Daily Mashriq

ترقی اور انصاف کا باہمی تعلق

ترقی اور انصاف کا باہمی تعلق

دنیا کے دو سو کے قریب ممالک ترقی کاخواب دیکھ رہے ہیں لیکن شاید درجن بھر ممالک ہی ایسے ہوں گے جن کے بارے یہ رائے قائم کی جا سکے کہ وہ واقعی ترقی یافتہ ممالک ہیں ،جو ممالک ترقی یافتہ ممالک کی فہرست میں شامل ہیں اگر ان کی ترقی کا اجمالی جائزہ لیا جائے تو تین پہلو مشترکہ طور پر سامنے آتے ہیں ،محنت ،ایمانداری اور انصاف کی فراہمی ۔ان تینوں میں سے فراہمی انصاف کا معاشروں کی ترقی میں کلیدی کردار ہے، اسی لئے کہا جاتا ہے کہ ترقی اور خوشحالی ہمیشہ عدل اور انصاف کی کوکھ سے جنم لیتی ہے،جب معاشرے میں عدل اور انصاف کا بول بالا ہوگا تب ہر شخص بے فکر ہوکر اپنے امور پر بھرپور انداز میں توجہ دے سکے گا اور اسی کی بدولت ہی معاشرہ ترقی کی شاہراہ پر تیزی کے ساتھ آگے بڑھے گا۔ ماضی کی ترقی یافتہ قوموں اور معاشروں کا احوال پڑھنے سے صاف معلوم ہوتا ہے کہ وہ لوگ ہمیشہ انصاف پر اپنی توجہ مرکوز رکھتے تھے اور یہیں سے ان کی ترقی اور خوشحالی کے سوتے پھوٹے اور عروج کی نہریں رواںہوئیں۔ آج کے ترقی یافتہ ممالک کا احوال بھی کچھ ایسا ہی ہے۔ ملائیشیا سے لے کر امریکہ تک ہر ترقی یافتہ ملک نے بنیادی طور پر عدل و انصاف کی زنجیروں کو ہمہ وقت دستیاب رکھا ، اور جب بھی جس نے بھی خود کو ظلم وزیادتی کاشکار دیکھا، فوری زنجیرِ عدل تھام لی۔ یہی ملک آج دنیا پر حکمرانی کررہے ہیں۔ دوسری جنگِ عظیم کے دوران جبکہ جاپانی اور اس کے اتحادی بڑھ چڑھ کر حملے کررہے تھے اور سپرپاور برطانیہ خطرے سے دوچار تھی، تب گھبرائے ہوئے لوگوں نے برطانوی وزیراعظم چرچل کے روبرو سارا قضیہ بیان کیا اور شایداندھیروں میں گم ہوتے مستقبل کا نقشہ بھی کھینچا لیکن چرچل نے نہایت اطمینان سے ایک سوال پوچھا ’’ کیا ملک کی عدالتیں انصاف کررہی ہیں؟‘‘ اس پر سامعین حیران رہ گئے اور پریشان حال نظروں سے پوچھنے لگے کہ جناب ہماری بے اطمینانی کا جواب یہ تو نہیں۔ اس پر چرچل نے کہا کہ آپ لوگ خاطر جمع رکھئے ! جب ہماری عدالتیں انصاف فراہم کررہی ہیں ،تب ہمیں کسی سے کوئی خطرہ نہیں۔ چرچل کا یہ اطمینان بھرا جملہ سارے نظام، سارے خیالات اور سارے نظریات کی بھرپور ترجمانی کرتا ہے۔ عام شخص اس فکر میں غلطاں ہوسکتا ہے کہ جنگ کا عدالتوں سے کیا تعلق لیکن ایک عام شخص بھی بخوبی جانتا اور سمجھتا ہے کہ عدالتیں ہی وہ مراکز ہیں جو قوم کے افراد کو ذہنی وقلبی سکون مہیاکرتی ہیں۔ ملک میں امتیازی سلوک کے خاتمے اور افراد کے مابین مساویانہ سلوک ان ہی مراکز کے رہین منت ہوتاہے۔ ہر شخص اس سوچ او رفکر کے تابع صرف اپنے مستقبل ہی نہیں ، اپنے ملک اور اپنی قوم کے شاندار اور روشن مستقبل کے لئے ہمہ وقت مصروفِ عمل رہنے کو ترجیح دیتا ہے۔ اگرچہ تعمیر و ترقی کے حوالے سے ہمارے ہاں بڑے دعوے کیے جاتے ہیں لیکن برسرزمین حقیقت یہ ہے کہ ہم ترقی کے اعتبار سے ابھی بہت پیچھے ہیں اور علمی اعتبار سے اس سے کہیں پیچھے۔ معیشت کو سہارا دینے کیلئے مختلف ڈونرز کی طرف سے جو امداد ملتی ہے اُس سے معیشت کو کسی قدر سپورٹ ملتی ہے لیکن اس کا بہت کم حصہ علم کے فروغ اور پاکستانی نوجوانوں کو جدید علوم سے آراستہ کرنے پر صرف ہوتا ہے ۔ اس خلا کو پر کرنے کے لیے معروف ماہرقانون شرافت علی چوہدری نے اپنی کتاب "Law and Development: An Alternative Indicator for Measurment of Development" کے ذریعے ایک کاوش کی ہے۔اپنی کتاب میں انہوں نے قانون کی حکمرانی اور انصاف کو تعمیر و ترقی کی بنیاد بتایا ہے اور اُن کا یہ ماننا ہے کہ حقیقی ترقی شخصی آزادی کی بحالی ‘ غربت کا خاتمہ اور نظر انداز کیے جانے والے لوگوں کو ان کے حقوق کی فراہمی ہے۔شرافت علی چوہدری نے ان قانون دانوں کو بھی کڑی تنقید کا نشانہ بنایاہے جو قانون کی حکمرانی کو تعمیر و ترقی کیلئے ضروری خیال نہیں کرتے۔ انہوں نے شخصی آزادی اور جبر وا ستبداد سے نجات کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے اسے ریاست کی ذمہ داری قرار دیا ہے اور اسے تعمیر و ترقی کا لازمی جزو بتایا ہے۔ اُن کا کہنا ہے کہ ملکی ترقی کا اندازہ غربت کے خاتمے ‘ عوام کو صحت ‘تعلیم کی سہولیات کی فراہمی اور اُن کیلئے روزگار کے مواقع سے بہتر طریقے سے لگایا جا سکتا ہے۔ شرافت علی چوہدری نے اپنی کتا ب میں اس بات پر زور دیا ہے کہ فراہمی انصاف کیلئے ریاست کا کردار انتہائی اہمیت کا حامل ہوتا ہے ۔کسی نے ایک بار کنفیوشس سے پوچھا کہ اگر ایک قوم کے پاس تین چیزیں ہوں۔ انصاف، معیشت اور دفاع۔۔ اور بوجہ کسی مجبوری کسی ایک چیز کو ترک کرنا مقصود ہو تو کس چیز کو ترک کیا جائے؟ کنفیوشس نے جواب دیا کہ دفاع کو ترک کرو، سوال کرنے والے نے پھر پوچھا کہ اگر باقی ماندہ دو چیزوں۔ انصاف اور معیشت میں سے ایک ترک کرنا لازمی ہو تو کیا کیا جائے؟ کنفیوشس نے جواب دیا معیشت کو چھوڑ دو۔ اس پر سوال کرنے والے نے حیرت سے کہا۔ معیشت اور دفاع کو ترک کیا تو قوم بھوکوں مرجائے گی اور دشمن حملہ کردیں گے؟ تب کنفیوشس نے جواب دیا کہ نہیں ایسا نہیں ہوگا۔ بلکہ ایسا ہوگا کہ انصاف کی وجہ سے اس قوم کو اپنی حکومت پر اعتماد ہوگااور لوگ معیشت اور دفاع کا حل اس طرح کریں گے کہ پیٹ پر پتھر باندھ کر دشمن کا راستہ روک لیں گے۔حضرت علیؓ کرم اللہ وجہہ کا ایک انتہائی معروف قول بھی ہمیں انصاف کی اہمیت کی طرف توجہ دلاتا ہے جس میں کہا گیا ہے کہ کوئی معاشرہ کفر پر تو قائم رہ سکتا ہے لیکن ظلم پر نہیں۔

متعلقہ خبریں