Daily Mashriq


مشرقیات

مشرقیات

حجتہ الاسلام امام غزالی ( اصلی نام محمد بن محمد) علم کلام ، علم تصوف اور علم فلسفہ کے امام تھے ۔ انہوں نے 499ھ بمقام خلیل ، حضرت ابراہیم کے مزار مبارک پر حاضر ہو کر تین باتوں کا عہد کیا ۔ اول کسی دربار میں نہ جائو ں گا ۔ دوم کسی بادشاہ کا عطیہ نہ لوں گا ۔ سوم کسی سے مناظرہ و مباحثہ نہ کروں گا ۔ امام صاحب کی بعض تصا نیف کی وجہ سے اکثر لوگ ان کے مخالف تھے ۔ سلطان سنجربن ملک شاہ سلجوقی اس زمانے میں خراسان کا بادشاہ تھا ۔ وہ خود صاحب علم نہ تھا ۔ اس لیے بد گوئو ں نے اس کو دبا لیا اور ظاہری جبہ ودستار والوں نے جو کچھ کہا ، اس پر اس کو یقین آگیا اور امام کو بلوایا ۔ انہوں نے ایک خط بادشاہ کو لکھا کہ میں نے عہد کیا ہے کہ کسی بادشاہ کے پاس نہ جائو ں گا ۔ دس سال سے اس پر عمل کر رہا ہوں ۔ سلطان شہید (ملک شاہ ) نے اس دعا گو کو معذور رکھا ہے ۔ اب میں نے سنا ہے کہ مجلس عالی نے میری حاضری کا حکم دیا ہے ۔ میں شاہی فرمان کے لحاظ سے مشہد رضا تک آیا ہوں ، لیکن بادشاہ نے نہ مانا ، مجبوراً آئے ۔ وزیر اعظم نے استقبال کیا ۔ سنجر نے معانقہ کے بعد تخت کے قریب جگہ دی ۔ گفتگو کے خاتمے کے بعد امام غزالی نے بادشاہ سے کہا ، طوس کے لوگ پہلے ہی بد انتظامی اور ظلم کی وجہ سے تباہ تھے ، اب سردی قحط کی وجہ سے بالکل برباد ہو گئے ۔ ان پر رحم کر ، خدا تجھ پر بھی رحم کرے گا ۔ لوگوں کی گردنیں مصیبت سے ٹو ٹی جاتی ہیں اور تیرے گھوڑوں کی گردنیں طو قہا ئے زریں کے بار سے لدی ہیں ۔ (الغزالی ص ، 26)

صدر الدین محمد بن فخر الملک بن نظام الملک سنجر کا وزیر تھا ۔ اس نے مدرسہ نظامیہ بغداد کی صدر مدرسی کے لیے امام غزالی کو ایک خط لکھا ۔ امام نے ان خطوط وفرامین کے جواب میں ایک طویل خط لکھا اور بغداد نہ آنے کے متعدد عذر لکھے ، جن میں دو عذ ر یہ بھی تھے کہ موجودہ ڈیڑھ سو طلبا کو جو مصروف تحصیل ہیں ، بغداد جانے میں زحمت ہوگی ۔ میں نے عہد کیا ہے کہ کبھی مناظرہ و مباحثہ نہ کروں گا اور بغداد میں مباحثہ کے بغیر چارہ نہیں ۔ اس کے سوادربا ر خلافت میں سلام کے لیے حاضر ہونا ہوگا اور میں اس کو گوار انہیں کر سکتا ۔ سب سے بڑھ کر یہ کہ مشاہر ہ اور وظیفہ قبول نہیں کر سکتا اور بغداد میں میری کوئی ایسی جائیداد نہیں ، جس سے میرا گزارہ ہو سکے ۔ غرض امام صاحب نے صاف انکار کر دیا ۔ علمائے کرام وظائف کو اس بنا پر جائز سمجھتے تھے کہ قرون اولیٰ کے صحابہ کرام اور تابعین کو سلطنت کی طرف سے وظائف ملتے تھے ۔ امام صاحب اس استلال کو نقل کر کے لکھتے ہیں کہ یہ قیاس غلط ہے ۔ اولاً تو اس زمانے میں محاصل سلطنت ایسے مشتبہ نہ تھے ۔ دوسرے بڑا فرق یہ ہے کہ اس زمانے میں امراء اور حکام علماء کی رضا جوئی کے حاجت مند تھے ۔ خود ان کی طرف سے درخواست اور آرزو ہوتی تھی اور علماء میں سے کوئی شخص وظیفہ قبول کر لیتا تھا تو امراء خود ممنون ہوتے تھے ۔ اس وجہ سے صحابہ کرام و تابعین کو امر حق کے اظہار میں کبھی باک نہ ہو تا تھا ۔ وہ بھر ے دربار میں خلفائے بنی امیہ کو زجر و توبیخ کرتے تھے اور خلفاء ان کے سامنے سر تسلیم خم کر دیتے تھے ۔

متعلقہ خبریں