Daily Mashriq

آن لائن سروسز اور مکانات پر ٹیکس کی کمی احسن اقدام ہوگا

آن لائن سروسز اور مکانات پر ٹیکس کی کمی احسن اقدام ہوگا

صوبائی حکومت جہاں صوبے کی آمدن میں اضافے کیلئے مختلف اقدامات اور تجاویز کا جائزہ لے رہی ہے وہاںآن لائن سروس ٹیکس میں سترہ اعشاریہ پانچ فیصد کمی کا اعلان اور دس مرلہ وپانچ مرلہ مکانات پر ٹیکس میں رعایت پر اتفاق رائے کا عندیہ دیا گیا ہے۔آن لائن سروس میں سب سے نمایاں کردار فری لانسروں کا ہے ایک اندازے کے مطابق اس وقت دس گیارہ لاکھ کے قریب یا اس سے زائد پاکستانی نوجوان بین الاقوامی مارکیٹ سے کام اٹھا کر نہ صرف ملک میں ملازمتوں کے مواقع کو اپنے ہموطن نوجوانوں کیلئے خالی چھوڑ رہے ہیں بلکہ اس سے بھی بڑھ کر وہ ملک کیلئے ماہوار نہیں بلکہ ہفتہ وار بنیادوں پر کثیر زرمبادلہ کما رہے ہیں۔ ہم سمجھتے ہیں کہ آن لائن سروس پر ٹیکس کی رعایت اور بنکنگ میں سب سے زیادہ رعایت اور آسانیاں ان نوجوانوں کو دینے پر توجہ ہونی چاہئے تاکہ اپنے بل بوتے پر محنت اور روزگار حاصل کرنے والے ان جواہرقابل کی حوصلہ افزائی ہو سکے، اس کے بعد آن لائن مارکیٹنگ، شاپنگ اور ٹرانسپورٹ کے شعبے کو مراعات دیکر اس کی حوصلہ افزائی ہونی چاہئے۔ حکومت کا دس مرلہ اور پانچ مرلہ کے مکانات کو ٹیکس میں رعایت دینے کی سوچ اچھی ضرور ہے لیکن اس سے بہتر سوچ کا مظاہرہ ایم ایم اے دور حکومت میں پانچ مرلہ مکانات کو ٹیکس سے مستشنیٰ قرار دیکر کیا گیا تھا۔ پانچ مرلہ کے مکان میں رہائش پذیر افراد معاشرے کا وہ طبقہ ہے جو بمشکل ہی زندگی کی گاڑی کھینچ پاتے ہیں اس لئے ان کو پہلے کی طرح ٹیکس سے مستشنیٰ قرار دیا جائے جبکہ دس مرلہ مکانات پر حکومت اگر مناسب سمجھتی ہے تو رعایت دے تو یہ بھی عوام کے ایک بڑے طبقے کے فائدے کا باعث ہوگا۔

میرٹ پر بھرتیوں کی شرط پر احسن قانون

محکمہ صحت میں بھرتیوں کیلئے پبلک سروس کمیشن کی بجائے گریڈ سولہ سے لیکر گریڈ بیس تک کی بھرتیاں اضلاع کو براہ راست کرنے کا اختیار دینے سے پبلک سروس کمیشن پر بوجھ میں کمی ضرور آئے گی لیکن ضلعی سطح پر بھرتیاں میرٹ پر ہونا کسی صورت یقینی ہونا ممکن نہیں۔ ہمارے نیوز رپورٹر کے مطابق نئے قانون یعنی ڈسٹرکٹ اینڈ ریجنل ہیلتھ اتھارٹیز کی منظوری کے بعد محکمہ صحت پبلک سروس کمیشن کے دائرہ اختیار سے مکمل طور پر آزاد اور خودمختار ہوگا۔ اتھارٹیز ہی اپنی ضرورت کے مطابق بھرتی کرسکیں گی جس کیلئے اشتہار دینے کے بعد بورڈ ممبران ہی بھرتی کی منظوری دینے کے مجاز ہوں گے۔اس قسم کی بھرتیوںکی مخالفت مقصود نہیں لیکن جہاں این ٹی ایس کے ذریعے بھرتیوں یہاں تک کہ پبلک سروس کمیشن کی بھرتیوں پر شکوک وشبہات کا اظہار ہو رہا ہو اور بعض اعتراضات ٹھوس اور سنجیدہ بھی ہوں وہاں اس قسم کے اختیار کا غلط اور خلاف میرٹ استعمال کے خدشات بے بنیاد نہیں۔ حکومت ایسا شفاف طریقۂ کار وضع کرے جو فول پروف ہوں اور بھرتیاں میرٹ اور خالصتاً اہلیت کی بنیاد پر ہوجائیں تو یہ قانون نافع ہوگا جس کے تحت جو عملہ جس ضلع میں بھرتی ہوگا اسی ضلع میں خدمات کی انجام دہی کا بھی پابند ہوگا اور اضلاع میں ماہر ڈاکٹروںکی ہر وقت خالی آسامیوں کا مسئلہ بھی باقی نہیں رہے گا اور نہ ہی تبادلوں کی دوڑ لگی رہے گی۔

نجی سکولوں کی ہٹ دھرمی کا نوٹس لیا جائے

پشاور کے بیشتر نجی سکولوںکی جانب سے طلبہ سے گرمیوں کی چھٹیوں کی فیسوں کی وصولی کا غیرقانونی سلسلے کا فوری نوٹس لینے کی ضرورت ہے۔ واضح رہے کہ نجی سکولوں کی ریگولیٹری اتھارٹی نے نجی سکولوں کو چھٹیوں کی فیس وصول کرنے سے منع کیا ہے لیکن اس کے باوجود پشاور شہر کے بیشتر نجی سکول کی انتظامیہ کی جانب سے چھٹیوں کی فیس کے سلسلے میں طلباء وطالبات کو والدین سے فیسیں لیکر آنے پر مجبور کیا جارہا ہے جس پر والدین کی پریشانی فطری امر ہے۔نجی سکول عدالت کے فیصلے کی جو غلط تشریح کر ر ہے ہیں اس حوالے سے بھی غلط فہمی کا ازالہ اور والدین کو صحیح صورتحال سے آگاہ کرنا ریگولیٹری اتھارٹی کی ذمہ داری ہے۔ ریگولیٹری اتھارٹی کو نجی سکولوں کے دباؤ میں آنے کی بجائے والدین اور طلبہ کے مفاد کے تحفظ کی ذمہ داری نبھانی چاہئے۔ نجی سکولز ریگولیٹری اتھارٹی اپنے قیام سے لیکر تا ایندم کوئی ایسی کارروائی نہیں کر سکی ہے جس سے یہ کہا جا سکے کہ اس کا قیام طلبہ اور والدین کے حقوق کے تحفظ اور قوانین پر عملدرآمد میں ممد ومعاون ثابت ہوا ہے۔ نجی سکولز ریگولیٹری اتھارٹی کو فعال کردار ادا کرتے ہوئے نجی سکولوں کو قانون کے دائرے میں لانے اور فیسوں سے متعلق قوانین پر عملدرآمد یقینی بنانے میں مزید تاخیر کا مظاہرہ نہیں کرنا چاہئے۔ توقع کی جانی چاہئے کہ نجی سکولز ریگولیٹر ی اتھارٹی حرکت میں آئے گی اور خلاف قانون فیسوں کی وصولی کا نوٹس لے گی اور طلبہ اور ان کے والدین کو ہراساں کرنے والوں کیخلاف سخت اقدامات یقینی بنانے کی ذمہ داری پوری کرے گی۔

متعلقہ خبریں