Daily Mashriq


لوڈشیڈنگ کے خلاف کھڑاک

لوڈشیڈنگ کے خلاف کھڑاک

عوامی نمائندوں کی جانب سے لوڈشیڈنگ کا دورانیہ بڑھانے کی صورت میں گرڈ سٹیشن کی اینٹ سے اینٹ بجانے کی دھمکی کسی صورت بھی زیبا نہیں۔ احتجاج کے حق سے کسی کو محروم نہیں کیا جاسکتا کسی قانون ساز اسمبلی کے ممبر کو یہ زیب دیتا ہے کہ اس طرح سے احتجاج کرے اور کار سر کار میں مداخلت کا مرتکب ہو۔ کیا اس کے لئے بہتر نہ تھا کہ ڈانڈا ماری کی بجائے قانونی طور پر پیسکو حکام سے مذاکرات کیئے جاتے ، تشفی نہ ہونے پر اسمبلی میں آواز اٹھاتے اور عدالت سے رجوع کرتے اگر احتجاج کا یہ راستہ عوامی نمائندے خود دکھائیں گے تو کیا صوبائی حکومت کے پاس کل کو کسی احتجاج کو روکنے کا اخلاقی جواز رہے گا۔ایک حلقے کے عوامی نمائندے نے جس مولا جٹ سٹائل میں ہزار خوانی گرڈ سٹیشن پر چڑھائی کرکے اپنے حلقہ انتخاب کے دیہات کے لئے لوڈشیڈنگ کے دورانیے کو کم کرنے کا نمائشی اقدام کیا ہے۔ اگر موصوف اپنے علاقے کے بجلی چوروں کی روک تھام اور بجلی بل بھرے بغیر بجلی استعمال کرنے والے صارفین کو بھی پیسکو کے بقایاجات بے باق کرنے کے لئے قدم اٹھاتے تو پیسکو حکام کے پاس بجلی کی طویل لوڈشیڈنگ کاجواز باقی نہ رہتا۔ موصوف ہر سال اس طرح کی ایک آدھ اداکاری کا مظاہرہ کرتے ہیں اور پیسکو حکام دبائو میں آکر چند دن اضافی بجلی ان کے حلقے کو دیتے ہیں مگر مفت کی بجلی آخر کب تک دی جائے۔ ہمارے تئیں موصوف کا لوڈشیڈنگ کے خلاف احتجاج اصولی ہے لیکن اس احتجاج سے قبل ان کو اپنے حصے کے فریضے کی ادائیگی اور لوڈشیڈنگ کی بڑی وجہ کو پہلے دور کرلینا چاہئے تھا۔ لوڈشیڈنگ کسی حلقے ' علاقہ اور صوبہ کا مسئلہ نہیں پورے ملک کا مسئلہ ہے۔ البتہ جہاں بجلی و اجبات کی وصولی نوے فیصد سے زائد ہے وہاں پالیسی کے مطابق بجلی کی فراہمی قدرے بہتر ہے اور ہونا بھی چاہئے جہاں مفت کی بجلی کے طلب گار ہیں وہاں لوڈشیڈنگ میں اضافہ پیسکو کی پالیسی ا ور مجبوری ہے۔ واپڈا کی جانب سے صوبے کو اس کے حصے کی بجلی کی عدم فراہمی اضافی لوڈشیڈنگ کی بڑی وجہ رہی ہے ۔ پیسکو ہیڈ کوارٹر پر یلغار کو سیاست زدہ اقدام قرار دیا جائے تو غلط نہ ہوگا۔ فی الوقت حالات دگرگوں ہیں۔ رمضان المبارک میں تو خصوصی طور پر لوڈشیڈنگ ہونی ہی نہیں چاہئے۔اب ضرورت اس امر کی ہے کہ صوبے کے حصے کی بجلی تسلسل کے ساتھ ملتی رہے اورمقرر ہ میگاواٹ بجلی کی فراہمی میں کمی نہ لائی جائے۔ خیبرپختونخوا میں بجلی کے منصوبوں اور سولر پارک کے قیام کیلئے وفاقی حکومت کی جانب سے اعانت کی پیشکش سے صوبائی حکومت نے کیا فائدہ اٹھایا۔ بڑھتی لوڈشیڈنگ نے یہ سوال بھی لوگوں کے ذہنوں میں تازہ کردیا ہے۔پیسکو حکام کو چاہئے کہ وہ بجلی چوروں کے خلاف صوبائی حکومت کو اعتماد میں لے کر اور عوامی نمائندوں کے تعاون سے زبردست مہم شروع کرے۔ یہ علاقے کے عوام کے اپنے ہی مفاد میں ہے کہ وہ چوری کی بجائے جائز استعمال کو یقینی بناکر اپنے علاقوںمیں لوڈشیڈنگ میںکمی لائیں۔ کوئی بھی کمپنی کسی چیز کی قیمت کی وصولی کئے بغیر سہولیات و خدمات فراہم کرنے کی مکلف نہیں خواہ کیسا بھی انسانی مسئلہ ہی کیوں نہ ہو۔توقع کی جانی چاہیئے کہ ایسی صورتحال آنے نہیں دی جائے گی کہ وفاق کو بجلی کی تنصیبات کے تحفظ کی ذمہ داری خود نبھانی پڑے ۔

متعلقہ خبریں