Daily Mashriq

 2018 کے انتخابات میں شہباز شریف کیلئے چیلنجز

2018 کے انتخابات میں شہباز شریف کیلئے چیلنجز

گزشتہ دنوں ایک نجی ٹی وی کے مطابق شہباز شریف کی صدارت میں پارلیمنٹ ہاؤس میں حکمران جماعت کے پارلیمانی پارٹی کا اجلاس ہوا جس میں 100 سے زائد اراکین اسمبلی موجود تھے۔ اجلاس کے دوران پارٹی قائد میاں نواز شریف کے حالیہ انٹرویو پر بعض اراکین پارلیمنٹ کی جانب سے تنقید کی گئی۔ اس موقع پر ایک رکن پارلیمنٹ نے شہباز شریف سے پوچھا کہ نواز شریف کا انٹرویو کس نے کرایا۔ اس پر پارٹی صدر شہباز شریف نے کہا کہ جس نے بھی کیا وہ سب سے بڑا دشمن ہے۔ اجلاس کے دوران کچھ اراکین قومی اسمبلی کے علاوہ تمام اراکین نے نواز شریف کے بیان کی مکمل تائید وحمایت کی۔ نواز شریف کی حما یت نہ کرنے والوں میں بعض نے ممبئی حملوں سے متعلق نواز شریف کا روزنامہ ڈان میں بیان کو غیر مناسب اقدام گردانا۔ کچھ اراکین قومی اسمبلی نے کہا کہ نواز شریف کے اس قسم کے بیان سے پارٹی کو نُقصان پہنچا اور اس بیان سے قبل ناموس رسالتﷺ کے قانون میں تبدیلی سے پاکستان مسلم لیگ اور نواز شریف کو اور پارٹی کو نُقصان پہنچا۔ کچھ اراکین کا کہنا تھا کہ نواز شریف کے بیان کے بعد الیکشن مہم میں بھی مشکلات کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ انہوں نے شہباز شریف سے کہا کہ وہ موجودہ حالات میں کس طرح مسلم لیگ کا دفاع کریں گے تو اس پر شہباز شریف نے کہا کہ پاکستان مسلم لیگ کی کارکردگی الیکشن مہم میں سب سے بڑا دفاع ہے۔ اس کا مطلب یہ بھی ہے کہ مسلم لیگ کے قومی اور صوبائی اسمبلی کے نامزد اُمیدوار مسلم لیگ کی اچھی کارکردگی کو عوام کے سامنے رکھیں گے۔ اگر ہم حالات اور واقعات کا جائزہ لیں تو مسلم لیگ کے دور میں کوئی خاطر خوا اقتصادی اور سماجی ترقی نہیں ہوئی۔ پاکستان کا قرضہ جو 2013 میں 13000ارب روپے تھا پاکستان مسلم لیگ ن کے دور میں 28000 ارب تک پہنچ گیا۔ حکومت جو پرائیویٹ کمپنیوں سے بجلی لیتی ہے اس کا قرضہ یا سرکلر ڈیٹ بھی ایک ہزار روپے تک پہنچ گیا جو آنے والی حکومت کیلئے مشکل پیدا کر دے گی۔ اگر ہم مزید غور کریں تو سردی میں گیس لوڈ شیڈنگ اور گرمیوں میں بجلی لوڈ شیڈنگ کا ایک سلسلہ شروع ہے اور دیہاتی علاقوں میں ہر گھنٹے بعد ایک گھنٹے کیلئے غیر اعلانیہ لوڈ شیڈنگ ہو رہی ہے۔ گزشتہ دنوں بونیر میں ایک اجتماع سے تقریر کرتے ہوئے نواز شریف نے اپنی حکومت کی کامیابیوں کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ موجودہ حکومت نے بہت ساری اقتصادی کامیابیوں کے علاوہ بجلی اور گیس لوڈ شیڈنگ کا خاتمہ کیا مگر سابق وزیراعظم کو کوئی یہ بھی بتائے کہ اس علاقے میں اب بھی 12 گھنٹے لوڈ شیڈنگ ہوتی ہے۔ اگر ہم مزید غور کریں تو پاکستان میں بجلی کا فی کس استعمال جنوبی ایشیاء کے غریب ممالک کے مقابلیمیں بھی کم تر یعنی فی کس 40واٹ ہے جو نہ ہونے کے برابر ہے۔ بدقسمتی یہ ہے کہ دنیا میں سستا تیل ہونے کے باوجود پاکستان میں ایک لیٹر پر40روپے ٹیکس لیا جاتا ہے۔ اس میں پاکستان کی کونسی اقتصادی اور معاشی ترقی ہے۔ موجودہ حکومت نے موٹر وے، پاکستان ٹیلویژن، ریڈیو پاکستان کی بلڈنگوں کو گروی رکھا ہوا ہے۔ نواز شریف کے موجودہ دور میں غربت میں کوئی کمی واقع نہیں ہوئی اور ملک میں اب بھی 13کروڑ لوگ غربت کی لکیر سے نیچے زندگی گزارنے پر مجبور ہیں۔ انسانی وسائل کی فہرست میں 184 ممالک میں پاکستان 147ویں نمبر پر ہے۔ صحت کے شعبہ میں تو ہم اب افغانستان سے بھی نیچے ہیں۔ ڈالر 118رو پے تک پہنچ چکا ہے جبکہ بھارت کی کرنسی میں ڈالر 60روپے کا ہے اور بنگلہ دیش کے حساب سے 82ٹکے کا ہے۔ اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ پاکستان کی اقتصادیات مسلسل گرتی جا رہی ہے۔ جس وقت 2013 میں پاکستان پیپلز پارٹی کی حکومت تھی تو اس وقت ایک ڈالر 95روپے کا تھا اور اب موجودہ حکومت کے پانچ سال میں ایک ڈالر118روپے کا ہو گیا۔ پانچ سالہ دور میں ڈالر اور روپے کی قیمت میں 23 روپے کا فرق آگیا۔ اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ ہماری معیشت اور اقتصادیات مسلسل کمزور ہوتی جا رہی ہے۔ مجھے سمجھ نہیں آتی کہ اب شہباز شریف اور ان کے قومی اور صوبائی اسمبلیوںکے امیدواران کس طرح عوام کو مسلم لیگ کی کامرانی اور کامیابی بتائیں گے۔ پاکستان مسلم لیگ کے صدر ممنون حسین حکومت کی کارکردگی بیان کرتے ہوئے خود کہتے ہیں کہ حکومت نے 18ہزار ارب روپے قرضہ لیا وہ کہاں استعمال کیا کیونکہ بقول ان کے اس دور میں کوئی بڑا اور میگا پراجیکٹ شروع نہیں ہوا۔ جہاں تک نواز شریف کے موجودہ اور پرانے انٹرویو کا تعلق ہے تو وہ تو متعلقہ روزنامہ کے دفتر میں ریکارڈنگ کیساتھ پڑا ہوگا، دفتر کے اعلیٰ اہلکاروں سے پوچھا جائے کہ یہ انٹرویو کس نے کیا تھا اور اس کی ریکارڈنگ کدھر ہے تو خودبخود پتہ چل جائے گا کہ اس انٹرویو کے پیچھے کوئی تھا یا نواز شریف نے خود کروایا تھا کیونکہ نواز شریف کوئی بچے نہیں جس کو زبردستی روزنامہ ڈان کے دفتر لے جا کر انٹرویو کیا گیا ہو۔

اداریہ