Daily Mashriq

دل پر دستک دینے کون آنکلا ہے

دل پر دستک دینے کون آنکلا ہے

لدھ گیا وہ زمانہ جب اسداللہ خان غالب خط یا چٹھی پتر لکھتے وقت کہا کرتے تھے کہ

قاصد کے آتے آتے خط اک اور لکھ رکھوں

جانتا ہوں جو وہ لکھیں گے جواب میں

کبھی قاصد کبوتر چٹھی پتر لیجانے اور اس کا جواب لانے کا فریضہ انجام دیتے تھے۔ پھر تیز رفتار گھوڑوں اور اونٹوں کے ذریعہ ترسیل ڈاک کا نظام چلنے لگا۔ جب پہیہ ایجاد ہوا اور اس کے بل چلتی کا نام گاڑی وجود میں آئی تو ترسیل ڈاک کا یہی نظام آٹو موبائل گاڑیوں ریلوے ٹرین کے علاوہ دخانی اور ہوائی جہازوں کی مدد سے انجام پانے لگا۔ ٹیلی فون کی ایجاد نے حال دل سننے اور سنانے کے عمل کو آسان سے آسان تر کردیا۔ اور وہ نوراں جو بیتے زمانے میں کبوتر کو رب کا واسطہ دے کر ڈھول کی چٹھی پہنچانے کے لئے منت سماجت کرتی تھی جھوم جھوم کر شمشاد بیگم کی مد بھری آواز میں کہنے لگی کہ

میرے پیا گئے رنگون کیا ہے وہاں سے ٹیلی فون

تمہاری یاد ستاتی ہے جیا میں آگ لگاتی ہے

ٹیلی فون کے نظام نے ٹیلی مواصلات کے سسٹم کو متعارف کرایا۔ اور جب تیز رفتارترقی کرتی انفارمیشن ٹیکنالوجی نے فتح اور کامرانی کے جھنڈے گاڑھے تو دیکھتے ہی دیکھتے پیغام رسانی کا نظام اوج ثریا تک جا پہنچا دنیائے آب و گل’ کروی دیہات یا گلوبل ویلج‘ میں ڈھل کر رہ گئی۔ ہر کس ناقص کے ہاتھ میں موبائل سیٹ آگیا جس سے اور وہ اپنے من کی بات ایس ایم ایس یا مختصر پیغام رسانی نظام کے ذریعے کرنے لگے ۔ لیکن ایس ایم ایس کے ذریعے پیغام رسانی سے بہت پہلے عہد حاضر اور ماضی قریب کے جادوگر کمپیوٹر کے معرض وجود میں آنے اور اس کے عام ہونے کے دوران الیکٹرانک خط و کتابت کا نظام ای میل سسٹم کے نام سے متعارف ہوچکا تھا۔ جس کے ذریعہ پیغامات ایک جگہ سے دوسری جگہ پہنچانے میں پلک جھپکنے کی دیر لگنے لگی ۔ مکتوب نگار ایک فنگر کلک کے فاصلے پر بیٹھ کر ایک دوسرے کے حالات سے باخبر رہنے لگے۔کسی زمانے میں اخبار میں چھپنے والے کالم

