Daily Mashriq


عام انتخابات ، اہم پیش رفت

عام انتخابات ، اہم پیش رفت

صدر مملکت ممنون حسین نے الیکشن کمیشن کی جانب سے بھیجی گئی سمری کی منظوری دیتے ہوئے عام انتخابات 25جولائی 2018ء کو کرانے کی اجازت دیدی ہے ، قومی اسمبلی اور چاروں صوبائی اسمبلیوں کے انتخابات ایک ہی روز منعقد کرائے جائیں گے ۔ صدر مملکت کی جانب سے سمری کی منظوری کے بعد اب الیکشن کمیشن باضابطہ شیڈول جاری کرے گا ۔ قومی اسمبلی اور پنجاب اسمبلی کی پانچ سالہ مدت 31مئی کوختم ہورہی ہے جبکہ سندھ ، خیبرپختونخوااور بلوچستان کی اسمبلیاں پانچ سالہ اپنی مدت 28مئی کو پوری کررہی ہیں ۔ آئین کے آرٹیکل 224کے تحت قومی و صوبائی اسمبلیوں کے انتخابات ان کی مدت پوری ہونے کے 60روز کے اندر کرانا لازمی ہے ۔ مقام شکر ہے کہ ملک میں ایک بار پھر سیاسی حکومتیں اپنی پارلیمانی مدت پوری کرکے رخصت ہونے لگی ہیں یوں جمہوریت کا سفر بخیر و خوبی اختتام پذیر ہورہاہے اور آنے والے انتخابات کے نتیجے میں قائم ہونے والی حکومتوں کو پرامن اور جمہوری اندا ز میں اقتدار کی منتقلی سے ملک میں جمہوریت کی جڑیں مزیدمضبوط ہوں گی ۔ گزشتہ پانچ سال کے دوران اگرچہ سیاسی طور پر بہت افراتفری کا ماحول رہا ۔ 2013ء کے انتخابات کے بعد انتخابی نتائج کو تسلیم نہ کرنے کی آوازیں بلند ہونا شروع ہوگئی تھیں ۔ تحریک انصاف نے پہلے چار حلقوں میںدھاندلی کے الزامات لگاکر محولہ حلقوں کو کھولنے کے مطالبات شروع کئے اور پھر 35پنکچر کے الزامات سے سیاسی ماحول کوگرم کرنے کے ساتھ ساتھ ملک بھر میں جا بجا احتجاج شروع کیا ، جوایک طویل دھرنے پر منتج ہوا ، اس دوران ڈاکٹر طاہرالقادری نے بھی لاہور کے سانحے پر جس میں پنجاب پولیس کی جانب سے مبینہ طور پر کارروائی عام شہری بشمول مرد و خواتین اور بچے جاں بحق اور زخمی ہوئے تھے ، احتجاج کرتے ہوئے تحریک انصاف کے دھرنے میںساتھ دیا اور اسلام آباد میںزندگی معطل ہو کر رہ گئی ، اس دھرنے کے نتیجے میں عظیم دوست اورہمسایہ چین کے صدر کے دورے کو بھی منسوخ کرنا پڑا جو پاکستان کے ساتھ کئی اہم منصوبوں پر دستخط کرنے کیلئے اپنے وفد کے ساتھ آرہے تھے ، جبکہ دھرنے کے شرکاء نے پارلیمنٹ ، سپریم کورٹ اور دیگر کئی اہم عمارتوں کو عملاً بلاک کئے رکھا اور پی ٹی وی پر قبضے کی بھی کوشش کی گئی ، دوسری جانب تحریک انصاف کے اراکین پارلیمنٹ نے اپنے قائد عمران خان کی جانب سے ایوان کو نامناسب الفاظ سے یاد کرنے کے بعد اپنے مجموعی استعفے بھی سپیکر قومی اسمبلی کو بھجوادیئے مگر بعض سیاسی قائدین کے دبائومیں آکر ان استعفوں کی منظوری نہ ہونے دی گئی ۔ جبکہ دیگر اپوزیشن جماعتیں ، حکومت کے شانہ بشانہ کھڑی رہیں ، اور یوں حکومت کو گرنے نہیں دیا گیا جس کے بعد ملکی سیاسی قیادت کی کوششوں سے صورتحال پر قابوپالیا گیا ۔ تاہم افراتفری کے نتیجے میں حکومت کمزور ہوتی چلی گئی جبکہ ترقیاتی منصوبوں پر بھی شدید منفی اثرات پڑنے لگے۔ اس دوران پانامہ لیکس کا معاملہ اچھلا اور تب وزیراعظم (سابق) میاں نوازشریف پر کرپشن کے الزامات نے صورتحال کو ایک بار پھر نیا رخ دیدیا ۔ تحریک انصاف کے ساتھ ساتھ باقی سیاسی جماعتوں نے بھی پانامہ لیکس کے حوالے سے سابق وزیراعظم سے مستعفی ہونے کا مطالبہ کرتے ہوئے سارے معاملات کی تحقیقات پر زور دینا شروع کیا ،اگر چہ ابتداء میں یہ قضیہ پارلیمانی کمیٹی کی سطح پر حل کرنے کی تجویز دی گئی مگر حکومتی حلقوں کے سخت موقف کی وجہ سے معاملہ کسی منطقی انجام تک نہ پہنچ سکا ، اور بالآخر کچھ سیاسی قائدین نے عدلیہ سے رجوع کرتے ہوئے اس معاملے کو حل کرنے کیلئے اقدام اٹھائے ،جہاں سابق وزیراعظم نواز شریف کو نااہلی کا مرتکب قرار دیتے ہوئے کرپشن کے الزامات پر نیب کو تحقیقات مکمل کرنے کا فریضہ سونپ دیا گیا ، جہاںیہ مقدمہ ابھی تک جاری ہے اور اس کا بالآخر کیا فیصلہ ہوتاہے یہ تو آنے والے چند ہفتوں میں پتہ چل جائے گا ۔ جبکہ کرپشن کے خلاف تحریک انصاف نے ایک اور دھرنے کا اہتمام بھی کیا تھا ، البتہ پانامہ لیکس میں دیگر جن لگ بھگ چارسو افراد کے نام آئے تھے ان میں سے مزید کتنے افرادقانون کی زد میں آئے یہ ایک اہم سوال ہے جس کاجواب بھی عوام کو ملنا ضروری ہے ، اس دوران میں پلوں کے نیچے سے بہت سا پانی بہہ چکا ہے اور بالآخر کسی نہ کسی طور جمہوری حکومتوں نے اپنی مدت مکمل کرلی ہے ، حالانکہ اس دوران بعض افواہیں بھی گردش کرتی رہی ہیں کہ حکومت (مرکزی) کو اپنی مدت پوری کرنے سے پہلے ہی چلتا کیا جا سکتا ہے اور ملک میں دوتین سال کیلئے ٹیکنو کریٹ حکومت قائم کر کے سخت احتساب کا عمل مکمل کیا جائے گا ۔ ان افواہوں کو آگے بڑھانے میں بعض مخصوص سیاسی رہنمائوں کے ساتھ ساتھ میڈیا کے اہم اور سرکردہ افراد بھی شامل تھے ، لیکن ایسی کوئی صورتحال جنم نہ لے سکی اور بالآخر صدر مملکت نے الیکشن کمیشن کی بھیجی ہوئی سمری پر دستخط کرتے ہوئے 25جولائی کو قومی اور صوبائی اسمبلیوں کے انتخابات منعقد کرنے کی منظوری دیدی ہے ، اب یہ ذمہ داری الیکشن کمیشن کی ہے کہ وہ ملک میں منصفانہ ، آزادانہ ، غیر جانبدارانہ اورکسی بھی حلقے کی جانب سے دبائو میں آئے بغیر انتخابات کے انعقاد کو یقینی بنائے ، ایک دوروز میں قائم ہونے والی نگران حکومتوں کی بھی ذمہ داری ہے کہ وہ کسی بھی سیاسی جماعت کی جانب سے انتخابی عمل پر اثر انداز ہونے کی کوششوں کو ناممکن بناتے ہوئے الیکشن کمیشن کے کام کو آسان بنائے تاکہ نہ صرف جمہوریت کی جڑیں مزید مضبوط ہوں بلکہ پرامن انتقال اقتدار کو ممکن بنایا جا سکے ۔ 

متعلقہ خبریں