Daily Mashriq


بجٹ پر ایک اچٹتی نظر

بجٹ پر ایک اچٹتی نظر

بجٹ آ گیا ہے۔ پہلے جب بجٹ آتے تھے تو کوئی انہیں کاشتکار دوست بجٹ کہتا تھا ' کوئی صنعت کار دوست اور کوئی عوام دوست۔ اس بار بجٹ پر کوئی ایسا لیبل نہیں لگا۔ کہا جا رہا ہے کہ 47کھرب روپے کا بجٹ انتخابی بجٹ ہے اور اس احتیاط کے ساتھ تیار کیا گیا ہے کہ اس میں ترقیاتی کاموں پر توجہ دی گئی ہے اور اس کے ساتھ ساتھ کوئی ایسا ٹیکس نہیں لگایا گیا جو کسی مزاحمت یا عوامی احتجاج کا باعث بنے۔ ایک کھرب سے زیادہ سرکاری شعبہ کے ترقیاتی پروگرام کے لیے رکھے گئے ہیں جن میں سے نصف سپیشل سکیموں اور سی پیک سے متعلق انفراسٹرکچر کے منصوبوں پر خرچ ہوں گے۔ وزیر اعظم نواز شریف گزشتہ کئی ماہ سے ترقیاتی منصوبوں کے افتتاح کر رہے ہیں۔ بجٹ پیش کرتے ہوئے ایک بار پھر یہ وعدہ کیا گیا ہے کہ 2018ء کے موسم گرما تک 10ہزار میگاواٹ بجلی مزید پیدا کی جائے گی اور بجلی کی لوڈ شیڈنگ مکمل طور پر ختم کر دی جائے گی۔ وزیر اعظم سڑکوں کا افتتاح کر رہے ہیں اور کہہ رہے ہیں کہ یہ ترقی کی جانب اہم قدم ہے ، سڑکیں ہوں گی تو تجارت ہو گی اور ملک خوشحال ہو گا۔ بجٹ پر پہلا تبصرہ بھی انہی نے کیا ہے اور کہا ہے کہ اس بجٹ کے بعد پاکستان پہلے سے زیادہ مضبوط ہو گیا ہے۔ اس ایک کھرب روپے کے ترقیاتی پروگرام کا 27فیصد یعنی 272ارب روپے وزیر اعظم اور ارکان پارلیمنٹ کی سکیموں پر خرچ ہوں گے۔

وزیر اعظم نواز شریف گزشتہ چند مہینوں سے ہر ماہ ایک دو منصوبوں کا افتتاح کرتے ہوئے نظر آتے ہیں۔ بجٹ میں وفاقی حکومت کی سپیشل اسکیموں کے لیے 272ارب روپے کے اختصاص کے بعد توقع کی جانی چاہیے کہ مزید سکیموں کے افتتاح بھی ہوں گے۔ جہاں تک بجٹ کے اس پہلو کا تعلق ہے اس میں کوئی تکلیف دہ ٹیکس نہیں لگائے گئے تو تکلیف کا کوئی پیمانہ ابھی تک ایجاد نہیں ہوا۔ پانی ایک سو ڈگری سینٹی گریڈ تک گرم کیا جا سکتا ہے لیکن جس جس پریہ گرے اس کی تکلیف کو سینٹی گریڈ پیمانے سے نہیں ماپا جا سکتا۔ یہ تو تکلیف سہنے والے پر منحصر ہے کہ وہ اسے کتنی تکلیف سمجھتا ہے۔ اس قلم کیش کی طرح وزیر خزانہ اسحق ڈار کے بال بھی ہر سال بجٹ پیش کرتے کرتے سفید ہو چکے ہیں۔ وہ شاید اب میک اپ کے سامان کو سامان تعیش سمجھتے سکتے ہیں لیکن جو خواتین میک اپ کے سامان کو ضرورت یا سہولت سمجھتی ہیں وہ یقینا سامانِ آرائش پر ٹیکس میں اضافے کو پسند نہ کریں گی۔ایک سو بیس ارب روپے کے نئے ٹیکسوں کی زد میں سیمنٹ اور سریا بھی آ گئے ہیں جس سے نئے مکان بنوانے والوں کو یقینا تکلیف ہو گی ۔ لیکن سرکاری شعبے کی تعمیرات کی لاگت میں بھی اضافہ ہو گا اور وزیر اعظم اور ارکان پارلیمنٹ پہلے کی نسبت بھاری لاگت کی سکیموں کے اعلان کریں گے۔ لیکن وزیر خزانہ نے بجٹ کا اعلان کرتے ہوئے ادویات کو بھی نہیں چھوڑا۔ ٹیکسوں کے بارے میں اصول یہ بتایا جاتا ہے کہ یہ ایسی چیز پر لگایا جاتا ہے جس کا استعمال عام اور ہمہ گیر ہو اور اس کے بغیر گزارا نہ ہو ۔ دوائیوں کا استعمال ہمارے ملک میں اس لیے عام اور ہمہ گیر ہے کہ ہمارے ملک میں صاف پانی میسر ہے نہ غیر آلودہ خوراک۔ اس لیے سبھی اپنی اپنی بیماریاں لیے پھرتے ہیں ۔ متمول لوگوں کی اپنی بیماریاں ہیں اور عامة الناس یعنی غریب غرباء کی اپنی بیماریاں ہیں۔ ادویات کے بغیر کیونکہ زندگی میں ان کا گزارا نہیں اس لیے ڈار صاحب نے نہایت آسانی سے ان پر ٹیکس بڑھا دیا ہے جب کہ پہلے ہی ان پر سترہ فیصد جی ایس ٹی حکومت وصول کرتی ہے۔ کسی مبصر نے کہا ہے کہ ڈار صاحب اکاؤنٹنٹ ہیں وہ ماہر اقتصادیات نہیں اس لیے انہیں جہاں کہیں سے بھی پیسہ وصول ہوتا نظر آیا انہوں نے وصول کر لیا۔ اگر وہ دردمند ماہر اقتصادیات ہوتے تو صحت عامہ پر اخراجات میں اضافہ کرتے تاکہ ملک کی افرادی قوت صحت مند ہو اور پیداوار میں اضافے کا باعث ہو۔ گزشتہ برسوں کی طرح اس بار بھی سرکاری ملازمین کی تنخواہوں اور پنشن میں 10فیصد اضافے کی تجویز پیش کی گئی ہے ۔ ایک اخبار کی یہ خبر دیکھ کر خوشگوار حیرت ہوئی کہ صدر ممنون حسین کی تنخواہ میں چھ لاکھ روپے کا اضافہ ہو گیا ہے۔

