Daily Mashriq

اک اور دریا کا سامنا؟

اک اور دریا کا سامنا؟

قومی اسمبلی اور ازاں بعد سینیٹ میں فاٹا انضمام بل کی منظوری کے بعد ایک او رقضیئے نے سر اٹھالیا ہے اور فاٹا کے صوبہ خیبرپختونخوا میں ضم ہونے کے ساتھ ہی صوبے کے زیر انتظام پاٹا میں شامل علاقوں بشمول ملاکنڈ ڈویژن اور کوہستان کی خصوصی حیثیت کے تعین کے حوالے سے سوالات نے متعلقہ علاقوں کے عوام میں بے چینی پیدا کردی ہے اور ان علاقوں میں احتجاج کی لہر شروع ہورہی ہے اس صورتحال نے کے پی حکومت کوبھی مشکل سے دوچار کر دیا ہے ، کیونکہ وہاں کے مقامی لوگوں کو خدشہ ہے کہ پاٹا کی خصوصی حیثیت کے خاتمے سے وہاں ٹیکسوں اور ڈیوٹیوں کا نفاذ شروع ہو جائے گا جس کیلئے لوگ کسی صورت تیار نہیں ہیں ، جبکہ ان علاقوں کو دس سال کیلئے ٹیکسوں وغیرہ سے چھوٹ کی سہولت حاصل ہے ، چنانچہ اس صورتحال سے نمٹنے کیلئے سپیکر خیبر پختونخوا اسمبلی نے سپیکر قومی اسمبلی کو ایک خط کے ذریعے پاٹا کے علاقوں کو دس سال کیلئے ہر قسم کے ٹیکسوں سے استثنیٰ دینے کا مطالبہ کیا ہے ۔ اس سلسلے میں سوات میں مختلف سیاسی جماعتوں ، وکلاء ، سول سوسائٹی اور سوات ٹریڈرز فیڈریشن نے احتجاج کا اعلان کرتے ہوئے جولائی میں منعقد ہونے والے عام انتخابات کے بائیکاٹ کی دھمکی بھی دی ہے ،امر واقعہ یہ ہے کہ فاٹا کے انضمام کیلئے آئینی ترمیم کا مسودہ تیار کرتے وقت متعلقہ کمیٹی نے ابتدائی طور پر اس اہم مسئلے کو کیوں ذہن میں نہیں رکھا اور اس مسئلے کا کوئی قابل قبول حل تلاش کرنے کی کوشش کیوں نہیں کی گئی ، جبکہ ملک کی وہ تمام سیاسی جماعتیں جن کے نمائندے پارلیمنٹ کا حصہ ہیں ، بھی اس معاملے پر خاموش تماشائی بنے رہے اور پھر آخر میں جب قومی اسمبلی میں بل کی خواندگی ہورہی تھی اور ایک ایک شق کو زیر غور لایا جارہا تھا توتب خصوصاً سوات ، ملاکنڈ ، دیر ، چترال اور کوہستان سے تعلق رکھنے والے ممبران اسمبلی نے اس اہم نقطے پر استفسار کرتے ہوئے کیوں آواز نہیں اٹھائی۔ بہر صورت یہ ایک انتہائی گمبھیرصورتحال ہے ، اگرچہ بعض قانونی ماہرین اس کا حل تلاش کرتے ہوئے اس حوالے سے صدر مملکت کی جانب سے ایک نوٹیفکیشن کے اجراء کی تجویز پیش کر رہے ہیں ، تاہم یہ اپنی جگہ ایک انتہائی اہم اور نازک معاملہ ہے اور اس سے پہلے کہ موجودہ اسمبلیاں اپنی مدت ختم کرتے ہوئے تحلیل ہو جائیں اس مسئلے کا قابل عمل حل تلاش کرنا لازمی ہے تاکہ محولہ علاقوں کے عوام ردعمل میں عام انتخابات کے بائیکاٹ کا واقعی فیصلہ نہ کرلیں ۔
دوہری اذیت اور شہریوں کی پریشانی
رمضان المبارک کے دوران صوبائی دارالحکومت میں جہاں ایک جانب مصنوعی مہنگائی جاری ہے وہاں دوسری جانب بازاروں میں ناقص اشیائے خوردنی کی فروخت بھی دھڑلے سے جاری ہے ، اور اس سلسلے میں انتظامیہ کی جانب سے رمضان سے قبل بنایا گیا پلان بری طرح ناکام ہو چکا ہے ۔ ان ناقص اور غیر معیاری اشیا خوردونوش کے استعمال سے شہری پیٹ ، گلے ، اور معدے سمیت دیگر بیماریوں کا شکار ہورہے ہیں۔ ایک قومی اخبار نے اس ضمن میں جو سروے کیا ہے اس سے اندازہ لگانے میں دشواری نہیں ہورہی ہے کہ ناجائز منافع خور بغیر کسی خوف وخطر کے سرگر م ہیں اور شہریوں کو دونوں ہاتھوں سے لوٹنے میں مصروف ہیں ۔ بد قسمتی سے گزشتہ کئی ماہ سے بی آر ٹی کی تعمیر کے سلسلے میں جاری کارروائیوں کی وجہ سے گرد اور دھول سے بھی شہری بری طرح متاثر ہورہے ہیں اور انہیں سانس لینے میں شدید دشواریوں کی وجہ سے سانس اور گلے کی بیماریوں نے گھیر رکھا ہے جبکہ رہی سہی کسر ان ناقص گھی ، تیل اور دوسری اشیاء میں تیار کی ہوئی چیزوں کے استعمال نے سونے پر سہاگہ کی کیفیت پیدا کردی ہے ، ایک طرف سانس کی بیماریاں ، گلے کے امراض ، ناک کے مسائل ، آنکھوں کی جلن سے شہری پریشان ہیں تو اب ناجائز منافع خوروں نے ان کو مزید مشکلات سے دوچار کرنا شرو ع کردیا ہے ۔ اگرچہ انتظامیہ کے کچھ افراد نمائشی قسم کے اقدامات تو کرتے ہیں مگر صورتحال سے نمٹنے کے مکمل اورمئوثر اقدامات دکھائی نہیں دیتے ۔ جولوگ اس قسم کے دھندوں میں مصروف ہیں انہیں نہ خدا کا خوف ہے ،نہ آخرت کی فکر ، ان کے نزدیک بس دوسروں کی جیبوں کو خالی کرکے اپنی تجوریوں کے بھرنے سے مقصد ہے ، جبکہ اس ضمن میں صرف انتظامیہ پر بھی ذمہ داری عاید نہیں ہو سکتی بلکہ علمائے دین اور سول سوسائٹی کے افراد بھی اس ضمن میں اگر آگے آکر اپنا کردار ادا کریں تو امید ہے کہ اس مسئلے کا حل نکلنے کی کوئی صورت سامنے آسکتی ہے ۔ جبکہ ناجائز منافع خوروں سے تو کسی خیر کی توقع ویسے ہی فضول ہے کیونکہ یہ اپنے کردار کے منفی رویوں میں اس قدر راسخ ہوچکے ہیں کہ ان سے کوئی امید رکھنا ممکن دکھائی نہیں دیتا ۔

اداریہ