڈز یا جبری وصولی

غیراستعمال شدہ فنڈز یا جبری وصولی

خیبر پختونخوا حکومت کے تمام سرکاری محکموں اور اداروں سے غیراستعمال شدہ فنڈز کو واپس لینے کے فیصلے سے مالیاتی بحران کا عندیہ تو ملتا ہے جس کی وجوہات موجود ہیں جس میں بجلی کے خالص منافع کی خطیر رقم کا عدم حصول سرفہرست ہے۔ اسی طرح محصولات کی وصولی میں کمی بھی ایک ممکنہ وجہ ہو سکتی ہے جبکہ آمدن سے زیادہ اخراجات اور مختص رقم سے تجاوز بھی ایک بڑی وجہ ہو سکتی ہے۔ ذرائع کے مطابق فنانس ڈیپارٹمنٹ خیبر پختونخوا نے تمام سرکاری محکموں اور اداروں سے رواں مالی سال کے دوران استعمال شدہ اور غیراستعمال شدہ فنڈز کو واپس لینے کا فیصلہ کیا ہے تاکہ جون سے قبل مذکورہ فنڈز کو صوبے میں جاری ترقیاتی منصوبوں کو مکمل کرنے کیلئے استعمال کیا جا سکے۔ غیراستعمال شدہ رقم سے ترقیاتی کاموں کی تکمیل مناسب عمل ہوگا لیکن وہ کونسے منصوبے ہیں جن کی حکومت تکمیل کی خواہاں ہے۔ ماضی میں صوبائی حکومت ٹیکسٹ بک بورڈ پشاور سے رقم لیکر بی آر ٹی منصوبے پر خرچ کر چکی ہے بہرحال جو نامکمل منصوبے فنڈز کی کمی کے باعث ادھورے پڑے ہیں ان کی جتنا جلد تکمیل ہو سکے احسن ہوگا لیکن اس کی آڑ میں محکموں سے دباؤ ڈال کر فنڈز کی اضافی رقوم کے نام پر وصولی نہیں ہونی چاہئے۔ بہتر ہوگا کہ صوبائی حکومت اس پر مجبور ہونے کے بجائے وفاقی حکومت سے بجلی کے خالص منافع کے بقایاجات کی وصولی کیلئے دباؤ ڈالے۔

شہر میں جگہ جگہ غیر متعین ڈمپنگ سٹیشنز جلد ختم کئے جائیں

ہمارے نمائندے نے اپنی رپورٹ میں ایک عام اور سنگین مسئلے کی احسن طریقے سے نشاندہی کی ہے جس میں کہا گیا ہے کہ پشاور کے تمام خالی پلاٹس واٹر اینڈ سینی ٹیشن سروسز کمپنی نے کچرا جمع کرنے کے مراکز بنا دیئے۔ ڈبلیو ایس ایس پی نے کچرا اکٹھا کرنے کیلئے شہر کے خالی پلاٹس کو ٹرانسفر سٹیشن بنا دیا ہے جسے بعد میں شمشتو ڈمپنگ سائٹ منتقل کر دیا جاتا ہے۔ شہریوں کے مطابق ان کے علاقے میں خالی پلاٹ میں جمع کچرا بدبو کا باعث بن رہا ہے اور مختلف بیماریاں پھیلنے کا خدشہ پیدا ہو جاتا ہے۔ ڈبلیو ایس ایس پی ترجمان کے مطابق شمشتو ڈمپنگ سائٹ دور ہونے کی وجہ سے چھوٹی گاڑیوں کیلئے وہاں کچرا لے جانا مشکل ہے اسلئے ان ٹرانسفر سٹیشن کا تعین کیا گیا ہے جہاں سے بڑی گاڑیاں کچرا ڈمپنگ سائٹ لے جاتی ہیں۔ چھوٹی گاڑیوں کا شہر کا کچرا اٹھا کر شمشتو کیمپ تک لیجانے کیلئے موزوں نہ ہونے کی حد تک تو ڈبلیو ایس ایس پی کا موقف درست ہے لیکن اس کا طریقہ یہ اختیار کرنا کہ شہر میں جگہ جگہ خالی جگہوں اور پلاٹوں کو عارضی ڈمپنگ سٹیشن بنا دیا جائے اور گلیوں وسڑکوں کا کچرا وہاں جمع کر کے دنوں اور ہفتوں سڑنے کیلئے چھوڑ دیا جائے کسی صورت موزوں عمل نہیں۔ کمپنی کو اگر عارضی طور پر کچرا پھینکنے کی ضرورت ہے تو اس کیلئے کسی موزوں مقام پر آبادی سے فاصلے پر جگہ مختص کی جائے۔ اس امر کی کوئی گنجائش نہیں ہونی چاہئے کہ پورے شہر میں عارضی اور غیرمتعین ڈمپنگ سٹیشن بنائے جائیں اس کی ممانعت کی ہدایت متعلقہ صوبائی وزیر نے بھی کی ہے لیکن ان کے احکامات پر بھی عمل نہیں ہو رہا ہے جس کا نوٹس لیا جانا چاہئے۔

قابل تقلید عمل

خیبر پختونخوا کے سب سے بڑے تدریسی لیڈی ریڈنگ ہسپتال کے شعبہ کارڈیالوجی کے بعد دیگر شعبوں کی کارکردگی کا بھی جائزہ لینے اور ہسپتال کا معیار مزید بہتر بنانے کے اقدامات پر ہسپتال کے بعض ڈاکٹروں اور طبی عملے معترض تو ہوں گے لیکن عوامی نقطہ نظر سے یہ ایک احسن اقدام ہوگا جس میں ان افراد کا احتساب ہوسکے گا جس کی طرف کسی نے توجہ دینے کی اب تک زحمت گوارا نہیں کی۔ واضح رہے کہ ہسپتال انتظامیہ اور بورڈ آف گورنرز کی جانب سے شعبہ کارڈیالوجی کے بعض ڈاکٹروں کی پرفارمنس کی جانچ پڑتال میں ایسے معاملات سامنے آئے تھے جن کی روک تھام مریضوں کے بہتر مفاد میں تھی۔ ہسپتال میں ڈاکٹروں کی جب ایک مرتبہ تقرری ہو جاتی ہے تو تاوقت ریٹائرمنٹ ان کی کارکردگی کا جائزہ لینے کا کوئی رواج ہی نہیں تھا اور نہ ہی متاثر ہونے والے فریق کی جانب سے شنوائی کیلئے پی ایم ڈی سی یا عدالت سے رجوع کرنے کا زیادہ رواج رہا ہے جس کی وجہ سے عدم احتیاط لاپرواہی وکوتاہی کے امکانات میں اضافہ فطری امر تھا۔ ایل آر ایچ میں پہلی مرتبہ اسی طرف توجہ دینے کے بعد جو حقائق سامنے آئے اس سے بھی محولہ خدشات وامکانات کی تصدیق ہوئی جس کے بعد ضرورت اس امر کی ہے کہ خیبر ٹیچنگ اور حیات آباد میڈیکل کمپلیکس سمیت صوبے کے چھوٹے بڑے ہسپتالوں میں کسی نہ کسی درجے اس قسم کا جائزاتی عمل شروع کیا جانا چاہئے۔ اس ضمن میں سرکاری سطح پر بھی اقدامات کی ضرورت ہے تاکہ معالجین مزید احتیاط کریں اور مریضوں کے علاج میں مزید توجہ کو یقینی بنایا جاسکے۔

متعلقہ خبریں