Daily Mashriq

قومی قیادت حالات معمول پر لانے میں کردار ادا کرے

قومی قیادت حالات معمول پر لانے میں کردار ادا کرے

شمالی وزیرستان میں اس وقت کیا صورتحال ہے اور کل کے افسوسناک واقع کے وقت اور بعد میں کیا ہوا اس بارے مصدقہ اطلاعات کی تشنگی ہے۔ آئی ایس پی آر کے مطابق مشتعل ہجوم نے ایک گرفتار شدہ شخص کو چھڑانے کیلئے چیک پوسٹ پر حملہ کیا۔ پی ٹی ایم کا موقف ہے کہ ان کے حامی دھرنے میں شرکت کیلئے جا رہے تھے۔ واقعے کے بارے میں مخمصہ جلد دور ہونا اس لئے مشکل نظر آتا ہے کہ اس ضمن میں صوبائی اور مرکزی حکومتوں کی جانب سے کوئی واضح بات سامنے نہیں لائی جارہی ہے۔ خیبر پختونخوا کی صوبائی حکومت نے اپنے ردعمل میں کہا ہے کہ چند لوگ قبائلی علاقوں میں بحالی اور ترقی کا عمل سبوتاژ کرنا چاہتے ہیں۔ وزیرِ اطلاعات خیبر پختونخوا شوکت یوسفزئی نے رکن قومی اسمبلی محسن داوڑ اور علی وزیر پر الزام لگاتے ہوئے کہا کہ وہ پشتون عوام کو حقوق کے نام پر ریاستی اداروں کیخلاف اکسا رہے ہیں۔ وزیراعظم کی مشیر اطلاعات نے بھی کوئی واضح موقف نہیں دیا۔ پاک فوج کے شعبۂ تعلقات عامہ کے سربراہ میجر جنرل آصف غفور نے بھی ٹویٹر پر پیغام میں کہا کہ پی ٹی ایم کے حامیوں کو خیال رکھنے کی ضرورت ہے کیونکہ صرف گنتی کے چند لوگ انہیں ریاستی اداروں کیخلاف اپنے مذموم مقاصد کیلئے استعمال کر رہے ہیں۔ صورتحال نازک اور پیچیدہ ہے لیکن یہ بات بہرحال مستند اور تصدیق شدہ ہے کہ شمالی وزیرستان کے ایک چیک پوسٹ پر افسوسناک واقعہ پیش آیا ہے جس میں جانی نقصان اور لوگ زخمی ہوئے ہیں۔ یہ واقعہ غلط فہمی کا نتیجہ تھا، جلدبازی کی گئی، جذباتیت کا مظاہرہ کیا گیا یا کسی منصوبہ بندی کے تحت کشیدگی پیدا کی گئی، یہ پی ٹی ایم پر را سے فنڈز لینے کے الزام کا ردعمل تھا، سوشل میڈیا پر اس کشیدگی کا کسی حد تک اندازہ لگایا جا رہا تھا جب اسلام آباد کے ایک واقعے پر احتجاج کے موقع پر بھی پاک فوج کیخلاف زبان درازی کی گئی حالانکہ اس واقع سے سرے سے اس کا کوئی تعلق نہیں تھا جو لاوا ایک عرصے سے پک رہا تھا وہ لاوا اب پک کر دھماکے سے باہر آچکا، ایسا ہونا اس لئے غیرمتوقع نہیں تھا کہ حالات سے واضح طور پر اس کا اندازہ ہو رہا تھا کہ حالات تصادم کی طرف جا رہے ہیں۔ جن کو روکنے کی ذمہ داری حکومت کی تھی حکومت حالات کو اس نہج پر لانے ہی کی سعی کرتی کہ تصادم کی نوبت نہ آتی مگر ایسا نہ ہوسکا۔ خیبر پختونخوا حکومت سے پی ٹی ایم کے مذاکرات کوشش کے باوجود نہ ہوسکے جبکہ سینیٹ کی کمیٹی میں ان کو پورا موقع دیا گیا کہ وہ اپنا نقطۂ نظر پیش کریں لیکن یہ سب لاحاصل ٹھہرے وگرنہ اتوار کے روز کا افسوسناک واقع پیش نہ آتا۔ اس کے بعد بھی وفاقی اور صوبائی حکومت کی طرف سے کوئی ایسی پیشرفت نہیں کہ حکومت اپنے طور پر یا پھر حزب اختلاف کی سیاسی جماعتوں کو لیکر اس آگ پر پانی ڈالنے کی سعی کرے۔ اسے بدقسمتی ہی قرار دیا جائے گا کہ جب بھی ملک میں سرمایہ کاری کے مواقع امکانات فیصلوں اور پیشرفت پر مشاورت اور جائزے کیلئے کسی بڑے ملک کے سربراہی سطح کے عہدیدار پاکستان آتے ہیں بجائے اس کے کہ من حیث القوم ہم ان کا اتحاد ویگانگت کیساتھ خیرمقدم کریں ہم آپس میں الجھ کر خود اپنے ہی ملک کے حوالے سے مفنی تاثرات کا باعث بنے ہیں۔ سی پیک جیسے منصوبے کو حتمی شکل دینے کیلئے چین کے صدر کی آمد پر اسلام آباد میں دھرنا تھا، اب چین کے نائب صدر سی پیک کے حوالے سے اہم دورے پر اسلام آباد آئے ہیں، ساتھ ہی ازبکستان کے نائب وزیراعظم کی آمد ہے تو شمالی وزیرستان میں افسوسناک واقعہ ہوا ہے اس طرح کے حالات اور اس طرح کی صورتحال میں پاکستان میں سرمایہ کاری کیسے آئے گی اور سرمایہ کاری کرنے والے ممالک کس طرح سے یکسوئی اور اعتماد کیساتھ معاہدے کریں گے۔ یہ کوئی راز کی بات نہیں کہ بین الاقوامی سرمایہ کاری کیلئے امن وامان اور سازگار فضا بے حد ضروری ہے۔ بدقسمتی سے ہم جب خود ہی دست وگریباں ہوں اور عوام اٹھ کر ملکی سلامتی اور دفاع کے ذمہ دار ادارے سے الجھ پڑیں تو ہمارے دوست ممالک اس کا کیا تاثر لیں گے۔ یہ درست ہے کہ یہ مٹھی بھر عناصر ہیں اس تنظیم کے کارکنوں سے عسکری ترجمان نے خود بھی ہمدردی کا اظہار کیا ہے مگر معدودے چند سہی جس قسم کی صورتحال شمالی وزیرستان میں پیدا کی گئی ہے اگر اسے طالبان کے دور کے حالات سے تشبیہہ دی جاسکتی ہے جو ملک وقوم اور خاص طور پرقبائلی عوام اور بالخصوص شمالی وزیرستان کے عوام کیلئے سخت مشکل اور پریشانی کا باعث ہے۔ قبائلی اضلاع میں انتخابات کا انعقاد اور ان کو قومی دھارے میں اسی وقت ہی شامل کیا جا سکتا ہے جب یہاں کے عوام سکون اور اعتماد کی فضا میں اپنے نمائندوں کا انتخاب کرسکیں اور کوئی جنونی ہمدردی کی فضا پیدا کر کے اپنا منجن نہ بیچ سکے۔ شمالی وزیرستان کے واقع کے بعد کے حالات کو سدھارنے کیلئے حکومت اور جملہ سیاسی عمائدین کو کردار ادا کرنے کیلئے آگے آنے کی ضرورت ہے یہ ہم سب کی ذمہ داری بنتی ہے کہ اس آگ پر مٹی ڈالیں اور جتنا جلد ہوسکے حالات کو معمول پر لایا جا سکے۔

متعلقہ خبریں