Daily Mashriq


مانچسٹر حملہ اور اس کے مضر اثرات

مانچسٹر حملہ اور اس کے مضر اثرات

اس بات میں شک نہیں کہ 9/11کے بعد امریکا اور مغرب نے ظاہراًدہشت گردی کے خلاف ایک کھلی اور ہمہ گیر جنگ شروع کی اور دنیا کے اکثر و بیشتر ممالک نے اقوام متحدہ کے فورم کے علاوہ بھی فرداً فرداً 9/11حملہ کی سخت مذمت کی ۔ مسلمان ممالک نے بھی چاہے نہ چاہے امریکا کا اس حملے کے مائنڈسیٹ کے خلاف جنگ کرنے میں اس حد تک ساتھ دیا کہ اپنی سرزمین اور عسکری اہمیت کے بعض مقامات اور لاجسٹک سپورٹ بھر پور انداز سے فراہم کی ۔ لیکن عجیب بات یہ ہوئی کہ ٹوئن ٹاور کے گرانے میں جن ممالک کے باشندوں کی باز گشت سنائی دی وہاں اُس انداز کی جنگ شروع نہیں کی گئی جس انداز کی اُن ممالک میں چھیڑی گئی جس کا کوئی بندہ بشر اُس واقعے میں شامل ہی نہ تھا ۔ افغانستان وہ بد قسمت ملک ہے جس پر 9/11کے اثرات سب سے زیادہ اور سب سے گہرے مرتب ہوئے یہاں تک آج تک اُس کا سلسلہ جاری ہے ۔ بہر حال 1991ء میں عراق پر امریکی حملہ اور 9/11کے بعد افغانستان پر امریکی حملہ دنیا بھر کے لئے اُم المعارک (جنگوں کی ماں ) ثابت ہوا ۔ اس جنگ میں جلتی پر تیل کا کام عرب اسپرنگ نے سرانجام دیا ۔عراق ، شام ، لیبیا ، اور مصر جیسے بڑے اور مستحکم ممالک کے آمر (ڈکٹیٹر ز ) تو ختم ہوگئے جو امریکا اور مغرب کی بڑی خواہش تھی ، لیکن اس کے مضر اثرات مشرق وسطیٰ اور خلیجی ممالک پر اس انداز سے مرتب ہوئے کہ مغرب (یورپ ) اس کے اثرات سے محفوظ نہ رہا ۔ ان غیر مستحکم ممالک سے مہاجرین کی صورت میں جو خاندان جیسے تیسے لٹے پٹے اپنے آباد و شاد گھروں سے نکل کر یورپ پہنچے تو وہ مہاجرت کی سختیوں کوجان پر کھیل کر دیکھ چکے تھے ۔ ان مہاجرین میں کچھ وہ تھے جو بہت پہلے یورپ و امریکا پہنچ کر وہاں ٹھیک ٹھاک فارغ البال اور خوشحال زندگی گزارنے لگے تھے اور اُن کے پاس امریکا اور مغربی ممالک گرین کارڈ ز یا دیگر رہائشی دستاویزات تھیں اور وہ وہاں کی شہر یت حاصل کر چکے تھے ۔ اُن مہاجرین کی ایک نسل تو وہا ں پل بڑھ کر اُن ہی کی تہذیب میں رچ بس گئی تھی۔ لہٰذا سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ ہر چار چھ مہینے بعد ہیر پھیر کے ساتھ امریکا اور جرمنی ، فرانس ،کینیڈا ، بیلجئم اور برطانیہ وغیرہ میں وہاں کی شہریت کے حامل مسلمان نوجوان جو کبھی افغانی ، کبھی لیبیائی ، کبھی شامی ، اور کبھی کوئی اور اسلامی ملک سے نسلاً تعلق رکھتے ہیں،کیوں اپنا اور اپنے خاندان کے مستقبل کو دائو پر لگا کر خودکش حملہ کرنے پر مائل ہو جاتے ہیں ۔یہ و ہ لمحہ فکریہ ہے جو برطانیہ ، فرانس اور جرمنی جیسے ترقی یافتہ ملکوں کے سوشل سا ئنسدانوں کو تحقیق کا مو ضوع ہونا چاہیئے کہ آخر ایک ایسا نوجوان جو یورپ کی خوشگوار فضا میں پیدا ہوا پلا بڑھا اور تعلیم حاصل کی ۔ کن عناصر سے متاثر ہو کر ایک ایسی راہ پر چل پڑتا ہے ۔میرے نزدیک مانچسٹر جیسے واقعات کے پیچھے دو قسم کے محرکات ہو سکتے ہیں ۔ ایک یہ کہ مغرب کی فضائوں کے پروردہ یہ مسلمان نوجوان میڈیا کے ذریعے جب مسلمان ممالک کے ساتھ امریکا وغیرہ کا رویہ ، تعامل اور بعض ملکوں کے ساتھ جنگ کے واقعات سنتے ، پڑھتے اور دیکھتے ہیں تو جذبات میں آجاتے ہیں او ردینی تعلیم نہ ہونے کے سبب اس بات کے سوچنے کی صلاحیت سے عاری ہوتے ہیں۔ ایک جگہ بے گناہ افراد کی موت کے بدلے میں دوسری جگہ کے بے گناہ افراد کی موت دنیا کے کسی قانون اور رواج کے مطابق جائز نہیں اورنہ ہی اسلام اس کی اجازت دیتا ہے ۔ دوسرا یہ بھی عین ممکن ہے کہ اس قسم کے نوجوانوں کے ساتھ داعش ، القاعدہ یا دیگر اس قسم کی تنظیموں کے افراد کا میل جول ہوا ہو۔دونوں صورتوں میں بڑی ذمہ داری مغرب کے تعلیمی اداروں اور سماجیات و عمرانیات کے ماہرین کے علاوہ انٹیلی جنس اداروں پر پڑ تی ہے کہ اتنے ترقی یافتہ سائنٹفک وسائل کے باوجود ایک عام سا نوجوان اتنی بڑی تباہی مچانے میں کیوں اور کیسے کامیاب ہو جاتا ہے ۔اس قسم کے حملوں کی روک تھام کے لئے امریکہ اور مغرب کو پوری دنیا بالخصوص اسلامی دنیا کے ساتھ معاملات طے کرنے میں انسانی حقوق اور عدل و انصاف کے ان پیمانوں کو اپنانا ہوگا جو وہ اپنے لئے پسند کرتے ہیں ورنہ یہ تو عام سی بات ہے کہ جہاں ظلم ہوگا وہاں امن نہیں ہوسکتا۔ اس کے علاوہ امریکہ اور مغرب میں مقیم مسلمان خاندانوں پر بھی یہ کڑی ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ اپنی نوجوان اولاد کی اٹھک بیٹھک' عادات و اطوار' آنا جانا' حضر و سفر اور مزاج و معاملات میں غیر معمولی تبدیلیوں پر نظر رکھے اور کبھی تھوڑا سا وقت نکال کر ان کی گھر سے باہر سرگرمیوں کو بھی اگر مانیٹر کرے تو کم از کم اتنا تو ہوسکتا ہے اس کے بارے میں مناسب وقت پر مناسب رہنمائی و ہدایت کے انتظامات کئے جاسکیں یا اصلاح و تربیت (Rehabilitation) کے اداروں کو اطلاع دی جاسکے تو ایسے فرد کے خاندان کے افراد پر خواہ مخواہ کی مصیبت آنے کے امکانات کم ہوں گے۔ اس کے علاوہ والدین کا فرض ہے کہ ہفتہ میں ایک دن عام طور پر افراد خاندان کے ساتھ مغرب میں مقیم مسلمانوں کی فلاح و بہبود' وہاں کے قانو ن کی پابندی' اخلاقیات اور خاص کر انسان کو تکلف و ضرر سے بچانے کی اسلامی تعلیمات اور اس کی جزا و صلہ کے حوالے سے بات چیت کیا کریں۔ شاید اس سے بہت فرق پڑے ورنہ امریکہ و مغرب میں کسی ایک مسلمان کے کسی ناجائز و مذموم فعل کے مضر اثرات پوری مسلمان کمیونٹی پر پڑتے ہیں جو بہت نقصان دہ اور تکلیف دہ ہیں۔ اللہ ہم سب کو ہدایت دے۔ آمین۔

متعلقہ خبریں