Daily Mashriq

ایسا آساں نہیں لہو رونا

ایسا آساں نہیں لہو رونا

ریڈیو پاکستان پشاور کی فلک بوس عمارت جس مقام پر ایستادہ ہے، کسی زمانے میں اس جگہ کو ’’جان کا باغیچہ‘‘ کہا جاتا تھا۔ گاف کلب، پولو گراؤنڈ اور ریس کورس سے منسلک یہ باغیچہ زندہ دلان پشاور کے ان تفریحی مقامات میں سے ایک تھا جن میں سخی کا چشمہ، شاہی باغ، وزیر باغ، رلے کا باغ، نذر باغ، گورکھ ڈبی، جیلانی کا چھپر، پنج تیرتھ وغیرہ شامل ہیں۔ یہاں بڑے ادبی معرکے ہوا کرتے تھے جن کا تذکرہ ہمیں اس موضوع سے دور کھینچ لے جائے گا جس پر ہم بات کرنا چاہتے ہیں۔ اسلامی جمہوریہ پاکستان کے وجود میں آنے کے بعد پشاور میں 1936میں قائم ہونے والا آل انڈیا ریڈیو پشاور کی بجائے ریڈیو پاکستان پشاور کہلانے لگا۔ جب ہم نے ہوش سنبھالا تو ابلاغ عامہ کا یہ ریڈیائی ادارہ پرل کانٹی نیٹل ہوٹل کے سامنے ایک محدود سے رقبہ کی عمارت میں قائم تھا، لیکن 1985ء میں اس کی شایان شان بلند وبالا عمارت ایک وسیع وعریض احاطہ میں تعمیر کی گئی۔ اس بلند وبالا عمارت کی بغل میں ایک گنبد نما عمارت کے اندر دائرے کی شکل میں ٹیکنکل سٹاف کے دفاتر اور ریڈیو پاکستان پشاور کے وہ سٹوڈیوز ہیں جہاں ریڈیائی پروگراموں کو نہ صرف ریکارڈ کرکے نشر کیا جاتا ہے بلکہ یہاں سے متعدد پروگرام براہ راست بھی نشر ہوتے ہیں ۔ چندے آفتاب چندے ماہتاب تھے وہ دانش سراپا لوگ جو اس ادارے کی وساطت سے ’’از دل خیزد وبر دل ریزد‘‘ کا جادو جگاتے ر ہتے۔ بقول شاد عظیم آبادی
ڈھونڈوگے اگر ملکوں ملکوں، ملنے کے نہیں نایاب ہیں ہم
جو یاد نہ آئے بھول کے پھر اے ہم نفسو وہ خواب ہیں ہم
اگر میں ریڈیو پاکستان پشاور سے وابستہ آواز کی دنیا کے ان باکمال لوگوں کے نام گنوانے بیٹھ جاؤں تو کالم کا کلیجہ چاک ہو جائے اور میں ان دمکتے ناموں کا احاطہ نہ کر پاؤں۔ مجھے یہاں اتنا عرض کرنا ہے کہ اس ادارے سے وابستہ ہر فرد کو ریاست کی آواز اور اس کا ترجمان سمجھا جاتا ہے اور اس وسیع وعریض چار دیواری کے اندر موجود اثاثہ جات کو قیمتی قومی ورثہ سمجھا جاتا ہے، جس کی حفاظت کیلئے چاک وچوبند سیکورٹی کا باوردی عملہ ہمہ وقت موجود رہتا ہے، جن کی باڈی لینگویج دیکھ کر اندازہ ہوتا ہے کہ وہ اس عمارت میں داخل ہونے والے کو کتنا احترام دیتے ہیں، ہر آنے والے کیلئے’’چشم ماروشن دل ماشاد‘‘ کا مظاہرہ کرتے ہوئے ریڈیو پاکستان پشاور کے بند دروازے کھولتے ہیں، ریڈیو پاکستان کے استقبالیہ پر موجود عملہ ضابطہ کی کارروائی کے بعد اگر مناسب سمجھتا ہے تو انہیں ریڈیو اسٹیشن کے احاطہ میں داخل ہونے کی اجازت دیتا ہے بصورت دیگر ہر آنے والے کو استقبالیہ میں روک لیا جاتا ہے۔ یہ سارے اقدام ریڈیو پاکستان پشاور کی حساسیت کے پیش نظر کئے جاتے ہیں، کسی زمانے میں ریڈیو پاکستان پشاور کے سٹوڈیو میں صرف ان لوگو ں کو مائیک سنبھال کر بولنے کی اجازت ملتی تھی جن کے بارے میں پولیس اور حساس ادارے مکمل چھان بین کر لیتے تھے، لیکن آج کل ایسا نہیں، آج کل ریڈیو پاکستان کے احاطہ میں داخل ہونے والوں کی تمام تر ذمہ داری یہاں متعین کئے جانیوالے سیکورٹی کے عملے کے سر تھوپ دی گئی ہے لیکن سیکورٹی کا یہ عملہ کن مشکلات سے گزر رہا ہے اس بات کا علم راقم السطور کو اس وقت ہوا جب وہ دہکتی دوپہر میں میلوں کی مسافت طے کرکے ریڈیو پاکستان پشاور سے اپنے برسہا برس کے عہد کو وفا کرنے پہنچا، ریڈیو پاکستان پشاور کے اسم بامسمہ سٹیشن ڈائریکٹر لائق زادہ لائق نے اپنی گاڑی روک کر ’’قولوللناس حسنا‘‘ کا مظاہرہ کرتے ہوئے راقم السطور کے کالم کی تعریف میں چند جملے ارشاد فرمائے، اس سے پہلے کہ میں ان کی یہ بات سن کر بغیر پروں کے اُڑنے لگتا انہوں نے میری توجہ سیکورٹی کے عملے کی جانب مبذول کراتے ہوئے کہا کہ یہ لوگ تین مہینوں سے بغیر تنخواہ کے خدمات انجام دے رہے ہیں، اگر ممکن ہو تو ان کی اس حالت زار پر کچھ لکھو، سٹیشن ڈائریکٹر اتنا کہہ کر اپنے رہوار کو سٹارٹ کرکے عمارت کے وسیع وعریض احاطہ کا صدر دروازہ پار کر گئے، جس کے فوراً بعد سیکورٹی کے عملے نے مجھے یوں گھیرے میں لے لیا جیسے میں نے ان کی تنخواہ بند کی ہو، کیوں نہیں ملی ریڈیو پاکستان کی سیکورٹی کے باوردی عملہ کو ان کا رزق حلال، کچھ معلوم نہیں، کب ملے گی، اس بات کا بھی علم نہیں رکھتا، لیکن جب ملے گی کیسے جئیں گے تب تک ان کی تنخواہ کے بھروسے پر جینے والے۔ میں نہیں بھلا سکتا میں ان کے نحیف ونزار، روزے دار، مگر ڈبڈبائی آنکھوں والے روہانسے چہروں کو، جانے کب اُترے گا رزق کا فرشتہ ان کی تنخواہ لیکر، یہ ہر آنے والے کا استقبال کرنے کی رسم ادا کر رہے ہیں لیکن پتھرائی ہوئی آنکھوں سے کسی چارہ گر غمگسار کا رستہ تکتے تکتے شام ڈھلے خالی ہاتھ گھروں کو لوٹ جاتے ہیں۔ نہ ان کے ہاتھ میں افطاری کیلئے سموسوں کا لفافہ ہوتا ہے اور نہ ہی ٹھنڈا شربت بنانے کیلئے برف کی سل، کب ملے گی ان کو ان کی تنخواہ؟ وہ ہر آنے جانے والوں سے ڈوبتے کو تنکے کا سہارا کے مصداق پوچھتے ہوں گے اور شاید ہر کوئی میری طرح سوچتا ہوگا کہ کیا میں نے روکی ہے ان کی تنخواہ، ہاں تونے روکی ہے کہ دولفظ لکھنے کی توفیق نہیں ہوئی تجھ کو، ہماری اس سوچ کے جواب میں ہمارے اندر سے آواز اُبھرتی ہے، کاش ہماری یہ آواز، آواز صحرا ثابت ہونے کی بجائے درانصاف پر دستک کا باعث بھی بن جائے
وائے گر میرا ترا انصاف محشر میں نہ ہو
اب تلک تو یہ توقع ہے وہاں ہو جائے گا

اداریہ