Daily Mashriq

مشرقیات

مشرقیات

حضرت مالک بن فضالہؒ حضرت حسنؒ سے روایت کرتے ہیں: ’’سابقہ امتوں میں ’’عقیب‘‘ نامی ایک بزرگ لوگوں سے الگ تھلگ ایک پہاڑی پر خدا کی عبادت کیا کرتے تھے۔ ایک مرتبہ انہیں خبر ملی کہ قریبی شہر میں ایک ظالم وجابر بادشاہ ہے جو لوگوں پر بہت ظلم کرتا ہے اور بلاوجہ ان کے ہاتھ پاؤں اور ناک‘ کان وغیرہ کاٹ ڈالتا ہے۔ جب آپ ؒ کو یہ اطلاع ملی تو آپ کے اندر نیکی کی دعوت دینے اور برائی سے منع کرنے کا جذبہ شدت سے ابھرا اور اپنے آپ سے کہنے لگے: ’’مجھ پر یہ لازم ہے کہ میں اس ظالم کو خدا سے ڈرنے کی تلقین کروں اور اسے عذاب الٰہی سے ڈراؤں‘‘ چنانچہ آپ اس جذبہ کے تحت پہاڑ سے اترے اور اس ظالم حکمران کے پاس پہنچ کر اس سے بڑے ہی جرأت مندانہ انداز میں فرمایا: ’’تو خدا سے ڈر‘‘ وہ بدبخت وظالم بادشاہ آگ بگولا ہوگیا اور بڑے متکبرانہ انداز میں گستاخانہ جملے بکتے ہوئے اس بزرگ سے کہنے لگا: ’’تیرے جیسا حقیر شخص مجھے خدا سے ڈرنے کا حکم دے رہا ہے‘ میں تجھے اس گستاخی کی ضرور سزا دوں گا اور تجھے ایسی سزا دوں گا کہ آج تک دنیا میں ایسی سزا کسی کو نہیں دی گئی ہوگی‘‘

پھر اس ظالم نے حکم دیا کہ اس کے پاؤں سے اس کی کھال اتارنا شروع کرو اور سر تک اس کی کھال اتار لو تاکہ یہ دردناک عذاب میں مبتلا ہو اور اس کی روح تڑپ تڑپ کر تن سے جدا ہو۔ حکم پاتے ہی جلاد آگے بڑھے۔ اس عظیم مبلغ کو پکڑ کر زمین پر لٹایا اور اس کے قدموں سے کھال اتارنا شروع کردی۔ وہ صبر وشکر کا پیکر بنے رہے‘ زبان سے اف تک نہ کہا لیکن جب ان کی کھال پیٹ تک اتار لی گئی تو درد کی شدت سے ان کے منہ سے درد بھری آہ نکلی۔ انہیں فوراً حکم الٰہی پہنچا: ’’اے عقیب! صبر سے کام لو‘ ہم تجھے غم وحزن کے گھر سے نکال کر راحت وآرام کے گھر (یعنی جنت) میں داخل کریں گے اور اس تنگ وتاریک دنیا سے نکال کر وسیع وعریض جنت میں داخل کریں گے‘‘ حکم الٰہی پا کر وہ عظیم مبلغ خاموش ہوگئے اور اس دردناک تکلیف کو صبر سے برداشت کرتے رہے۔

جب ظالموں نے ان کی کھال چہرے تک اتار لی تو شدت درد سے دوبارہ ان کے منہ سے بے اختیار درد بھری آہ نکلی۔ انہیں پھر حکم پہنچا: ’’اے عقیب! تیری اس مصیبت پر دنیا اور آسمان کی مخلوق رو رہی ہے‘ تیری اس تکلیف نے فرشتوں کی توجہ تمہاری طرف کرا دی ہے۔ اگر تو نے تیسری مرتبہ بھی ایسی ہی پُردرد آہ بھری تو میں اس ظالم قوم پر دردناک عذاب بھیجوں گا اور انہیں شدید عذاب کا مزا چکھاؤں گا۔ یہ حکم پاکر وہ خاموش ہوگئے اور پھر بالکل بھی منہ سے آواز نہ نکالی۔ اس خوف سے کہ کہیں میری آہ وزاری سے خدا میری اس قوم کو عذاب میں مبتلا نہ کردے۔ میں نہیں چاہتا کہ میری وجہ سے کوئی عذاب میں مبتلا ہو۔ بالآخر اس مرد مجاہد کی تمام کھال اتار لی گئی لیکن اس نے دوبارہ سسکی تک نہ لی اور اپنی جان جان آفرین کے سپرد کردی۔

متعلقہ خبریں