Daily Mashriq


کیا مودی نے نہرو کی غلطی دہرادی؟

کیا مودی نے نہرو کی غلطی دہرادی؟

بھارت کے انتہا پسند اور کانگریس کی روایتی قدامت پسند پٹیل لگیسی کو آج تک آگے بڑھا رہے ہیں جبکہ کانگریس اب صرف پنڈت نہرو کی لگیسی کا نام ہو کر رہ گئی ہے ۔تقسیم ہند سے پہلے اور بعد میں کانگریس پر ان دوشخصیات کی صورت میں دوسوچوں کی رسہ کشی جا ری تھی ۔تاہم دلچسپ بات یہ کہ تاریخ میں اس بات کا سراغ ملتا ہے پٹیل انتہا پسند ہونے کے باوجود تقسیم کے فارمولے کے تحت کشمیر کو پاکستان کے ساتھ رکھنے کے خواہاں تھے مگر یہ سوشلسٹ نہرو تھے جو کشمیری النسل پنڈت ہونے کی وجہ سے وادی ٔ کشمیر کو اپنی محبوبہ کہہ کر جذباتی وابستگی کا اظہا رکرتے کرتے اسے ہتھیانے کی راہ پرچل نکلے۔اس سوچ نے ایسے پاک بھارت کشیدگی اور کشمکش کے حالات کو جنم دیا کہ جو آج بھی جنوبی ایشیا کے لئے ناسور بن کر رہ گئے ہیں۔اس عمل کے نتیجے میں کشمیر میں پاکستان اور بھارت کے درمیان جنگ چھڑ گئی اور بھارت اس جنگ بندی کے لئے اقوام متحدہ میں جا پہنچا اور اقوام متحدہ نے معاملہ اپنے ہاتھ میں لے کر مسئلہ کے حل کے لئے کوششوں کا آغاز کیا اور یوں مسئلہ کشمیر کا ایک عالمی تناظر وجود میں آگیا۔دونوں ملکوں کے درمیان عالمی ایوان میں بحث وتکرار شروع ہوئی ،دلائل دئیے جانے لگے ،ثالثی کمیشن قائم ہونے لگے یہاں تک کہ قراردادیں منظور ہو گئیں۔جو آج پاکستان کے پاس اس قضیے کی بین الاقوامیت کا سب سے مضبوط ہتھیار اور ثبوت ہیں۔بھارت کے انتہا پسند پنڈت نہرو کا یہ جرم آج تک نہیں بھولے ۔بھارت کے بہت سے دانشور آج بھی نہرو کو اس بنا پر مطعون کرتے ہیں کہ اس نے عالمی طاقتوں کے بہکاوے میں آکر اقوام متحدہ کا درواز ہ کھٹکھٹایا اور یوں ایک دو طرفہ جھگڑا حق خود ارادیت کا مسلمہ کیس بن کر رہ گیا ۔وہ یہ الزام عائد کرتے ہیں کہ نہرو کو اقوام متحدہ کی راہ لیڈی مائونٹ بیٹن نے دکھائی او ر دونوں کے درمیان تعلقات کی گہرائی کی گواہی تاریخ سے ملتی ہے ۔اب تاریخ شاید خودکو دہرانے جا رہی ہے اور آج بھارت میں پٹیل لگیسی اور سوچ برسر اقتدار ہی نہیں سیاسی اور سماجی سطح پر غالب بھی ہے ۔ایسے میں جاسوسی کے الزام میں سزائے موت پانے والے اپنے ایک شہری کو بچانے کے لئے بھارت نے آئو دیکھا نہ تائو عالمی عدالت انصاف کا دروازہ کھٹکھٹا بیٹھا ۔پاکستان نے اس مقدمے میں عالمی عدالت کے اختیار سماعت کا معاملہ اُٹھایا مگر عدالت نے اسے رد کر دیا اور یوں عالمی عدالت نے کیس کی سماعت جا ری رکھی ۔ پاکستان ابھی اس صورت حال کے مقابلے کی تدابیر ہی سوچ رہا تھا کہ بھارت سے یہ آوازیں بلند ہونے لگیں کہ بھارت نے ایک فرد کو بچانے کے لئے عالمی عدالت انصاف سے رجوع کرکے اچھا نہیں کیا ۔ سپریم کورٹ آف انڈیا کے جج اور پریس کونسل آف انڈیا کے چیئرمین جسٹس مارکنڈے کاٹجو نے جو کچھ ہی عرصہ پہلے بھارت کی کشمیر پالیسی کو شدید تنقید کا نشانہ بنا چکے تھے ایک ٹویٹر پیغام میں کہا کہ بھارتی حکومت نے یہ قدم اُٹھا کر پاکستان کو مسئلہ کشمیر عالمی عدالت انصاف میں لے جانے کا موقع دیا ہے۔مسٹر کاٹجو کا کہنا تھا کہ پاکستان اس پر بہت خوش ہوگا۔جس کے بعد ایک کانگریسی لیڈرپی سی چکو نے اس نکتہ نظر کی مخالفت کرتے ہوئے کہا کہ کشمیر تو دہشت گردی کا مسئلہ ہے اور پاکستان کا اسے عالمی عدالت انصاف میں اُٹھانا غلط فہمی ہے۔ اس سوچ کے اُبھرتے ہی کلبھوشن یادیو کی سزائے موت پر عالمی عدالت کے حکم امتناعی پر منایا جانے والے جشن کچھ پھیکا سا پڑگیا ۔ یوں لگا کہ ایک طبقہ جسٹس کاٹجو کی طرح یہ سمجھ رہا کہ کوئی غلط تیر ان کی کمان سے نکل چکا ہے ۔ بھارت میں اسے پنڈت نہرو کی غلطی کا اعادہ سمجھا جانے لگا ہے ۔ایسے میں مشیر خارجہ سرتاج عزیز نے بھی یہ عندیہ دیا ہے کہ پاکستان کشمیر کے معاملے کو عالمی عدالت انصاف کے سامنے لے جا سکتا ہے ۔ معروف قانونی ماہر بیرسٹر فروغ نسیم کا ایک بیان بھی سامنے آیاجس کے مطابق پاکستان کو عالمی عدالت انصاف کی غیر جانبداری جانچنے کے لئے مقبوضہ کشمیر میں بھارتی مظالم رکوانے کے لئے عالمی عدالت انصاف سے رجوع کرنا چاہئے ۔اس وقت ملک میں یہ بحث زورو ں پر ہے کہ عالمی عدالت انصاف نے کلبھوشن کیس میں سیاسی فیصلہ دیا ہے یا پاکستان نے یہ مقدمہ نہایت عدم دلچسپی سے لڑا ہے۔حزب مخالف بھی حکومت پر اس کیس میں عدم دلچسپی کا الزام عائد کر رہی ہے ۔ایک رائے یہ ہے کہ پاکستان کو اس مقدمے میں فریق بننا ہی نہیں چاہئے تھا۔بہرحال اب جبکہ یہ مقدمہ لڑا جا رہا ہے تو ایسے میں عالمی عدالت انصاف کی غیر جانبداری اور ساکھ کو آزمانے کا ایک بہترین موقع پاکستان کے ہاتھ آگیا ہے ۔مقبوضہ کشمیر ایک متنازعہ علاقہ ہے ۔وہاں کا الگ دستور،سٹیٹ سبجیکٹ کا قانون ،اقوام متحدہ کے مبصرین کی موجودگی اور کشمیر کوتقسیم کرنے والی لکیر کو بارڈر کی بجائے لائن آف کنٹرول کہنا کشمیر کے متنازعہ ہونے کا ثبوت ہے۔بھارتی قیادت کے دعوے ،اقوام متحدہ کی قراردادیں اور لاتعداد ثبوت کشمیر کو متنازعہ قرار دے رہے ہیں ۔پاکستان عالمی قانون کے تحت اس تنازعے کا ایک فریق ہے۔کشمیر کے دونوں حصوں کے عوام عبوری طور پاکستان یا بھارت کے شہری ہیں۔ رائے شماری کے بعد ان کی شہریت کا مستقل تصفیہ ہوجائے گا۔اب ایک سوچ یہ ہے کہ پاکستان کے پاس یہ نادر موقع ہے کہ وہ مقبوضہ کشمیر میں بھارت کے ان مظالم کو عالمی عدالت انصاف میں لے کر جائے ۔اس سے جہاں عالمی عدالت کی غیر جانبداری کا پردہ چاق ہوگا وہیں بھارت کا چہرہ بھی بے نقاب ہوگا ۔

متعلقہ خبریں