وہ ہمارے سربراہ مملکت ہیں پاکستانیوں کا فخر ہیں۔ یہ خبر پڑھ کر خوشی ہوئی۔ یہ کسی اخبار نے نہیں بتایا کہ آیا وزیروں اور ارکان پارلیمنٹ کے مشاہروں میں بھی اتنا ہی اضافہ ہو گا جو پہلے ہی اپنے اختیارات استعمال کرتے ہوئے اپنی تنخواہوں اور مراعات میں سو فیصد اضافہ کر چکے ہیں۔ تاہم یہ سمجھ نہیں آیا کہ ہمیشہ دس فیصد یا اس سے کم اضافہ کیوں ہوتا ہے ۔ یہ اضافہ افراط زر سے منسلک ہونا چاہیے جو بعض اخبارات کے مبصروں کے حساب سے سو فیصد ہو چکی ہے یعنی جو مشاہرہ ملتا ہے اس کی قوت خرید آدھی رہ گئی ہے ۔ اس پر دس فیصد اضافہ ہو بھی جائے تو کیا گنجی نہائے گی اور کیا نچوڑے گی۔ ایک روایتی اعلان یہ کیا گیا ہے کہ کم از کم تنخواہ 12کی بجائے پندرہ ہزار کر دی گئی ہے ۔ پتہ نہیں کم ازکم تنخواہ مقرر کرنے کا فارمولا کیا ہے ۔ گزشتہ بجٹ میں کم ازکم تنخواہ 12ہزار روپے کی تب بھی وزیر خزانہ سے سوال کیا گیا تھا کہ تین بچوں اور والدین پر مشتمل ایک خاندان کا بجٹ 12ہزار میں بنا دیں۔ اب بھی متعددٹی وی مبصرین یہی سوال کرتے دیکھے گئے۔ لیکن وزیر خزانہ اس سوال کا جواب دینے کے مکلف تب ہوتے جب ملک میں جمہوری ادارے ہوتے اور قائدین ان اداروںکے ذریعے ابھرنے والے عوامی سوالات کا جواب دینے کے ذمہ دار تصور کیے جاتے ۔ لیکن اسحق ڈار کھربوں کا بجٹ بناتے ہیں اور وزیر اعظم سے دادوصول کرتے ہیں کہ اس بجٹ کے بعد ملک مضبوط ہو گیا ۔ تاہم کم از کم سرکاری تنخواہ لینے والے کی قوت خرید کے ساتھ کیا ہوا یہ بتانے کے وہ پابند نہیں ہیں۔ اس سے بھی آگے یہ سوال ہے کہ آیا پرائیویٹ سیکٹر میں کم ازکم تنخواہ اتنی ہی ہے جتنی پبلک سیکٹر میں۔ پرائیویٹ سیکٹر میں کام کرنے والے اس معاشی عدل کے کیوں مستحق نہیں۔

متعلقہ خبریں