Daily Mashriq


بجٹ ، عوام کو کیا ملا؟

بجٹ ، عوام کو کیا ملا؟

معاشی ترقی اور عوام کے معیار زندگی کو بڑھا نے کے بلند وبانگ دعوئوں کے باوجود وفاقی میزانیہ میں بھاری ٹیکسز کا عائد کیا جانا ان تمام اقتصادی و معاشی ترقی کے دعوئوں کی نفی اور غریب عوام کو خوشحالی کا خواب دکھانے والوں کے دعوئوں کی سراسر نفی ہے۔ حکمرانوں کے لئے تو بجٹ میں رقم موجود ہے اور ان کے شاہانہ اخراجات کا پوری طرح سے خیال رکھا گیا ہے۔ اگر نہیں ہے تو غریب عوام کے لئے حکومت کے پاس رقم نہیں۔ کیا یہ کھلا تضاد نہیں کہ وزیر اعظم ہائو س کے بجٹ میں تقریباً 5اعشاریہ 26فیصد اور ایوان صدر کے بجٹ میں 5اعشاریہ 8فیصد اضافہ کیا گیا ہے ۔ ایوان صدر کے لئے آئندہ مالی سال کے لئے 959اعشاریہ 69ملین روپے رکھے گئے ہیں جو گزشتہ سال کے مقابلے میں 96اعشاریہ 21ملین روپے زیادہ ہیں ۔ گزشتہ برس صدر نے غیر ملکی دوروں پر 2ہزار 148اعشاریہ 31ملین روپے خرچ کیے تھے جبکہ اس سال ان کے غیر ملکی دوروں کے لئے 2ہزار 226اعشاریہ 56ملین روپے مختص کیے گئے ہیں ۔مسلم لیگ(ن) کی حکومت کا موجودہ بجٹ انتخابی اور عوامی بجٹ ہونا چاہئے تھا مگر عوام کے بار بار اوکھلی میں سر دینے کے روئیے کے باعث اب حکمرانوں کو اس امر کی کوئی فکر نہیں کہ عوام اس کے خلاف فیصلہ دے سکتے ہیں۔ عوام کا قصور ہی یہ ہے کہ وہ سطحی اور وقتی جذبات کا تو اظہار کرتے ہیں مگر جب وقت آتا ہے تو جذبات ابھارنے والے بھی چپ سادھ لیتے ہیں اور عوام تو سرے سے خفتگی کا شکار ہوتے ہیں۔ دیکھنا یہ ہے کہ حزب اختلاف کی جماعتیں بجٹ پر اپنا کردار ادا کرتی ہیں یا پھر بجٹ ان کا مسئلہ ہی نہیں عوام جانیں اور بجٹ جانے ان کو بس کرسی اور اقتدار سے دلچسپی ہے۔ بہر حال وزیر اعظم کے دفتر کے لئے نئے مالی سال میں 91کروڑ 67لاکھ 22ہزار روپے مختص کیے گئے ہیں۔وفاقی وزیر خزانہ اسحاق ڈار نے 47کھرب 50ارب روپے کا وفاقی بجٹ پیش کردیا ہے۔ عام آدمی کے لیے اتنی بڑی رقم کا تصور کرنا بھی مشکل ہے۔ لگتا ہے پاکستان بڑا امیر ملک ہے۔ لیکن عام پاکستانی کتنا امیر ہے اس کے اعدادو شمار کچھ اور ہیں۔ ہر بچہ جو پاکستان میں پیدا ہوتا ہے'تقریباً اسی ہزار روپے کا مقروض پیدا ہوتا ہے۔ اور عام پاکستانی کی زندگی میں شاید ہی کبھی ایسا لمحہ آتا ہو جب ضرورت سے زائد اس کے پاس کچھ رقم جمع ہو۔قومی بجٹ کو ملک کی دولت کی پیداوار اور اس کی تقسیم کا آئینہ دار ہونا چاہیے۔ یہ بجٹ برائے سال 2016-17ء کس حد تک اس توقع پر پورا اترتا ہے اس کا اندازہ ماہرین اقتصادیات آئندہ چند روز کے دوران پیش کرتے رہیں گے۔ ایک سیدھی سی بات یہ ہے کہ حکومت کا فرض ٹیکس وصول کرنا' غریبوں کو ریلیف دینا اور معاشرے میں عدل قائم کرنا ہوتا ہے، معاشی عدل بھی ۔ اس بجٹ میں عام آدمی کے حصے میں یہ آیا ہے کہ کم ازکم ماہانہ اجرت تیرہ ہزار سے بڑھا کر15 ہزار کر دی گئی ہے۔ سرکاری ملازمین کی تنخواہ اور پنشن میں دس فیصد اضافہ کر دیا گیاہے۔وزیرخزانہ کو کھربوں روپے کا بجٹ بنانے سے پہلے 15 ہزار روپے ماہانہ کا بجٹ بنانا چاہیے۔ ایک اوسط خاندان اگر دو میاں بیوی اور دو بچوں پر مشتمل ہے تو 15 ہزار روپے میں اس کے لیے آٹا، دال' گھی ' چینی ' سبزی' مرچ مصالحے ' کرایہ مکان ' کپڑے' جوتے' بچوں کی تعلیم ' کام پر جانے اور بچوں کو سکول بھیجنے کا خرچ ۔ رشتہ داری ، بیماری اور حادثات کے لیے بچت۔ 15 ہزار روپے میں کیا کیا ہو سکتا ہے یہ بتانا چاہیے۔ چونکہ اس اضافے کے ساتھ تنخواہوں کی ادائیگی یقینی بنانے کا کوئی بندوبست نہیں اس لیے یہ اضافہ ہر چند کہیں کہ ہے نہیں ہے۔ سرکاری ملازمین کی تنخواہوں میں بھی اضافہ کیا گیا ہے۔ سرکاری ملازموں کی تنخواہ چونکہ سرکاری حساب کتاب اور بینکوں کے ذریعہ دی جاتی ہے اور اس لیے یہ تنخواہ ان کو مل جاتی ہے۔ کیا یہ اضافہ اس مہنگائی کے اثرات کو زائل کرنے کے لیے کافی ہے جو اس بجٹ کے بعد آئے گی؟ سرکاری ملازمین میں جو عام آدمی کی سطح کے لوگ ہیں ان کے لیے مہنگائی اس اضافے کی نسبت کہیں زیادہ ہو گی۔ان حقائق کی روشنی میں با آسانی یہ کہا جاسکتا ہے کہ یہ بجٹ عام آدمی کے لیے ریلیف نہیں لایا۔ پاکستان میں عام آدمی کروڑوں ہیں۔ اگر یہ بجٹ ان کے فائدے کے لیے نہیں ہے تو پھر بجٹ سے فائدہ کس کو پہنچے گا۔عام آدمی کھیت مزدور ہیں۔ فیکٹری مزدور ہیں۔ خود روزگار لوگ ہیں۔ چھوٹے سرکاری اور نجی سیکٹر کے ملازمین ہیں۔ ان کے لیے اس بجٹ میں کچھ نہیں ہے۔ بلکہ ان کی جو قوت خرید پہلے تھی وہ اب کم ہوگی۔ زرعی مشینری پر چھوٹ دی گئی۔ مشینری چھوٹا کسان نہیں خرید سکتا۔ یہ بھی دولت مند زمیندار ہی خرید سکتا ہے۔ عام آدمی کو جو ریلیف دیا گیا ہے۔ اس کا مقصد عام آدمی کے مسئلہ یعنی مہنگائی کا حل نہیں ہے ۔نمائشی منصوبوں پر بھاری رقوم خرچ کی جاتی ہیں۔ بات بات پر لوڈشیڈنگ ختم کرنے کے دعوے کیے جاتے ہیں لیکن بھاری رقوم بجلی پیدا کرنے کے منصوبوں کی بجائے نمائشی منصوبوں پر خرچ کی جاتی ہیں۔ عام آدمی کے لیے جس ریلیف کا اعلان کیا گیا خدشہ ہے کہ چند دن میں یہ مہنگائی اسے کھا جائے گی۔ بجٹ اعداد وشمارکا ایسا گورکھ دھند ا ہے کہ اسے سمجھنا ہرکسی کے بس کی بات نہیں اعداد وشمار کی شعبدہ بازیوں کے ذریعے تو بجٹ کو ترقی اور عام آدمی کو ریلیف دینے کا ظاہر کیا جا نا ہے لیکن جسیے نئے مالی سال کے بجٹ کا نفاذہوتا ہے اس سے قبل ہی مہنگائی کی شرح میں اضافہ ہوتا ہے امسال رمضان المبارک او ربجٹ کے اتصال کے باعث مہنگائی کی شدید لہر کا خدشہ ہے ۔ حکومت کی وصولیوں کا ہدف کبھی حاصل ہوا ہی نہیں اور خسارہ میں بھی اضافہ ہونا ہربار ہی یقینی ہوتا ہے۔ بجٹ میں کچھ چیزوں کی قیمتوں میں کمی اور کچھ میں اضافہ کا عندیہ ملتا ہے لیکن قیمتوں میں کمی کم ہی ہوتی ہے اضافہ البتہ یقینی ہوتا ہے ۔ اس سال جن جن اشیاء کے سستی ہونے کا امکان ہے حکومت سے ان شعبوں کو مراعات اور ٹیکسوں میں چھوٹ تو ملے گی لیکن اس کے من حیث المجموع ثمرات کا عوام تک پہنچنا اور عوام کا ان مراعات سے افادہ یقینی نہیں بلکہ بہت حد تک مشکوک ضرور ہے ۔ اس ساری صورتحال میں عام آدمی کیلئے بجٹ میں کوئی ریلیف موجود نہیں ہر سال کی طرح اس سال بھی عام آدمی کی مشکلات میں اضافے کا امکان ہی ظاہر کرنا حقیقت پسندانہ امر ہوگا اگر حکومت واقعی عوام کو ریلیف پہنچانا چاہتی ہے تو اس کیلئے کم از کم سرکاری نرخوں پر اشیاء کی فروخت کو یقینی بنانا ہوگا اور عوام کو مصنوعی مہنگائی کا شکار بنانے والوں سے بچانا ہوگا ۔ حکومت کو عوام کو ریلیف دینے کیلئے بجٹ کو حتمی شکل دیتے ہوئے کچھ ایسی تبدیلیاں لانی ہوںگی اخراجات شاہی میں کٹوتی اور سرکاری شعبوں میں فضول خرچی و اسراف کی روک تھام کر کے اس رقم کو عوام کی فلاح کیلئے مختص کرنے کی سعی کرے ۔ اس طرح ہی عوام کو ریلیف دینے کی کوئی راہ نکل سکتی ہے وگرنہ اس مہنگائی کے ہاتھوں عوام تو مرچلے متوسطہ طبقہ بھی قریب المرگ ہے ۔

متعلقہ خبریں