پاکستانی ایٹم بم، چند قوم پرست اور بھارت

پاکستانی ایٹم بم، چند قوم پرست اور بھارت

پاکستان میں چند عجیب رواجوں میں سے ایک رواج یہ بھی ہے کہ فوج کو برا بھلا کہو اور اس کے بجٹ پر تنقید کرو۔ کچھ ایسے بھی ہیں جو یہ کہتے سنے جاتے ہیں کہ عوام بھوکے ہیں تو ایٹم بم کی کیا ضرورت ہے یعنی ایک تو بھوکے ہوں اوردوسرے گدھوں کے آگے ڈال دئیے جائیں۔ جی ہاں اگر یہ بم ہمارے پاس نہ ہوتا تو اب تک ہمارے ملک میں دہشتگردی کروانے والے اور اب ففتھ جنریشن وار شروع کروانے والے کب کا ہم پر حملہ کر چکے ہوتے اور یہ بھی ظاہر ہے جدید ٹیکنالوجی کے آگے صرف جذبہ تو نہیں چل سکتا کیونکہ جذبوں کو بھی بروئے کار لانے کیلئے آخر کسی سہارے کی ضرورت ہوتی ہے ورنہ کوئی طاقتور قوم کسی کمزور قوم کو یوں کچلتی نہیں جیسے امریکہ نے افغانستان اور عراق کو کچلا اور یہی طاقت ہی ہے کہ دنیا کے نقشے پر ایک نکتے جتنا اسرائیل پورے عالم اسلام کیلئے دردسر بنا ہوا ہے۔ پاکستان اپنے قیام سے ہی ایسے مسائل سے دوچار ہے کہ اگر اس نے اپنے دفاع پر توجہ نہ دی تو اس کے وجود کو لاحق خطرات سے کسی کو انکار ممکن نہیں۔ اس کی سرحد پر کسی شکاری کی طرح تاک میں بیٹھا اس کا پڑوسی کسی بھی وقت اس پر حملہ آور ہو سکتا ہے۔ اس نے ماضی میں کئی بار ایسا کیا بھی ہے۔ 1948میں ایک نوزائیدہ مملکت پر چڑھائی، 1965میں رات کی تاریکی میں پاکستان کے قلب یعنی لاہور پر حملہ آور ہونا اور1971میں طویل فاصلے کا فائدہ اٹھا کر ملک کے مشرقی حصے پر چڑھ دوڑنا یہ اس کی بدخواہی اور بدنیتی کی زندہ مثالیں ہیں جو تاریخ کے صفحات پر اس کے منہ پر ملی ہوئی وہ کالک ہے جو کبھی اتر نہ سکے گی۔ اب ایک ایسے دشمن کے مقابلے کیلئے ظاہر ہے خود کو ہر دم تیار رکھنا ہی دانشمندی ہے اور یہ تیاری بھی اس کی ٹکر کی ہو وہ ہم سے تین گنا بڑا ملک اور پانچ گنا بڑی آبادی ہے، لہٰذا ہمیں اپنے حساب سے بڑھ کر اس کے حساب سے اپنی تیاری رکھنا ہوگی۔ بھارت نے اپنی آزادی کے وقت سے ہی اپنی تمام تر قوتیں اور تمام وسائل اپنی جنگی قوت بڑھانے میں صرف کئے، اپنے اسلحے کے ڈھیر بڑھاتا رہا۔ اس نے مئی 1974 میں پہلی بار ایٹمی تجربے کئے اور اپنی اس صلاحیت کو مسلسل بہتر بناتا رہا اور مئی 1998میں اس نے ایٹمی ہتھیاروں کے تین تجربات کئے اور ساتھ ہی اس کا لہجہ بدل گیا اور اس نے پاکستان کے بارے میں دھمکی آمیز زبان استعمال کرنا شروع کر دی۔ بھارت کے دھماکوں کے بعد پاکستان کیلئے یہ ناگزیر ہو گیا کہ وہ بھی خود کو دشمن کی صلاحیت کی سطح پر لائے اور اس کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر دیکھ سکے اور اپنی طرف بری نظر سے دیکھنے والی آنکھ کو پھوڑ سکے۔ اس وقت پوری قوم متحد ہو گئی اور بیک آواز یہ مطالبہ سامنے آیا کہ اگر ہمارے پاس ایٹمی صلاحیت ہے تو ہمیں بھی اسے کھل کر سامنے لانا چاہئے تاکہ دشمن کو اسی کی زبان میں جواب دیا جا سکے اور حکومت کو ظاہر ہے پاکستان کے بچاؤ کیلئے ایسا کرنا تھا لہٰذا 28مئی 1998 کو پاکستان نے ایٹمی دھماکہ کر دیا اور پاکستان دنیا کی ساتویں اور اسلامی دنیا کی پہلی ایٹمی قوت بن گیا۔ پاکستان کے عوام آج بھی اس دن کو فخر سے اپنی قوت اور طاقت کے نشان کے طور پر مناتے ہیں لیکن دکھ اور افسوس کی بات یہ ہے کہ اب بھی ایسے لوگ اس ملک میں موجود ہیں جو اپنی ہی قوت پر تنقید کرتے ہیں اور جیسا کہ میں نے شروع میں لکھا کہ دفاعی بجٹ پر اعتراض کرتے ہیں اور خاص کر اپنے ایٹم بم کے اتنے خلاف ہیں کہ اتنا وہ بھارتی بم کیخلاف نہیں، اسی بھارتی بم کے جو خاص کر خدانخواستہ پاکستان کو نشانہ بنانے کیلئے بنایا گیا ہے۔ وہ یہ بھی بھول جاتے ہیں کہ وہ خود بھی پاکستان میںرہتے ہیں اور ان کے بزرگوں کی ہڈیاں بھی یہیں پر محفوظ ہیں لہٰذا انہیں کا خیال کر لیں۔ پاکستانی بم کیخلاف بولنے والوں میں بلوچ قوم پرست جماعتیں پیش پیش رہتی ہیں۔ مجھے اعتراض’’قوم پرست‘‘ کی اصطلاح پر بھی ہے قوم تو ایک پاکستانی قوم ہے اور یہ لوگ اسی قوم کیخلاف ہیں تو پھر کیسی قوم پرستی بہرحال اس جملہ معترضہ کو ذہن میں رکھئے اور یہ بھی سوچئے کہ آخر یہ چند بلوچ جو محب وطن بلوچوں کی اکثریت کو بھی بدنام کر رہے ہیں یہ پاکستانی بم کیخلاف کیوں ہیں۔ کیا اسلئے کہ ان کا آقا جس کے یہ تنخواہ دار ہیں اس کیخلاف ہے۔ یہ بلوچوں کا چھوٹا سا گروہ اس 28مئی کو جسے قوم یوم تکبیر کے طور پر مناتی ہے وہ اسے یوم سیاہ کہتی ہے کیا یہ ان کے سیاہ ارادوں، نیتوں اور شیطانی منصوبوں کی عکاسی نہیں ہے۔ یہ چند بلوچ سردار جو اپنی سرداری قائم رکھنے کیلئے اپنے عوام کی تعلیم اور ترقی کیخلاف ہیں ان کیلئے سہولتوں کے حصول کیلئے کبھی انہوں نے کوشش نہیں کی جبکہ خود یہ ولایت کے پڑھے اور یورپ کے بڑھے ہوئے ہوتے ہیں پھر اپنی محرومیوں کیلئے دوسروں کو مورد الزام ٹھہراتے ہیں اور ملک کیخلاف تحریکیں چلاتے ہیں اپنے ہی صوبے میں ہونے والی ترقی کو بموں سے اُڑاتے ہیں اپنے ہی لوگوں کو دھماکوں میں اُڑاتے ہیں ان سے یہی توقع کی جاسکتی ہے کہ وہ اپنے ملک کے فخر کی یوں تضحیک کریں اور وہ یہ کر رہے ہیں۔ آج یوم تکبیر کے حوالے سے لکھتے ہوئے ان تنظیموں اور گروہوں کا ذکر اسلئے ضروری تھا تاکہ عوام کو ان کے ایجنڈے کی خبر ہو لیکن بات وہی ہے ان چند لوگوں کے جو بھی خیالات ہوں قوم یہی سمجھتی ہے کہ اسی ایٹم بم نے خطے میں طاقت کا توازن برقرار رکھا ہوا ہے اور اسی توازن نے ہمیں محفوظ بھی رکھا ہوا ہے ورنہ تو ہمارا دشمن چالاک بھی ہے، شقی القلب بھی اور عاقبت نااندیش بھی اس سے ابھی بھی کسی انتہائی اقدام کی توقع کی جا سکتی تھی۔ پاکستان اگر اللہ تعالیٰ کے فضل سے آج محفوظ ہے تو اسی قوت کی وجہ سے جس کا نام پاکستانی ایٹم بم ہے اور یہی بم ہی ہے جس نے بھارت کو نکیل ڈالی ہوئی ہے اور اسے اپنی اوقات میں رکھا ہوا ہے۔

اداریہ