فاٹا انضمامی بل کی منظوری اور ہماری ذمہ داریاں

فاٹا انضمامی بل کی منظوری اور ہماری ذمہ داریاں

قوموں کی زندگی میں بعض لمحات تاریخ ساز ہوتے ہیں۔ رواں ہفتے کا آغاز پاکستان تحریک انصاف کی جانب سے اپنی متوقع حکومت کے پہلے سو دن کا پروگرام دینے سے ہوا جبکہ ورکنگ ڈیز کا اختتام فاٹا انضمام بل کی سینیٹ سے منظوری پر ہوا۔ فاٹا کا خیبر پختونخوا میں انضمام بلاشبہ ایک تاریخ ساز لمحہ ہے۔ پاکستان کی تمام سیاسی جماعتوں نے اس ضمن میں قومی ذمہ داری کے احساس کے تحت اپنا کردار ادا کیا۔ مولانا فضل الرحمان کی جمعیت علمائے اسلام اور محمود خان اچکزئی کی پشتونخوا ملی عوامی پارٹی کے علاوہ وطن عزیز کی تمام چھوٹی بڑی جماعتوں نے فاٹا کے انضمام کی حمایت کی۔ پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان بنفس نفیس پارلیمنٹ میں تشریف لائے اور اس بل کی حمایت میں اپنا ووٹ کاسٹ کیا۔ مسلم لیگ ن کی حکومت نے اپنے اتحادیوں کے تحفظات کو نظرانداز کر کے فاٹا انضمام بل کو پارلیمنٹ میں پیش کیا جبکہ پختونخوا اسمبلی میں اس بل کی منظوری کو مدنظر رکھتے ہوئے پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے سابق وزیر ضیاء اللہ آفریدی کو ہدایت کی کہ وہ اسپیکر پختونخوا اسمبلی اسد قیصر کیخلاف پیش کردہ عدم اعتماد کی تحریک کو واپس لے لیں۔ اپیل، وکیل اور دلیل کا حق ہر انسان کا ہے، فاٹا کے عوام کو اس حق سے محروم رکھ کر ان کے بنیادی حقوق کو سلب رکھا گیا۔ اپریل 2018ء میں ایک آف پارلیمنٹ کے ذریعے سپریم کورٹ آف پاکستان اور پشاور ہائی کورٹ کی جیورس ڈکشن کو فاٹا تک بڑھایا گیا تھا، اب اس اکتیسویں آئینی ترمیمی بل کے بعد وطن عزیز میں وفاق کے زیر انتظام سات قبائلی ایجنسیاں اور رینجرز کا خصوصی انتظام ختم ہو گیا ہے۔ یہ نہایت خوشی کا دن ہے، اگرچہ بعض لوگ ابھی بھی ان علاقوں کی خوشحالی کے حوالے سے تحفظات کا اظہار کر رہے ہیں اور اُن کی دلیل یہ ہے کہ قبائلی علاقہ جات کو مکمل طور پر بندوبستی علاقہ بنانا اگر مسئلے کا حل ہوتا تو تورغر کے مسائل حل ہو چکے ہوتے اور کوہستان کے عوام کی مشکلات ختم ہو چکی ہوتیں، یہ ایک مضبوط دلیل ہے کہ تبدیلی کی اصل روح انتظامی ہیئت کی تبدیلی نہیں بلکہ یہ ہے کہ عوام کو مسائل سے نجات ملے۔ اس ضمن میں وفاقی اور صوبائی حکومت کی ٹھوس منصوبہ بندی وقت کی اہم ضرورت ہے۔ فاٹا کے عوام نے خیبر پختونخوا کیساتھ انضمام پر خوشی کا اظہار کیا ہے لیکن نئے بندوبست میں اگر انہیں کسی تکلیف سے دوچار ہونا پڑا تو اس کا شدید منفی ردِعمل بھی آسکتا ہے۔ ہمیں یہ بات نہیں بھولنی چاہئے کہ جمعیت علمائے اسلام اور پختونخوا ملی عوامی پارٹی جیسی جماعتوں کے ہاں فاٹا انضمام کے معاملے پر ایک مختلف سوچ پائی جاتی ہے۔ بروز جمعہ سینیٹ میں اظہار خیال کرتے ہوئے عثمان کاکڑ نے بل کی منظوری کو فاٹا کیلئے سیاہ ترین دن قرار دیا۔ اس سوچ کے حامل لوگ سیاسی مقاصد کیلئے کسی سچویشن کو اپنے حق میں ایکسپلائٹ کر سکتے ہیں۔ جمعیت علمائے اسلام نے خیبر پختونخوا اسمبلی میں فاٹا انضمام کے بل کو پیش ہونے سے روکنے کیلئے اسمبلی کے گھیراؤ کی دھمکی دی ہے۔ اپوزیشن لیڈر مولانا لطف الرحمان کا کہنا ہے کہ قبائل کی مرضی کے بغیر ان پر اسلام آباد سے فیصلے مسلط کرنے کے خطرناک نتائج برآمد ہو سکتے ہیں۔ یوں فاٹا انضمام بل کی قومی وصوبائی اسمبلی اور سینیٹ سے منظوری کافی نہیں ابھی گراؤنڈ پر کرنے والے اور بہت سے کام ہیں۔پاکستان تحریک انصاف کو خاص طور پر اس طرف توجہ دینے کی ضرورت ہے۔ دیگر جماعتوں کے مقابلے میں تحریک انصاف نے زیادہ آگے بڑھ کر فاٹا انضمام کا مسئلہ اٹھایا اور اس مقصد کیلئے جدوجہد کی ہے۔ عمران خان نے 20مئی کو پہلے 100دن کا پروگرام پیش کرتے وقت جن چھ نکات کی بات کی اُن میں ایک نکتہ فیڈریشن کو مضبوط بنانا ہے۔ اس کمٹمنٹ کے تحت پی ٹی آئی نے فاٹا انضمام اور جنوبی پنجاب کو صوبہ بنانے کا عزم بھی ظاہر کیا ہے۔ تحریک انصاف کی خوش قسمتی ہے کہ ابھی اس اعلان کو ہوئے چار دن بھی نہ گزرے تھے کہ وفاقی حکومت پر فاٹا انضمام کا بل پیش کرنے کا دباؤ بڑھ گیا اور اس حوالے سے ایک قومی اتفاقِ رائے بھی سامنے آگیا۔
تحریک انصاف کے قائد عمران خان جس طرح جنوبی پنجاب کو صوبہ بنانے میںدرپیش مشکلات کے ادراک اور ان کے حل کیلئے خصوصی کمیٹی کا قیام عمل میں لایا ہے بعینہ انہیں چاہئے کہ وہ خیبر پختونخوا فاٹا انضمام کے مضمرات کا جائزہ لینے اور اس انضمام کو قبائلی علاقوں کے عوام کی تکالیف دور کرنے کے حوالے سے فوری طور پر تجربہ کار لوگوں پر مشتمل ایک کمیٹی تشکیل دیں جو قبائلی علاقوں میں نئے بندوبست کے عمل کا بغور جائزہ لے اور ایک اچھی حکمت عملی ترتیب دے۔ ایک خوشحال اور باوقار زندگی کی نوید دینے والا فاٹا انضمام بل انشاء اللہ صوبائی اسمبلی کی منظوری اور صدر مملکت کے دستخطوں کے بعد سوموار منگل تک باضابطہ آئین پاکستان کا حصہ بن جائے گا اور قبائلی علاقوں میںخدا کے فضل وکرم سے ایک نئے عہدکا آغاز ہو جائے گا۔ احمد ندیم قاسمی یاد آتے ہیں:
خدا کرے میری ارض پاک پر اُترے
وہ فصلِ گل جسے اندیشۂ زوال نہ ہو
خدا کرے میرے اک بھی ہم وطن کیلئے
حیات جرم نہ ہو زندگی وبال نہ ہو

اداریہ