Daily Mashriq

یاسین ملک امن کے سراب کا تعاقب

یاسین ملک امن کے سراب کا تعاقب

بھارتی حکومت کشمیر میں مزاحمتی سیاسی جماعتوں کا قافیہ تنگ کرکے حقیقت میں روایتی سیاسی جماعتوں کیلئے سیاسی سپیس بڑھانے اور ان کی عوامی قبولیت کی رکاوٹیں دور کرنے کی حکمت عملی اپنا رہی ہے۔ یہ ماضی کی ایک ناکام پالیسی اور تجربے کا اعادہ ہے۔ ان سب تجربات کی ناکامی نے ہی کشمیر کو مزاحمت کے نئے ادوار سے آشنا اور نئے راستوں سے متعارف کرایا تھا۔ اس حکمت عملی کے تحت جماعت اسلامی مقبوضہ کشمیر کے بعد جموں وکشمیر لبریشن فرنٹ پر بھی پابندی عائد کردی گئی ہے۔ اطلاعات یہ ہیں کہ اس کے بعد حریت کانفرنس کے دونوں دھڑوں پر بھی مختلف بہانوں سے پابندی عائد کئے جانے کا منصوبہ ہے۔ جماعت اسلامی کے سینکڑوں کارکن اور لیڈر گرفتار کر کے مختلف جیلوں میں بند کئے جا چکے ہیں، ان کے دفاتر سیل ہیں اور تعلیمی ادارے بند ہیں۔ تعلیمی اداروں میں زیرتعلیم بچوں کا مستقبل بھی سوالیہ نشان بن چکا ہے۔ جماعت کے امیر عبدالحمید فیاض کو دوردراز کٹھوعہ جیل میں پابند سلاسل کیا گیا ہے۔ مسلک اہلحدیث کے شعلہ بیاں اورمقبول مقرر اور سکالر مولانا مشتاق احمد ویری بھی گرفتار کئے جا چکے ہیں۔ اب اگلے مرحلے کے طور پر جموں وکشمیر لبریشن فرنٹ پر بھی پابندی کر دی گئی ہے۔ فرنٹ کے سربراہ محمد یاسین ملک پہلے ہی ایک دوردراز کی کورٹ بلوال جیل میں بند ہیں۔ لبریشن فرنٹ کے کارکنوں کیخلاف کریک ڈاؤن زوروں پر ہے۔ فرنٹ کے رپوش کارکنوں کو ٹیلی فون پر تھانوں میں حاضر ہوکر گرفتاریاں پیش کرنے اور بصورت دیگر سنگین نتائج کی دھمکیاں دی جا رہی ہیں۔ یاسین ملک کی جموں وکشمیر لبریشن فرنٹ تین رکنی مشترکہ مزاحمتی فورم کی سرگرم اکائی ہے۔ مشترکہ مزاحمتی فورم کشمیر میں مزاحمت کی رواں لہر کی سیاسی قیادت سنبھالے ہوئے ہے۔ اس کے بعد حریت کانفرنس کے دونوں دھڑوں پر بھی پابندی کیلئے مواد اکٹھا کیا جا رہا ہے۔ تین دہائیوں کے دوران یاسین ملک کی بیلٹ سے بلٹ اور پھر امن اور دوبارہ مزاحمت کی طرف سفر کی کہانی بہت دلچسپ اور سبق آموز بھی ہے۔ یاسین ملک کا شمار کشمیر میں مسلح جدوجہد کے بانیوں میں ہوتا ہے۔ 1987کی کشمیر اسمبلی کے انتخابات میں سری نگر سے نوجوانوں کی ایک بڑی تعداد نے نیشنل کانفرنس اور کانگریس کے مشترکہ امیدوار کے مقابلے میں مسلم متحدہ محاذ نامی انتخابی اتحاد کے امیدوار محمد یوسف شاہ کی حمایت کی تھی۔ یاسین ملک سید یوسف شاہ کے پولنگ ایجنٹ تھے۔ بھارتی حکومت نے ان انتخابات میں مسلم متحدہ محاذ کو ہرا دیا۔ سید یوسف شاہ کے حامی نوجوانوں کو گرفتار کرکے جیلوں اور تھانوں میں تشدد کا نشانہ بنایا گیا۔ یہ کشمیر کے نوجوانوں میں جمہوری عمل سے مایوسی کا ٹرننگ پوائنٹ ثابت ہوا۔ یاسین ملک اور بہت سے نوجوانوں نے جمہوری انداز میں جدوجہد ترک کرکے نئے راستوں کی تلاش شروع کردی، بعد میں یہی نوجوان مسلح جدوجہد کے بانی بھی قرار پائے۔ سید یوسف شاہ بھی سید صلاح الدین کا کوڈ نام اپنا کر زیرزمین چلے گئے اور مسلح جدوجہد کے تانے بانے بننے والوں میں شامل ہوگئے۔ یاسین ملک اورجموں وکشمیرلبریشن فرنٹ کے ان چار مشہور ایریا کمانڈروں میں شامل تھے جو سری نگر شہر کو عسکری طور پر کنٹرول کر رہے تھے۔ اس وقت بھارت اور بین الاقوامی ذرائع ابلاغ بھی انہیں نمایاں کوریج دے رہے تھے۔ سری نگر میں ان کا طوطی بولتا تھا اور لوگ ان کے ایک اشارے پر نبض زندگی روک دیتے تھے۔ یاسین ملک فوج کیساتھ ایک تصادم میں شدید زخمی ہوئے۔ بھارتی فوج نے انہیں زخمی حالت میں گرفتار کر لیا۔ کئی برس تک جیل میں رہے اور 1994میں یاسین ملک کو دہلی کی تہاڑ جیل سے رہائی ملی تو وہ ایک بدلے ہوئے انسان تھے۔ اب وہ ذہنی طور پرکشمیر کی آزادی کیلئے بندوق چھوڑ کر پرامن مزاحمت جاری رکھنے کے قائل ہوچکے تھے۔ بھارت کے میڈیا کا ایک حلقہ بالخصوص کلدیپ نائیر یاسین ملک کیساتھ ذاتی مراسم پیدا کر چکے تھے اور وہ انہیں کشمیر کا جدید ’’گاندھین‘‘ ثابت کرنے پر تلے ہوئے تھے۔ انہیں بتایا جا رہا تھا کہ اگر وہ مسلح جدوجہد ترک کر دیں تو پورا بھارت ان کی بات سنے گا اور اسے وزن دے گا۔ بھارت کی وسیع اور مضبوط سول سوسائٹی کی طرف سے کشمیر کی تحریک کی حمایت کی امید پر یاسین ملک نے مسلح جدوجہد ترک کرنے کا اعلان کیا۔ خود یاسین ملک نے اسے غیرمقبول فیصلہ تسلیم کیا تھا۔ یاسین ملک نے اپنی پرامن جدوجہد کا آغاز سری نگر میں ایک بھوک ہڑتال سے کیا۔ ان کی حالت خراب ہونے لگی تو کلدیپ نائیر دہلی سے سری نگر آئے اور یاسین ملک کو جوس کا گھونٹ پی کر بھوک ہڑتال ختم کرنے پر آمادہ کیا۔ اس فیصلے کے باوجود نہ بھارت کا رویہ بدلا نہ سول سوسائٹی ان کی مدد کو آئی۔ یاسین ملک اور ان کے ساتھی زیرزمین سے بالائے زمین آکر بھارتی فوج کے رحم وکرم پر رہے۔ یاسین ملک کو عسکریت سے پرامن جدوجہد پر آمادہ کرنے والوں میں امریکہ، برطانیہ اور یورپی ملکوں کے سفارت کار بھی تھے۔ جب ان کی پرامن جدوجہد کے فیصلے کو بھارت میں احترام اور وزن نہ ملا تو جولائی 2017میں انہوں نے امریکی صدر کے نام ایک کھلے خط میں یوں شکایت کی ’’یک طرفہ سیز فائر کے بعد ان کے چھ سو ساتھیوں کو قتل کیا گیا مگر عالمی برادری میں سے کسی نے ایک آواز بلند نہیں کی‘‘۔ یاسین ملک نے بھارتی وزیراعظم من موہن سنگھ سے بھی ملاقات کرکے امن کے ذریعے مسائل حل کرنے کی اپنی سی کوشش کر دیکھی۔ یاسین ملک کی طرف سے پرامن جدوجہد اور مزاحمت کے سارے طریقے ناکام ہوگئے تو حالات وواقعات اور کشمیریوں کے مقبول، (باقی صفحہ 7)

متعلقہ خبریں