بات پر واں زبان کٹتی ہے

وہ کہیں اور سنا کرے کوئی

کے مصداق لکھنے ولا اپنا مافی الضمیر بیان کرکے چپ ہورہتا تھا ، اور یوں پڑھنے والوں کے لئے اس کی تحریر پتھر پر لکیر ثابت ہوتی تھی ، لیکن آج کے دور میں ایسا نہیں ، کبھی کبھی تو کالم نگار کا لکھا حرف غلط یا نقش بر آب بھی ثابت ہوجاتا ہے کہ لکھنے والا کالم کی پیشانی پر لکھے ای میل ایڈریس کے ذریعے اسے مخاطب ہوکر اپنی رائے کا اظہار کرنے لگتا ہے جو اسے ای میلز موصول ہوتی ہے، ان تجزیوں ، تبصروں میں اکثر تعریفوں کے پل باندھ کر کالم نگار کی دل جوئی کرنے والوں کی کوئی کمی نہیں ہوتی ، لیکن لاکھوں میں چند ایسے بھی مل جاتے ہیں جو لکھنے والے کی تحریر پر تنقید کرکے ان کی اصلاح کا موجب بنتے ہیں ، یا اس معلومات میں اضافے کا باعث ثابت ہو کر ہمارے لبوں پر آنے والے حروف تشکر کے حقدار ٹھہرتے ہیں ، کل ہی کی بات ہے ہم نے پاکستان کے برادر ملک ملیشیاء کے وزیر اعظم ڈاکٹر مہاتیر محمد کے حوالے سے جو کالم لکھا تھا اس کو پڑھنے کے فوراْ بعد ہمارے ایک جہاندیدہ اور پڑھے لکھے قاری ناصر تاجک نے تبصرہ کرتے ہوئے ہمارے ای میل ایڈریس پر ہمیں مخاطب کرتے ہوئے کہا ہے کہ ’’ ممتاز کالم نگار عبدالقدیر حسن نے اپنے ایک کالم میں لکھا تھا کہ ان کی ملاقات ڈاکٹر مہاتیر محمد سے ہوئی تھی جنہوں نے اس بات کا اقرار کیا تھا کہ ان کے دادا بزرگوار کا تعلق پشاور سے تھا ، اور بقول ان کے اس کے متعلق انہوں نے ڈاکٹر ظہور احمد اعوان اورڈاکٹر امجد حسین کو بھی بتایا تھا ، جس کو مرحوم ڈاکٹر ظہور احمد اعوان نے اپنے کالم میں دہرایا بھی تھا، انہوں نے لکھا ہے کہ ڈاکٹر مہاتیر محمدکے جد امجد کے پشاوری ہونے کی تصدیق سعادت عمرہ کے دوران ملیشیاء سے آئے ہوئے ایک ہم سعادت دوست نے بھی کی تھی ، جنہوں نے بتایا تھا کہ ڈاکٹر مہاتیر محمد کے دادا بزرگوار نے ایک ملائی خاتون سے شادی کی تھی جس سے انکا اکلوتا بیٹا پیدا ہوا جس نے اسکول ٹیچر کا پیشہ اپنایا ، ہمارے گرانقدر قاری نے یہ نہیں بتایا ، کہ ڈاکٹر مہاتیر محمد کے اسکول ٹیچر والد نے کس خاتون سے شادی کی ، جس کے متعلق ہم اپنے مطالعہ کی بنیاد پر عرض کرچکے ہیں ، بہر طور یہ موضوع اتنا دلچسپ اور متنوع ہے جس پر تحقیق و جستجو اور دعوت فکر کے لامحدود مواقع موجود ہیں ، جناب ناصر تاجک نے اپنے ای میل میں پشاور سے تعلق رکھنے والے بہت سے نابغہ روزگار لوگوں کے نام گنوائے ہیں ، جن کے متعلق ہم پہلے ہی عرض کرچکے ہیں کہ ان سب ناموں کو گنوانا یا ان پر کچھ لکھنا ایک ہی کالم کے بس کی بات نہیں ، پشاور میں بہتے باڑے کے پانی کا قرض چکانے والے ان لاتعداد دمکتے چہروں کی روشنی کو احاطہ کرنے کے لئے عمر خضر کے علاوہ کئی کئی جلدوں پر مشتمل کتابیں لکھنے کی ضرورت ہے ، ابھی تو ملیشیاء کے وزیر اعظم ڈاکٹر مہاتیر محمد کی تحقیق طلب پشاوریت ہمیں دعوت فکر دے رہی ہے ، اللہ کرے جوہر شناس لوگوں سے ہمارا دو طرفی رابطہ ہمیں تلاش اور جستجو کے اس چاندنی چوک تک پہنچادے جہاں پہنچنے کی آرزو منزل مراد کے دریچوں پر دستک دینے کا باعث ثابت ہوسکتی ہے

دل پر دستک دینے کون آنکلا ہے

کس کی آہٹ سنتا ہوں ویرانے میں

متعلقہ خبریں