Daily Mashriq


مکافات عمل ہونا تھا عبرت کی کہانی میں

مکافات عمل ہونا تھا عبرت کی کہانی میں

بے چارے سندھیوں کی بھی عجیب قسمت ہے، ایک جانب انہیں سندھی وڈیروں سے واسطہ پڑتا ہے تو دوسری جانب(کچھ عرصہ پہلے تک) کراچی میں الطاف بھائی سے اپنا معاملہ ٹھیک رکھنا پڑتا تھا، انکار کی کوئی گنجائش نہیں تھی، طریقہ واردات پر روشنی ڈالنے سے پہلے تازہ بیانات پر نگاہ دوڑائیں تو بات زیادہ آسانی سے سمجھ میں آجاتی ہے، اور نیا بیانیہ یہ ہے کہ اگر’’ہمارے خلاف یہی صورتحال جاری رہی‘‘یعنی انکوائریاں نہیں رکیں، پیشیاں چلتی رہیں تو ہم’’جیلیں بھردیں گے‘‘۔ تحریک آزادی کے ہنگام جیلیں بھری جاتی تھیں تو تب انگریزوں کی حکمرانی تھی اور برصغیر کے عوام آزادی کیلئے جدوجہد کر رہے تھے، کہیں کانگریس کے زیر اہتمام ،کہیں مسلمانوں کی دینی جماعتوں کے تحت اور کہیں مسلم لیگ کی قیادت کے زیر انتظام،دیگر طبقات بھی اپنے اپنے طور پر اس تحریک کا حصہ ہوتے تھے۔ اس وقت انگریز حاکموں کے مظالم کے جواب میں جیلیں بھری جاتی تھیں، قیام پاکستان کے بعد بھی یہ سلسلہ جاری رہا مگر بنیاد وہی عوام کے حقوق کی بازیافت ہوا کرتا تھا، عوامی مطالبات ہوا کرتے تھے ، کسی پر لوٹ مار کے الزام لگانے کا تو کوئی جواز ہی نہیں تھا، بس حقوق سلب ہوتے تو عوام اپنے رہنمائوں کی قیادت میں احتجاج کرتے اور جوق درجوق جیلوں کی آہنی سلاخوں کے پیچھے بخوشی جانے پر تیار ہوجاتے ۔ مگر اب جیلیں کیوں بھرنی ہیں کیونکہ ماضی میں جو مبینہ لوٹ مار کی گئی اس کے بارے میں اگرادارے انکوائریاں کر رہے ہیں،تفتیش کیلئے بلایا جارہا ہے تو بجائے اپنی بے گناہی ثابت کرنے ،الٹا دھمکیاں دی جارہی ہیں کہ’’نہ چھیڑ ملنگاں نوں‘‘ ورنہ جیلیں بھر دیں گے۔شاعر نے کیا خوب کہا تھا

رعونت تاج کی مٹی میں مل گئی ساری

مکافات عمل ہونا تھا عبرت کی کہانی میں

بات ہورہی تھی بے چارے سندھیوں کی قسمت کے عجیب ہونے کی،مگرذرا توقف کیجئے، پہلے اہل پنجاب کا تذکرہ مختصراً کرلیتے ہیں،جن کے بارے میں ایک شعر میں یو ں خلاصہ کیا گیا ہے کہ

سنایا رات کو قصہ جو ہیر رانجھے کا

تو اہل درد کو پنجابیوں نے لوٹ لیا

مگر اب صورتحال بہت بدل چکی ہے، اوروہ جو پہلے پنجاب میں قدم بڑھائو ہم تمہارے ساتھ ہیں والا بیانیہ بہت مقبول ہوا تھا اب اس سے رجوع کرلیا گیا ہے اور صرف باہر آنے پر مٹھائیاں بانٹتے اور بھنگڑے ڈالتے ہوئے یہ تک نہیں سوچا جاتا کہ بھائی یہ خوشی کس بات کی،مٹھائیاں کیوں بانٹی جارہی ہیں کہ صرف6ہفتے ہی کی تو بات ہے(اگر اس دوران کوئی ڈیل یا ڈھیل نہ ہوسکی) تو پھر وہی’’دشت تنہائی میں اے جان جہاں لرزاں ہیں‘‘ والی کیفیت ہوگی، تب جو عشاق بھنگڑے ڈال رہے ہیں وہ چپ کے صحرا میں گم ہوجائیں گے۔ مگر نہ جیلیں بھری جائیں گی نہ جیالوں کی مانند کوئی احتجاج کرنے اور لاٹھیاں کھانے کو تیار ہوگا۔ خیر جانے دیں بقول شخصے انگار جانے اورلوہار جانے، واپس سندھیوں کے تذکرے پر آتے ہیں، جہاں جیلیں بھرنے کی دھمکیاں دی جارہی ہیں، اور اس حوالے سے واقفان حال جو بتاتے ہیں وہ طریقہ واردات وہی ہے کہ جب سندھ میں کوئی جلسہ ، جلوس کرانا مقصود ہو تو ارد گرد کے علاقوں سے وہاں کے عوام کا لانعام(کہ بے چارے عوام جانوروں کا ریوڑ ہی تو ہے)کو ہانکنے کیلئے محولہ علاقوں کے سیکٹر کمانڈروں کے زیر نظر رہتے ہیں، حکم یہ دیا جاتا ہے کہ’’سائیں بادشاہ‘‘ کا حلیہ ہے ، یا جلوس نکالنا ہے اس لئے ہر گھر سے کم از کم ایک فرد لازماً حاضر ہو، بس پھر بہ امر مجبوری کم از کم ایک فرد(زیادہ کی کوئی قید نہیں) جا کر اپنی حاضری لگواتا ہے اور متعلقہ سیکٹر کمانڈر کی نگرانی میںجلسے یا جلوس کے اختتام تک موجودرہتا ہے خواہ اس میں راتیں ہی کیوں نہ آئیں،کھانا پینا بھی اپنے پلے سے ،سفر کے اخراجات بھی ذاتی ذمہ داری، اور اگر انکار کیا جائے تو پھر جو حشر ہونا ہے اس کی اکثر جھلک سندھ کے پس منظر میں بنائے جانے والے ڈراموں میں نظر آتی رہتی ہے، بلکہ ایک ڈرامے میںتو یہ منظر بھی دیکھا گیا تھا کہ قتل کے کسی مقدمے میں کسی وڈیرے کا بیٹا گرفتار ہو کر جیل پہنچتا ہے تو وڈیر اپنے ہی گوٹھ کے ایک نوجوان کو لیکر جیلر کے پاس پہنچتا ہے، معاملات پہلے سے طے ہوچکے ہوتے ہیں، اصل مجرم کو رات کی تاریکی میں نکال کر وڈیرے کے حوالے کردیا جاتا ہے اور وہ بے چارہ غریب نوجوان وڈیرے سائیں کے بیٹے کے قتل کے جرم میں اسی کے نام سے’’بخوشی‘‘ قید ہونے پر تیار ہو جاتا ہے کہ وڈیرہ سائیںاسے یقین دلاتا ہے کہ اس کا مقدمہ بھی لڑاجائے گا اوراگر اسے کچھ ہوگیا تو اس کے گھر والوں کی مکمل خبر گیری وڈیرے سائیں کی ذمہ داری ہوگی۔ ایسی صورت میں بھلا کون ہوگاجو جیل جانے سے انکار کی جرأت کرے گا، لوگوں کو اکٹھا کرنے کا جو طریقہ واردات بیان کیا گیا یہی الطاف بھائی کے کارندے اختیار کرتے تھے، (باقی صفحہ 7)

متعلقہ خبریں