Daily Mashriq

مشرقیات

مشرقیات

سلیمان بن عبدالملک جو بنی امیہ کا بادشاہ تھا نے ایک مرتبہ شیخ الحدیث ابو حازمؒ سے دریافت کیا: ’’ اس کی کیا وجہ ہے کہ ہم لوگ دنیا کو پسند اور آخرت کو نا پسند کرتے ہیں؟‘‘۔

آپ نے برجستہ جواب دیا: ’’ تم لوگوں نے دنیا کو آباد کیااور آخرت کو برباد کیا ہے‘ اس لئے تم لوگ آبادی سے ویرانے کی طرف منتقل ہونے سے گھبراتے ہو۔‘‘ پھر سلیمان نے کہا: ’’ کاش ہم کو معلوم ہو جاتا کہ آخرت میں ہمارا کیا حال ہے؟‘‘۔ آپ نے فرمایا: ’’ قرآن پڑھ لو‘ تمہیں معلوم ہو جائے گا۔‘‘سلیمان نے پوچھا : ’’ کون سی آیت پڑھوں؟‘‘ آپ نے فرمایا: ’’ (یہ آیت: ترجمہ) ’’ نیکو کار یقینا جنت میں ہوں گے اور بدکار یقینا جہنم میں ہوں گے۔‘‘پھر سلیمان نے دریافت کیا: ’’ دربار الٰہی میں بندوں کی حاضری کا کیا منظر ہوگا؟‘‘ آپؒ نے جواب دیا: ’’ نیکو کاروں کا تو یہ حال ہوگا کہ جیسے برسوں کا بچھڑا ہوا مسافر خوشی خوشی اپنے اہل و عیال میں آتا ہے اور بد کاروں کا یہ حال ہوگا کہ جیسے بھاگا ہوا غلام گرفتار ہو کر آقا کے سامنے پیش کیاجاتا ہے۔‘‘ شیخ ابو حازم کی یہ حق گوئی تاثیر کا تیر بن کر سلیمان کے قلب میں پیوستہ ہوگئی اور وہ چیخ مار کر رونے لگا۔

حضرت شیخ سعدیؒ بیان کرتے ہیں کہ ایک گدھ اور چیل کے درمیان بحث چھڑ گئی کہ دونوں میں کس کی نگاہ زیادہ تیز ہے؟ گدھ کہنے لگا کہ میری نگاہ زیادہ تیز ہے‘ جبکہ چیل کہنے لگی کہ میری نگاہ تجھ سے زیادہ تیز ہے۔

پھر دونوں اپنے اس دعوے کا ثبوت فراہم کرنے کے لئے بلندی کی جانب اڑے۔ جب دونوں بلندی پر پہنچ گئے تو گدھ نے زمین کی جانب نگاہ دوڑاتے ہوئے چیل سے کہا کہ میں زمین پر گندم کا ایک دانہ پڑا ہوا صاف دیکھ رہا ہوں۔چیل بولی کہ چلو نیچے چل کر دیکھتے ہیں‘ اگر تمہاری بات درست ثابت ہوئی تو تم جیت گئے اور میں ہار گئی۔پھر دونوں نے غوطہ لگایا اور جب زمین پر پہنچے تو دیکھا کہ وہاں واقعی گندم کا ایک دانہ موجود تھا‘ مگر اس دانے کی وہاں موجودگی بے سبب نہ تھی بلکہ وہاں ایک شکاری نے جال لگا رکھا تھا جو پرندوں کو پھانسنے کے لئے تھا۔گدھ نے زمین پر اتر کر گندم کا وہ دانہ اٹھانا چاہا تو شکاری کے جال میں پھنس گیا‘ چیل نے جب یہ دیکھا تو حیرانگی سے بولی کہ تو نے اتنی بلندی سے گندم کا ایک دانہ تو دیکھ لیا مگر شکاری کا جال تجھے نظر نہ آیا۔ گدھ افسردہ ہو کر بولا کہ تقدیر کا فیصلہ آنے پر عقل جاتی رہتی ہے اور جب قضا اپنا حربہ استعمال کرتی ہے تو تیز نگاہ رکھنے والوں کی بھی نگاہ جواب دے جاتی ہے۔

حضرت شیخ سعدیؒ اس حکایت میں بیان کرتے ہیں کہ ہر کام تقدیر کے لکھے کے مطابق انجام پاتا ہے اور خدا عزوجل نے جو اختیارات انسان کو دئیے ہیں اگر وہ انہیں صحیح طریقہ سے استعمال کرے تو وہ اس کے لئے باعث نجات ہوں گے اور اگر ان کا استعمال ناجائز ہوگا تو یہی اس کے لئے وبال ہوں گے۔

متعلقہ خبریں