Daily Mashriq

تیسرے ون ڈے میں بھی پاکستان کو شکست، سیریز آسٹریلیا کے نام

تیسرے ون ڈے میں بھی پاکستان کو شکست، سیریز آسٹریلیا کے نام

آسٹریلیا نے پاکستان کو ایک روزہ سیریز کے تیسرے میچ میں باآسانی 80 رنز سے شکست دے کر مسلسل تیسرے میچ میں کامیابی کے ساتھ ساتھ سیریز بھی اپنے نام کرلی۔

ابوظہبی میں کھیلے گئے سیریز کے تیسرے ون ڈے میچ میں آسٹریلیا کے کپتان ایرون فنچ نے ٹاس جیت کر پہلے بلے بازوں کو آزمانے کا فیصلہ کیا اور محتاط انداز میں بلے بازی کا مظاہرہ کیا۔

عثمان شنواری نے گزشتہ میچ میں بہترین کارکردگی کا مظاہرہ کرنے والے عثمان خواجہ کو صفر پر آؤٹ کرکے پاکستان کے لیے بہترین آغاز فراہم کیا لیکن کپتان ایرون فنچ ایک مرتبہ پھر ڈٹ گئے اور ٹیم کے اسکور کو آگے بڑھایا۔

جنید خان نے 20 کے اسکور پر شان مارش کو آؤٹ کرکے قومی ٹیم کو دوسری کامیابی دلائی تاہم اگلے بلے باز پیٹرہینڈز کومب نے 47 رنز بنا کر ٹیم کو 104 رنز تک پہنچانے میں فنچ کا ساتھ دیا لیکن حارث سہیل نے انہیں محض تین رنز کے فرق سے نصف سنچری مکمل کرنے کا موقع نہیں دیا۔

آسٹریلیا کے تیسرے آؤٹ ہونے والے بلے باز اسٹوئنز تھے جن کی وکٹیں عماد وسیم نے اڑا دیں جس کے بعد تجربہ کار بلے باز گلین میکسویل بیٹنگ کے لیے آئے اور جارحانہ انداز میں اننگز کو آگے بڑھایا۔

ایرون فنچ نے سست بلے بازی کی لیکن ایک مرتبہ پھر بہترین کارکردگی کا مظاہرہ کیا لیکن یاسر شاہ نے ان کے سیریز میں تیسری سنچری بنانے کے خواب کو اڑا دیا اور 90 رنز پر پویلین بھیج دیا، اس وقت آسٹریلیا نے 42 ویں اوور میں 188 رنز بنائے تھے۔

آسٹریلیا کے کپتان نے 90 رنز کی اننگز میں 5 چوکے اور ایک چھکا لگائے جس کے لیے انہوں نے 136 گیندوں کا سامنا کیا۔

میکسویل نے 55 گیندوں پر 71 رنز بنا کر آسٹریلیا کو 48 ویں اوور میں 249 رنز تک پہنچایا تھا جس میں 8 چوکے اور ایک چھکا شامل تھا لیکن وکٹ کیپر محمد رضوان نے انہیں رن آؤٹ کرکے رنز کی برق رفتاری کو روک دیا۔

کیری 25 رنز اور کمنز 2 رنز بنا کر ناٹ آؤٹ رہے اور آسٹریلیا نے مقررہ اوورز میں 6 وکٹوں پر 266 رنز بنائے۔

پاکستان کی جانب سے جنید خان، عثمان شنواری، عماد وسیم، حارث سہیل اور یاسر شاہ نے ایک، ایک وکٹ حاصل کیں۔

ایک آسان ہدف کے تعاقب میں پاکستان کا آغاز بھی مایوس کن تھا جب شان مسعود صرف 2 رنز بنا کر آؤٹ ہوئے جس کے بعد حارث سہیل ایک اور محمد رضوان صفر پر آؤٹ ہوئے جس کے باعث ٹیم شدید دباؤ کا شکار ہوئی۔

محمد رضوان نے گزشتہ میچ میں اسی نمبر پر بیٹنگ کرتے ہوئے سنچری بنائی تھی لیکن تیسرے اور اہم میچ میں مکمل طور پر ناکام ہوئے۔

امام الحق اور کپتان شعیب ملک نے اسکور کو 75 رنز تک پہنچایا لیکن امام بھی انفرادی طور پر 46 رنز جوڑ کر گلین میکسویل کو وکٹ دے گئے۔

شعیب ملک کا ساتھ دینے کے لیے عمر اکمل میدان میں آئے اور دونوں تجربہ کار بلے بازوں نے صرف 21 رنز کی شراکت کی اور جب ٹیم نازک صورت حال کا شکار تھی تو قائم مقام کپتان 32 رنز بنا کر آؤٹ ہوئے۔

عمر اکمل بھی ٹیم کے لیے کوئی بڑی اننگز کھیلنے میں ناکام رہے لیکن عماد وسیم کے ساتھ مل کر 53 رنز کا اضافہ کیا جس میں ان کا اپنا حصہ 36 رنز تھا۔

عماد وسیم نے ٹیم کو مشکل سے نکالنے کی کوشش ضرور کی لیکن 43 رنز بنا کر آؤٹ ہوئے تو ٹیم کا اسکور 178 رنز تھا اور اس کے بعد عثمان شنواری اور اپنا پہلا میچ کھیلنے والے محمد حسنین کوئی اضافہ کیے بغیر آؤٹ ہوئے۔

یاسر شاہ 10 رنز بناکر ناٹ آؤٹ رہے۔

پاکستان کی پوری ٹیم 186 رنز پر آؤٹ ہوئی اور میچ میں 80 رنز کی شکست کا سامنا کرنا پڑا۔

آسٹریلیا کے ایڈم زیمپا نے سب سے زیادہ 4 وکٹیں حاصل کیں اور کمنز نے 3 کھلاڑیوں کو آوٹ کیا۔

آسٹریلیا نے مسلسل تیسرے ایک روزہ میچ میں کامیابی کے ساتھ 5 میچوں کی سیریز میں 3-0 کی فیصلہ کن برتری حاصل کرلی۔

پیٹ کمنز کو میچ کا بہترین کھلاڑی قرار دیا گیا۔

اس سے قبل قومی ٹیم کے قائم مقام کپتان شعیب ملک نے ٹاس کے بعد بات کرتے ہوئے کہا کہ وکٹ بیٹنگ کے لیے سازگار ہے، ٹاس جیتنے پر ہم بھی بیٹنگ کا فیصلہ کرتے۔

انہوں نے کہا کہ محمد حسنین باصلاحیت باؤلر ہے اور ہمیں ان سے اچھی کارکردگی کی امید ہے۔

سیریز کے تیسرے میچ کے لیے پاکستان اور آسٹریلیا نے اپنی اپنی ٹیم میں دو، دو تبدیلیاں کیں۔

پاکستان نے فہیم اشرف اور محمد عباس کی جگہ جنید خان اور عثمان خان شنواری کو حتمی ٹیم کا حصہ بنایا۔

متعلقہ خبریں