بے شناخت علاقے اور فورتھ جنریشن وار

بے شناخت علاقے اور فورتھ جنریشن وار

نے بدلتے وقت اور حالات کے تقاضوں کے پیش نظر پاکستان کے تین اہم علاقوں فاٹا، گلگت بلتستان اور آزادکشمیر کی دھندلی حیثیت اور شناخت کو واضح کرنے کا فیصلہ کیا۔ یہ علاقے ستر سال سے ایڈہاک ازم کے روایتی اصول اور آئین کے تحت ہی چلائے جا رہے تھے۔ آزادکشمیر اور گلگت بلتستان کی حد تک تو غیر یقینی اور تذبذب سمجھ میں آنے والی بات تھی کہ یہ علاقے مسئلہ کشمیر کے ایک بڑے قضئے کیساتھ جڑے ہوئے ہیں مگر فاٹا کے عوام کا ستر سال سے معلق رہنا ایک المیہ اور تساہل ہی تھا۔ پہلے مرحلے کے طور پر پارلیمنٹ کے دونوں ایوانوں نے یکے بعد دیگرے اکتیسویں آئینی ترمیم کے ذریعے وفاق کے زیر انتظام قبائلی علاقے فاٹا کے خیبر پختونخوا میںانضمام کی منظوری دیدی اور یوں ایک سو اٹھارہ برس بعد علاقے سے ایف سی آر قوانین ختم اور آئین پاکستان کا نفاذ ہوگیا۔ اسمبلی نے آئین پاکستان سے فاٹا اور پاٹا کے الفاظ حذف کرنے کی منظوری بھی دیدی۔ جس کی سات قبائلی ایجنسیاں اور ایف آر کے علاقے خیبر پختونخوا میں شامل ہوگئے۔ اپوزیشن کی دو اہم جماعتوں پیپلزپارٹی اور پی ٹی آئی نے اس معاملے پر حکومت کا ساتھ دیا جبکہ مولانا فضل الرحمان اور محمود اچکزئی نے اس تاریخی عمل سے دور رہنا ہی ضروری سمجھا۔ اس فیصلے کے بعد قبائلی علاقے میں وزیراعلیٰ کے اختیارات نافذالعمل ہوں گے۔ فاٹا اصلاحات کمیٹی کے سربراہ سرتاج عزیز کے مطابق فاٹا کو ڈیڑھ سال قبل ہی کے پی میں ضم ہونا تھا مگر مولانا فضل الرحمان اور محمود اچکزئی کی مخالفت کی وجہ سے ایسا نہ ہو سکا۔ فاٹا کا انضمام ایک مشکل مگر تاریخی فیصلہ ہے۔ فاٹا کے عوام آزاد ی حاصل کرنے کے باوجود انگریز کے بنائے ہوئے قوانین اور نظام کے تحت زندگی گزار رہے تھے۔ جس پر ان علاقوں میں شدید غصہ بھی پایا جاتا تھا۔ تمام تر شکایتوں کے باوجود قبائلی عوام نے ریاست اور ملک کیساتھ اپنی وابستگی میں کوئی دراڑ نہیں آنے دی۔ یہ لوگ پاکستان کی سرحدوں کے قدرتی اور بلاتنخواہ محافظ بن کر کھڑے رہے۔ ان علاقوں کی مہمان نوازی کی روش بعد میں گلے بھی پڑ گئی اور یہ علاقے خوفناک اور رنگ برنگی عسکریت کی زد میں آگئے۔ یہ عسکریت بعد میں دہشتگردی کی شکل اختیار کر گئی۔ جسے جڑ سے اکھاڑنے کیلئے پاک فوج کو کئی آپریشن کرنا پڑے۔ ان آپریشنوں کی وجہ سے قبائلی علاقوں کے عوام کو اپنے ہی وطن میں مہاجر بننا پڑا۔ اب حکومت نے قبائلی علاقوں میں گومگوں کی صورتحال ختم کرنے اور ان علاقوں کو مرکزی دھارے میں لانے کا فیصلہ کیا جس سے قبائلی عوام کا احساس محرومی کم ہوگا اور وہ ملک کے دوسرے حصوں کی طرح ترقی کا سفر جاری رکھ سکیں گے۔ ہفتہ بھر قبل وزیراعظم شاہد خاقان عباسی کی صدارت میں ہونے والے قومی سلامتی کمیٹی کے اجلاس میں تینوں مسلح افواج کے سربراہان نے شرکت کرکے کئی اہم امور پر اتفاق کیا تھا۔ قومی سلامتی کمیٹی کے اجلاس میں ملک کی جیو سٹریٹجک صورتحال کا بغور جائزہ لینے کیساتھ ساتھ کئی حساس اور اہم معاملات پر بھی فیصلے کئے گئے تھے۔ جن میں فاٹا، آزادکشمیر اور گلگت بلتستان شامل ہیں۔ ان میں فاٹا کو کے پی میں ضم کرنے اور آزاد کشمیر اور گلگت بلتستان کی کونسلوں کو برقرار رکھتے ہوئے اختیارات بڑھانے کا فیصلہ بھی شامل ہے۔ یہ تینوں بہت اہمیت کے حامل فیصلے ہیں۔ فاٹا کے عوام اپنی شناخت مانگتے رہے ہیں، وہ اپنے لئے بدلتے وقت اورجدید تقاضوں سے ہم آہنگ قوانین کا مطالبہ کرتے رہے تھے۔ اسی طرح آزاد کشمیر اور گلگت بلتستان کے عوام عرصہ دراز سے اختیارات میں اضافے کا مطالبہ کرتے چلے آرہے ہیں اور اس کیلئے ان علاقوں میں آئینی طور پر خاصا کام بھی ہو چکا ہے۔ آزاد کشمیر کے آئین میں ترامیم کا مسودہ بھی تیار ہو کر وفاقی اداروں کی درازوں میں کہیں بند پڑا ہے۔ گلگت بلتستان کے حوالے سے سرتاج عزیز کی سربراہی میں ایک کمیٹی کی رپورٹ بھی تیار ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ ہم ایک حساس خطے میں ہیں جہاں چہار جانب سے دشمن رنگ اور ڈھنگ بدل کر حملہ آور ہے۔ فورتھ جنریشن وار دشمن کا نہایت آسان ہتھیار ہے اور اس کے ذریعے مشرق وسطیٰ کے کئی ملکوں کا سول سٹرکچر برباد کرکے ان کا حلیہ بگاڑا جا چکا ہے۔ حقوق اور بے چینی کے نام پرکئی ملکوں میں عوام میں احتجاج کو فروغ دے کر مضبوط فوجوں کو تتر بتر کیا جا چکا ہے۔ احتجاج اور بے چینی ہر جگہ موجود ہوتی ہے جب کسی معاشرے میں جذبات کا پریشر ککر پھٹ جاتا ہے تو سوشل میڈیا کو استعمال کرکے اس احتجاج اور بے چینی کو من پسند رخ دیا جاتا ہے۔ یہی فورتھ جنریشن وار ہے جس کے ذریعے مشرق وسطیٰ کے طاقتور حکمرانوں اور ملکوں کو ڈھیر کیا جا چکا ہے اور اب انارکی کی لہروں پر بہتے چلے جانے والے یہ معاشرے کسی مرکزیت کو ترس رہے ہیں۔ اس تناظر میں آزادکشمیر، گلگت بلتستان اور فاٹا تینوں فورتھ جنریشن والوں کے ریڈار پر ہیں۔ یہ منصوبہ ساز پاکستان میں مختلف ناانصافیوں کو اس انداز سے پیش کررہے ہیں کہ ایک عام نوجوان مستقبل سے مایوس ہو کر اورکشتیاں جلا کر میدان میں نکل آئے۔ پہلے خالی ہاتھ ہی سہی مگر بعد میں ان ہاتھوں میں بندوق آنا لازمی ہوتا ہے۔ اسلئے سیاسی طاقت اور فیصلہ سازی کے مراکز سے دور فاٹا گلگت بلتستان کو مزید اختیارات دینے پر سیاسی اور سلامتی کے اداروں کا اتفاق ایک اچھی بات ہے۔ اب ان علاقوں کے حوالے سے ہونے والے فیصلوں پر عمل درآمد کرنے میں مزید تاخیر نہیں ہونی چاہئے۔ احساس محرومی اعتماد کی خلیج کو جنم دیتی ہے اور وقت گزرنے کیساتھ یہ خلیج بڑھتی چلی جاتی ہے اور اس خلاء اور خلیج کو پُر کرنے کیلئے فتنہ پرور بیرونی عناصر تیار کھڑے ہوتے ہیں۔ پاکستان تو اس طرح کے آمادہ فساد اور درپہ آزار ہمسایوں اور مہربانوں میں آج بھی خودکفیل ہے۔

اداریہ